سعودی عرب، قطر، متحدہ عرب امارات، اردن، انڈونیشیا، ترکی اور مصر کے وزرائے خارجہ نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے پیش کردہ غزہ جنگ کے خاتمے، تمام یرغمالیوں کی رہائی اور امن مذاکرات کے آغاز سے متعلق منصوبے پر حماس کے مثبت ردعمل کا خیرمقدم کیا ہے۔

وزارتِ خارجہ کے مطابق اتوار کے روز اسلام آباد میں جاری مشترکہ اعلامیے میں وزرائے خارجہ نے صدر ٹرمپ کی جانب سے اسرائیل کو فوری طور پر بمباری بند کرنے اور قیدیوں کے تبادلے کے معاہدے پر عمل درآمد شروع کرنے کی اپیل کو بھی سراہا۔

اعلامیے میں کہا گیا کہ صدر ٹرمپ کی یہ کوشش خطے میں پائیدار امن کے لیے ایک حقیقی موقع فراہم کرتی ہے۔ وزرائے خارجہ نے ان اقدامات کو جنگ بندی کے قیام، انسانی بحران کے خاتمے اور غزہ میں امن بحالی کی سمت ایک اہم پیش رفت قرار دیا۔

بیان کے مطابق حماس نے غزہ کی انتظامیہ کو غیر جانبدار ٹیکنوکریٹس پر مشتمل ایک عبوری فلسطینی انتظامی کمیٹی کے سپرد کرنے پر آمادگی ظاہر کی ہے، جسے وزرائے خارجہ نے ایک مثبت قدم قرار دیا۔

وزرائے خارجہ نے زور دیا کہ منصوبے کے تمام پہلوؤں پر عمل درآمد کے لیے فوری مذاکرات کا آغاز کیا جائے۔ انہوں نے اپنے مشترکہ عزم کا اعادہ کرتے ہوئے کہا کہ عالمی برادری کو غیر مشروط انسانی امداد کی فراہمی، فلسطینیوں کی جبری بے دخلی کی روک تھام اور شہریوں کے تحفظ کو یقینی بنانے کے لیے متحد ہوکر کام کرنا چاہیے۔

اعلامیے میں مزید کہا گیا کہ یرغمالیوں کی رہائی، فلسطینی اتھارٹی کے زیرِ انتظام غزہ اور مغربی کنارے میں حکومتی رٹ کی بحالی اور ایک جامع سیکیورٹی نظام کا قیام ناگزیر ہے جو تمام فریقوں کی سلامتی کو یقینی بنائے۔

وزرائے خارجہ نے کہا کہ ان اقدامات سے نہ صرف اسرائیلی انخلا کی راہ ہموار ہوگی بلکہ ایک منصفانہ اور دیرپا امن کے لیے دو ریاستی حل کی بنیاد بھی مضبوط ہوگی۔