گزشتہ چار دہائیوں کے دوران نیولبرل یلغار کے تحت پبلک سیکٹر(عوامی شعبے) کا کردار بتدریج محدود ہوتا گیا، اور اس کے ساتھ اس کی استعداد بھی متاثر ہوئی، خصوصاً جب اس نے اپنے متعدد کام نجی شعبے، مشاورتی اداروں اور انفرادی ماہرین کو سونپ دیے۔ اس عمل میں پبلک سیکٹر کو محض نجی شعبے کا معاون تصور کیا جانے لگا، جس کا دائرہ کار صرف منڈی کی ناکامیوں کی اصلاح تک محدود ہو گیا، نہ کہ وہ خود منڈیوں کی تشکیل میں شراکت دار بنتا یا حکمرانی میں با معنی، فعال اور مشن پر مبنی طرزِ حکمرانی کے ذریعے پیداواری و ترسیلی استعداد کو بہتر بناتا۔ یوں معیشت میں لین دین کے اخراجات کم کر کے اور مجموعی طور پر عوامی مفاد کے تحفظ کی جانب پیش رفت کی بجائے، اس کا کردار پس منظر میں چلا گیا۔
نیز یہ طرزِ حکمرانی وسیع تر معنوں میں، بالخصوص ماحولیاتی، وبائی امراض اور انتخابی شعبوں میں، اختیار نہیں کی گئی، جس کی بنیادی وجوہات نیولبرل یلغار اور وجودی خطرات کے تیزی سے بڑھتے ہوئے خدشات ہیں۔ ان عوامل کے نتیجے میں عدم مساوات میں اضافہ ہوا ہے، عوامی رائے کا پالیسی سازی پر اثر کمزور پڑا ہے، اور اس کے برعکس دولت مند طبقے کے مفادات کا اثر و رسوخ بڑھ گیا ہے۔
ریاست کے محدود کردار پر مبنی اس نیولبرل منصوبے کو واپس لینے کے حوالے سے، جسے عالمی سطح پر حکومتی استعداد میں واضح دراڑوں کے تناظر میں ایک ناقص پالیسی کے طور پر بھی بے نقاب کیا جا چکا ہے، خاص طور پر اس حوالے سے کہ حکومتیں نہ صرف بقاء کو لاحق خطرات سے نمٹنے کے لیے موثر کردار ادا کرنے میں ناکام رہی ہیں بلکہ ماحولیاتی تبدیلیوں سے پیدا شدہ بحرانوں یا کووِڈ جیسی وباؤں سے نمٹنے کی تیاری میں بھی کمزور ثابت ہوئیں، پروجیکٹ سنڈیکیٹ میں شائع شدہ ایک مضمون “ ریسٹورننگ پبلک سیکٹر کیپیسٹی ویئر اٹ کاؤنٹس ( جہاں ضرورت ہو وہاں عوامی شعبے کی استعداد بحال کرنا)“، جس کی معاون مصنف بین الاقوامی شہرت یافتہ ماہرِ اقتصادیات ماریانا مازوکاٹو ہیں، میں پبلک سیکٹر کے کردار کو بڑھانے کی ضرورت پر زور دیا گیا ہے۔
مضمون میں نشان دہی کی گئی ہے، مثال کے طور پر یہ کہ: ”طویل عرصے کی مالی غفلت کے بعد، دنیا بھر کی حکومتیں بڑھتی ہوئی عوامی ضروریات کا ساتھ دینے میں دشواری کا شکار ہیں۔ اس کے نتائج اب واضح طور پر نظر آ رہے ہیں، کیونکہ مالی وسائل کی کمی اور تیاری کے فقدان کے باعث عوامی ادارے ہر بحران کے وقت لڑکھڑا جاتے ہیں۔ اصل مسئلہ حکومت کو ’مختصر‘ یا محدود کرنا نہیں، بلکہ اسے زیادہ باصلاحیت، حکمتِ عملی پر مبنی، نتائج پر مبنی اور ہمارے عہد کے بڑے مسائل کے حل میں ایک موثر شراکت دار بنانا ہے؛ جیسے کہ سب کے لیے موزوں رہائش کی فراہمی، ماحولیاتی تبدیلیوں کے خلاف موثر مزاحمت اور اس بات کو یقینی بنانا کہ ٹیکنالوجی صرف چند افراد کو امیر بنانے کے بجائے مجموعی زندگی کو بہتر بنائے۔ … آج کے باہم جُڑے بحرانوں کے تناظر میں ایک نئی طرزِ عوامی معیشت کی ضرورت ہے، جو ریاست کو ایک فعال انداز میں منڈی کی تشکیل، ترتیب یا تعمیر میں حصہ لینے والے کے طور پر دیکھے، جو جدت، عوامی خدمات اور سماجی تکنیکی نظامات کو شراکت داری سے تشکیل دے تاکہ ایک جامع، پائیدار اور لچک دار مستقبل ممکن بنایا جا سکے۔“
نیولبرل ازم کا ایک اور اثر یہ بھی رہا ہے کہ چونکہ اس کی بنیاد بڑی حد تک نیوکلاسیکی اور مانیٹرسٹ معاشی نظریات پر ہے، اس لیے اس میں افراطِ زر کے تعیّن میں کل طلب (ایگریگیٹ ڈیمانڈ ) کے کردار کو حد سے زیادہ اہمیت دی گئی۔ اس کا نتیجہ یہ نکلا کہ مہنگائی پر قابو پانے کے لیے سخت مالیاتی اور بجٹ میں کفایت شعاری کی پالیسیاں اختیار کی گئیں۔
یہ نکتہ قابلِ توجہ ہے کہ روایتی طور پر مہنگائی کا تعلق صرف طلب سے نہیں بلکہ طلب اور رسد دونوں پہلوؤں سے ہوتا ہے، برخلاف اس تصور کے جو مانیٹرازم کے تحت عام ہوا کہ مہنگائی محض ایک مالیاتی مظہر ہے۔ خاص طور پر جب حالیہ برسوں میں بقاء کو لاحق خطرات نے جھٹکوں کی شدت اور تسلسل کو بڑھا دیا ہے، جس سے رسد کا پورا ڈھانچہ متاثر ہوا، جیسا کہ کووِڈ وبا کے بعد دیکھنے میں آیا۔
چونکہ مہنگائی کو (غلط طور پر) محض مالیاتی مسئلہ سمجھا گیا، اس لیے چاہے وہ آئی ایم ایف کے پروگراموں کے تحت ہو یا ’شکاگو بوائز‘ طرز کے مقامی پالیسی سازوں کے زیرِ اثر، جو گزشتہ چار دہائیوں کی نیولبرل یلغار کے دوران وافر تعداد میں سامنے آئے اور جن کے خیالات کو دنیا بھر کی بڑی جامعات نے ’مستند معاشیات‘ کے طور پر اپنایا، اور جن کی نقالی مقامی تعلیمی اداروں نے بھی کی، اس سوچ نے پبلک سیکٹر کے کردار کو محدود کر دیا۔
اس پالیسی طرزِ فکر کے تحت حکومتوں نے ادارہ جاتی اصلاحات (یعنی طرزِ حکمرانی اور مراعاتی ڈھانچے کی بہتری) پر مناسب توجہ دینے کے بجائے پالیسی ریٹ جیسے آلات پر انحصار کیا تاکہ مہنگائی کو قابو میں لایا جا سکے۔
یہ طریقہ نہ صرف مہنگائی پر قابو پانے کے لیے عارضی، جزوی اور قلیل مدتی حل ثابت ہوا، کیونکہ طویل مدتی چیلنجز درحقیقت سپلائی چینز اور منڈیوں کی کارکردگی کی ادارہ جاتی کمزوریوں سے جڑے ہوئے تھے، بلکہ اس کے نتیجے میں معاشی نمو کو بلا ضرورت قربان کیا گیا، تاکہ بظاہر میکرو اکنامک استحکام حاصل کیا جا سکے، جو خود بھی پائیدار نہ تھا۔
پبلک سیکٹر کے کردار کو بلاوجہ کم کرنے کی تنقید کوئی نئی بات نہیں، خاص طور پر 2007-08 کے عالمی مالیاتی بحران اور بعد ازاں کووِڈ وبا کے دوران سامنے آنے والے سنگین منفی نتائج کے پیش نظر، جو پبلک سیکٹر کے کردار کا فوری ازسرنو جائزہ لینے کی ضرورت کی طرف اشارہ کرتے ہیں۔ اس کا مطلب ہے پبلک سیکٹر کے کردار کو اس کے حقیقی اور موثر رنگ میں بڑھانا، جیسا کہ روزویلٹ کی ‘نیو ڈیل’ پالیسیوں کے نفاذ کے بعد دیکھا گیا تھا، جس کے ساتھ اب ایک اور وسیع تر عوامی کردار کا تعارف کرانا ضروری ہے، جو بقاء کو لاحق تیزی سے ابھرتے ہوئے خطرات اور مالیاتی حد تک پیچیدہ عالمی معیشت کے تناظر میں ‘گرین نیو ڈیل’ جیسے اقدامات کو نافذ کرنے پر مشتمل ہو۔
عوامی شعبے کے کردار کو زندہ کرنے کے ایک اہم پہلو یہ ہے کہ اسے نجی شعبے کے کردار کے برابر قرار دینے سے باز رہا جائے، جیسا کہ 10 اپریل کو پروجیکٹ سینڈیکیٹ میں شائع شدہ مضمون “ گورنمنٹس آر ناٹ اسٹارٹ اپس “ میں درست نشاندہی کی گئی ہے کہ دنیا بھر میں حکومتیں خود کو کاروبار کی طرح دوبارہ وضع کرنے کی کوشش کر رہی ہیں… مسئلہ یہ ہے کہ حکومتیں اور کاروبار بالکل مختلف مقاصد کے لیے کام کرتے ہیں۔ اگر پالیسی ساز کاروباری اداروں کی نقل کرنے لگیں گے تو وہ پیچیدہ سماجی چیلنجز کے حل کی اپنی صلاحیت کو نقصان پہنچائیں گے۔ اسٹارٹ اپس کے لیے سب سے بڑی ترجیح تیز رفتار تبدیلی، ٹیکنالوجی پر مبنی اختراعات اور سرمایہ کاروں کو مالی منافع فراہم کرنا ہے۔ ان کی کامیابی عموماً کسی محدود مسئلے کو ایک مخصوص مصنوع یا ایک ادارے کے اندر حل کرنے پر منحصر ہوتی ہے۔
حکومتوں کو اس کے برعکس، غربت، صحت عامہ اور قومی سلامتی جیسے پیچیدہ اور باہم مربوط مسائل سے نمٹنا ہوتا ہے، جن کے حل کے لیے مختلف شعبوں کے مابین تعاون اور طویل المدتی منصوبہ بندی ضروری ہے۔ ان میں کسی بھی شعبے میں قلیل مدتی فائدے کا حصول معقول نہیں۔
اسٹارٹ اپس کے برعکس، حکومتوں کا کام قانونی ذمہ داریاں نبھانا، ضروری خدمات کی فراہمی کو یقینی بنانا اور قانون کے تحت مساوی سلوک پر عملدرآمد کرانا ہے، جو آج کل پہلے سے زیادہ اہم ہو چکا ہے۔ مارکیٹ شیئر جیسے پیمانے غیر متعلقہ ہیں کیونکہ حکومت کا کوئی مقابلہ کرنے والا نہیں ہوتا۔“
افسوس کی بات ہے کہ نیولبرل ازم کی خامیوں، شدید کفایت شعاری کی پالیسیوں اور حکومت کے کردار کو بلا ضرورت محدود کرنے جیسے منفی پہلوؤں پر یہ عالمی بحث، خاص طور پر کووِڈ وبا کے بعد، عام طور پر عوامی پالیسی کے میدان میں نظر نہیں آتی۔
نیولبرل پالیسیوں کا گہرا اثر موجودہ اور کئی سابقہ مالی وزراء کے خیالات میں نمایاں ہے، جبکہ میڈیا بھی اس حوالے سے سنجیدہ فکری کمی کا مظاہرہ کرتا ہے، جس کی وجہ سے دنیا بھر میں سالوں سے جاری یہ اہم پالیسی مباحثے عوام تک پہنچ نہیں پاتے۔ آئی ایم ایف کا نیولبرل نظریات کو ترجیح دینا، خاص طور پر عالمی سطح پر اس کے وسیع اثرات کے باوجود، اس صورتحال کو مزید تشویشناک بنا دیتا ہے۔
حکومت کو چاہیے کہ وہ غیر نیولبرل خطوط پر اپنے کردار کو تیزی سے بحال کرے کیونکہ دنیا ایک پیچیدہ کثیرالجہتی بحران کی لپیٹ میں ہے اور بقاء کو لاحق خطرات تیزی سے ابھر رہے ہیں۔
عوامی شعبے کے کردار کو بہتر سمجھنے کے لیے ایک اہم راہ ’یونیورسٹی کالج لندن انسٹی ٹیوٹ آف انوویشن اینڈ پبلک پرپز‘ ( یو سی ایل آئی پی پی ) کا کام ہے، جو ’پبلک سیکٹر کیپبیلٹیز انڈیکس‘ ( پی ایس سی آئی) تیار کرنے کے منصوبے پر کام کر رہا ہے۔
اس حوالے سے حکومت پاکستان کو یو سی ایل آئی پی پی کے ساتھ تکنیکی تعاون پر غور کرنا چاہیے تاکہ عوامی شعبے کو درپیش مخصوص چیلنجز اور مواقع سے بہتر طریقے سے نمٹا جا سکے، خاص طور پر چونکہ پاکستان ماحولیاتی تبدیلی کے حوالے سے انتہائی حساس ملک ہے اور اس میں غربت اور قرض کے مسائل بھی نمایاں ہیں۔
پی ایس سی آئی کے حوالے سے، یو سی ایل آئی پی پی نے کہا ہے کہ دنیا بھر کے مقامی حکومتوں کو پیچیدہ شہری مسائل سے نمٹنے کے لیے بڑھتے ہوئے دباؤ کا سامنا ہے، ماحولیاتی تبدیلی، صحت عامہ کے بحران، بڑھتی ہوئی عدم مساوات، اور معاشی تبدیلیاں۔ مگر پبلک سیکٹر کی صلاحیتوں کے موجودہ جائزے صرف مارکیٹ کے ضابطے اور معاشی کارکردگی تک محدود ہیں، جس کی وجہ سے شہر آج کی فوری ضروریات کو پورا کرنے کے لیے ضروری اوزار سے محروم ہیں۔ …پبلک سیکٹر کیپبیلٹیز انڈیکس پہلی عالمی پیمائش ہے جو بتاتی ہے کہ حکومت کی صلاحیت کہاں مضبوط ہے اور کہاں کلیدی عوامی شعبے کی مہارتیں ترقی کی مستحق ہیں۔ …یہ انڈیکس شہری حکومتوں کی صلاحیت کو ماپنے اور سمجھنے کا پہلا عالمی تشخیصی آلہ ہے، جو درج ذیل فراہم کرتا ہے: [1] شہروں کی کامیابی اور سرمایہ کاری کے لیے ترجیحی علاقوں کی واضح تصویر؛ [2] اہم صلاحیتوں کی تیز رفتار توسیع یا تقویت کے مواقع، جیسے: [a] جدت کے ذریعے رہائشیوں کی شمولیت؛ [b] مختلف شعبوں کے درمیان تعاون؛ [c] ڈیٹا انفرااسٹرکچر کا فائدہ اٹھانا؛ [d] ڈیجیٹل پلیٹ فارمز کا استعمال؛ [e] وسائل کی تقسیم اور حکمت عملی کے فیصلوں کے لیے شواہد کی بنیاد؛ [f] مقامی، قومی اور صوبائی حکومتوں، فلاحی اور مالیاتی اداروں کے درمیان تعاون کا پلیٹ فارم، جو صلاحیت سازی کے لیے فنڈز اور معاونت فراہم کرے۔ یہ اقدام شہری حکومتوں کو عالمی اور مقامی چیلنجز کا اسٹریٹیجک جواب دینے کے قابل بناتا ہے، اور عوامی قدر اور لچک کو مضبوط کرتا ہے۔“
کاپی رائٹ: بزنس ریکارڈر ،2025