سابق سینیٹر مشتاق احمد خان کو اسرائیلی قید سے رہا کردیا گیا۔

نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے سابق سینیٹر مشتاق احمد خان کی رہائی کی باضابطہ تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ وہ اب عمان میں پاکستان کے سفارت خانے کے ساتھ محفوظ ہیں۔

وزیر خارجہ نے تصدیق کی کہ سابق سینیٹر صحت مند ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ سفارت خانہ جماعت اسلامی کے رہنما کی پاکستان واپسی میں ان کی خواہش اور سہولت کے مطابق معاونت کے لیے تیار ہے۔

ڈپٹی وزیراعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے حکومت کی جانب سے تمام دوست ممالک کا بھی شکریہ ادا کیا جنہوں نے رہائی کے عمل میں فعال کردار ادا کیا اور معاونت فراہم کی۔

مشتاق احمد خان کو اسرائیلی فورسز نے غزہ کے لیے امداد لے جانے والے بحری قافلے گلوبل صمود فلوٹیلا سے دیگر افراد کے ہمراہ گرفتار کیا تھا۔

اسرائیل نے 450 سے زائد کارکنان کو حراست میں لیا تھا جن میں سے زیادہ تر کو غزہ پر اسرائیلی محاصرے کو توڑنے کی کوشش کرنے والی فلوٹیلا میں شرکت کے بعد ملک بدر کردیا گیا۔ اسرائیلی حراست سے واپس آنے والے کارکنان نے بتایا کہ حراستی مراکز میں بدسلوکی کی گئی۔

کچھ پاکستانی شہری، جن میں سابق پاکستانی پارلیمنٹیرین بھی شامل ہیں، اسرائیلی فوج کی غیر قانونی حراست میں تھے۔

ایک دن قبل وزارت خارجہ نے امید ظاہر کی تھی کہ پاکستانی حکام اردنی حکومت کی مدد سے چند روز میں سابق جماعت اسلامی سینیٹر کو اسرائیلی حراست سے رہا کروانے میں کامیاب ہوجائیں گے۔

یہ پیش رفت اس وقت سامنے آئی جب چند روز قبل وزیراعظم شہباز شریف نے اسرائیلی فوج کی حراست میں موجود پاکستانیوں کی واپسی کا مطالبہ کیا تھا اور سابق سینٹر مشتاق احمد سمیت دیگر افراد کی تعریف بھی کی۔

ہم پر کتے چھوڑے گئے، مشتاق احمد

رہائی کے بعد سابق سینیٹر مشتاق احمد خان نے ویڈیو پیغام میں انکشاف کیا کہ اسرائیلی فورسز نے قید کے دوران ان پر بدترین تشدد کیا۔

ان کا کہنا تھا کہ ہم پر کتے چھوڑے گئے، پیروں میں بیڑیاں ڈالی گئیں اور جسمانی و ذہنی اذیت دی گئی۔

انہوں نے کہا کہ وہ 5 سے 6 دن اسرائیلی جیل میں قید رہے جس کے بعد 150 ساتھیوں سمیت انہیں رہا کردیا گیا۔ مشتاق احمد خان کا کہنا تھا کہ وہ اس وقت اردن میں موجود ہیں اور جلد پاکستان واپسی کا ارادہ رکھتے ہیں۔

انہوں نے اعلان کیا کہ ہم اسرائیل کے خاتمے اور مسجد اقصیٰ کی آزادی تک اپنی جدوجہد جاری رکھیں گے۔