وزیراعظم شہباز شریف نے اسرائیل کی جانب سے غزہ صمود فلوٹیلا کو روکنے اور پاکستانی شہریوں کو حراست میں لینے پر سخت ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے ان کی فوری رہائی کا مطالبہ کر دیا۔
وزیراعظم نے پاکستانی شرکا کو خراجِ تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ یہ اقدام پاکستانی عوام کے امن پسند جذبات اور انسانی ہمدردی کے اصولوں کی عکاسی کرتا ہے۔
شہباز شریف نے جمعرات کو اپنے ایکس اکاؤنٹ میں لکھا کہ میں پاکستانی شہریوں کی غزہ فریڈم فلوٹیلا میں باوقار شمولیت کو سراہتا ہوں۔ سینیٹر مشتاق احمد خان، مظہر سعید شاہ، وجاہت احمد، ڈاکٹر اسامہ ریاض، اسماعیل خان، سید عزیز نظامی اور فہد اسحاق سمیت دیگر پاکستانیوں نے اس عظیم انسانی مشن میں حصہ لیا جو انسانی ہمدردی کے اصولوں کے مطابق ہے۔
وزیراعظم کا کہنا تھا کہ یہ اقدام پاکستانی عوام کے امن پسند جذبے، انصاف کی جدوجہد اور مظلوموں کی مدد کے جذبے کی نمائندگی کرتا ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ حکومت پاکستان انسانی جان کے احترام، محفوظ رسائی اور امداد کی بلا تعطل ترسیل کے اصولوں کی حمایت کرتی ہے اور اپنے شہریوں کی بحفاظت اور جلد واپسی کے لیے دعاگو اور کوشاں ہے۔
یہ بیان وزیراعظم کی جانب سے اس سے چند گھنٹے قبل دیے گئے اس مذمتی بیان کے بعد سامنے آیا جس میں انہوں نے اسرائیلی افواج کی جانب سے غزہ صمود فلوٹیلا‘ پر کیے گئے بزدلانہ حملے کی شدید مذمت کی تھی۔
وزیراعظم نے کہا تھا کہ اس فلوٹیلا میں 44 ممالک کے 450 سے زائد رضاکار شامل تھے جنہیں اسرائیلی افواج نے غیر قانونی طور پر حراست میں لے لیا ہے۔ ان رضاکاروں کا واحد جرم یہ تھا کہ وہ محصور اور مظلوم فلسطینی عوام کے لیے امداد لے کر جا رہے تھے۔
انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان ان تمام امدادی کارکنوں کی فوری ، غیر مشروط رہائی اور فلسطینی عوام کے لیے امداد کی بلا رکاوٹ ترسیل کا مطالبہ کرتا ہے۔ اسرائیلی بربریت کا فوری خاتمہ اور فلسطین میں پائیدار امن کا قیام وقت کا تقاضا ہے۔
خیال رہے کہ بدھ کی شب اسرائیلی بحریہ نے گلوبل صمود فلوٹیلا کو بین الاقوامی پانیوں میں روک لیا۔ یہ فلوٹیلا تقریباً 45 کشتیوں پر مشتمل تھا جس میں سیاستدان اور انسانی حقوق کے کارکن شریک تھے۔ اس مشن میں سویڈن کی ماحولیاتی کارکن گریٹا تھنبرگ سمیت دنیا بھر کے رہنما شامل تھے۔
جماعت اسلامی کے سابق سینیٹر مشتاق احمد خان سمیت متعدد پاکستانی بھی اس قافلے کا حصہ تھے۔ فلوٹیلا انتظامیہ کا کہنا ہے غزہ کے وقت کے مطابق رات ساڑھے آٹھ بجے الما ، سیریئس اور ادارہ نامی جہازوں کو اسرائیلی افواج نے زبردستی روکا اور ان پر چڑھائی کی۔ اس دوران کئی کشتیوں سے رابطہ منقطع ہو گیا۔
پاکستانی دفترِ خارجہ نے بھی اس کارروائی کی مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ اسرائیل نے بین الاقوامی قوانین اور انسانی حقوق کی کھلی خلاف ورزی کی ہے۔
اسی دوران مسلم لیگ (ن) کے رہنما خواجہ سعد رفیق نے بھی اس کارروائی کو قابض اسرائیلی افواج کا ایک اور بزدلانہ اور شرمناک جنگی جرم قرار دیا۔انہوں نے کہا کہ یہ نہتے مگر جری کارکن شدید زخمی اور بھوکے فلسطینی عوام کے لیے انسانی ہمدردی کی بنیاد پر امداد لے کر جا رہے تھے لیکن اسرائیل نے امریکی سرپرستی میں تمام انسانی اور اخلاقی اقدار کی دھجیاں اڑا دیں۔
سعد رفیق نے عوام سے اپیل کی کہ وہ گرفتار کارکنوں کی رہائی کے لیے ہر سطح پر آواز بلند کریں اور کہا کہ انہیں پوری امید ہے کہ حکومت پاکستان فوری اور مؤثر اقدامات کرے گی۔