نیشنل الیکٹرک پاور ریگولیٹری اتھارٹی (نیپرا) نے بدھ کے روز کے الیکٹرک (کے ای) کو دیے گئے رائٹ آف کلیمز پر نظرثانی درخواست کی سماعت کے دوران پاور ڈویژن کے نمائندوں کے غیر مہذب رویے پر سخت سرزنش کی۔

سماعت کے دوران نیپرا کی ممبر (لا) آمنہ احمد نے پاور ڈویژن ٹیم کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ آپ یہاں اپنا کیس پیش کرنے آئے ہیں لیکن خود اعتراف کرتے ہیں کہ آپ کو وفاقی حکومت کا اختیار حاصل نہیں۔ ہم آپ کو سنیں گے لیکن یہ رویہ کسی صورت درست نہیں۔

پاور ڈویژن کی نمائندگی ایڈیشنل سیکریٹری (پاور فنانس) محفوظ بھٹی اور پی پی ایم سی کے نوید قیصر نے کی، جب کہ کے ای کی ٹیم چیف فنانشل آفیسر (سی ایف او) عامر غزانی اور قانونی نمائندے پر مشتمل تھی۔

نیپرا کے ممبر (ٹیکنیکل) رفیق احمد شیخ نے توجہ دلائی کہ پاور ڈویژن نے نظرثانی درخواست دائر کرنے کے لیے لازمی فیس ادا نہیں کی، جو قانونی تقاضا ہے۔ واضح رہے کہ نیپرا نے 2017 میں کے ای کا سات سالہ ملٹی ایئر ٹیرف (ایم وائے ٹی) منظور کیا تھا جس میں 1.78 فیصد رائٹ آف کی اجازت دی گئی تھی، تاہم جولائی 2018 میں اس کے لیے سخت شرائط عائد کر دی گئیں۔ بالآخر جون 2025 میں نیپرا نے 50.013 ارب روپے کے رائٹ آف کلیمز کی منظوری دی۔

پاور ڈویژن نے اس فیصلے کو چیلنج کرتے ہوئے مؤقف اختیار کیا کہ 6.619 ارب روپے جی ایس ٹی سمیت رائٹ آف کلیمز نیپرا ایکٹ کے تحت قابل وصول نہیں، اور یہ معاملہ ایف بی آر کو بھیجا جانا چاہیے۔ تاہم چیئرمین نیپرا وسیم مختار نے پاور ڈویژن کے مؤقف کو مسترد کرتے ہوئے نیشنل الیکٹریسٹی پلان 2023-27 کا حوالہ دیا اور 50 ارب روپے کے کلیمز پر وضاحت مانگی۔ محفوظ بھٹی نے براہ راست جواب دینے سے گریز کیا اور کہا کہ ہم توقع رکھتے ہیں کہ نیپرا میرٹ پر فیصلہ دے کر صارفین کے مفادات کا تحفظ کرے گی۔

سماعت کے دوران بدانتظامی ہونے پر ممبر نیپرا رفیق شیخ نے برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اس طرح کے انتشار میں سماعت ممکن نہیں۔ صرف نیپرا ممبران ہی مداخلت کے مجاز ہیں۔ انہوں نے بجلی کے شعبے کی ابتر صورتحال پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ یہ شعبہ قومی بجٹ کا 40 فیصد کھا رہا ہے، آخر ہم کس کو دھوکہ دے رہے ہیں؟

کے الیکٹرک کے سی ایف او نے وضاحت دی کہ سیلز ٹیکس ایکٹ 1990 کے تحت مارچ 2023 تک بجلی تقسیم کار کمپنیاں بلنگ کی بنیاد پر ایف بی آر کو ٹیکس جمع کرانے کی پابند تھیں، چاہے صارفین سے وصولی نہ ہوئی ہو۔ ان کے مطابق اسی وجہ سے سیلز ٹیکس کو ریکوری نقصانات کا حصہ تصور کیا گیا۔ کے الیکٹرک کے وکیل ایان میمن نے کہا کہ رائٹ آف کلیمز سے متعلق تمام نکات پہلے ہی واضح کیے جا چکے ہیں اور مزید نظرثانی کی ضرورت نہیں۔

دوسری جانب بات کرنے والوں میں عارف بلوانی نے موجودہ رائٹ آف کلیمز کی مخالفت کی، جب کہ ریحان جاوید نے 3.23 روپے فی یونٹ ڈائریکٹ سبسڈی سپورٹ پر شدید تنقید کرتے ہوئے کہا کہ کے الیکٹرک کے صارفین کا گردشی قرض سے کوئی تعلق نہیں۔ انہوں نے کہا کہ دیگر ڈسکوز کی نااہلی کا بوجھ کراچی کے صارفین پر ڈالنا زیادتی ہے۔ تنویر بیری نے نیپرا کے سات سالہ کنٹرول پیریڈ برقرار رکھنے کے فیصلے کی حمایت کرتے ہوئے کے الیکٹرک پر زور دیا کہ اب گیس دستیاب ہے تو ایس ایس جی سی کے ساتھ معاہدہ جلد از جلد کیا جائے۔

کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2025