امریکی محکمۂ زراعت (یو ایس ڈی اے) کے مطابق بنگلہ دیش 2025-26 میں تقریباً 81 لاکھ گانٹھیں کپاس درآمد کرے گا۔
قابلِ توجہ امر یہ ہے کہ بنگلہ دیش میں مقامی طور پر کپاس کی پیداوار نہ ہونے کے برابر ہے، بمشکل 45 ہزار ہیکٹر رقبے پر کاشت کی جانے والی کپاس سے صرف 1.5 لاکھ گانٹھیں حاصل ہوتی ہیں، جو قومی ضرورت کا محض 2 فیصد بھی پوری نہیں کرتیں۔ اس کے باوجود، بنگلہ دیش درآمد شدہ 80 لاکھ گانٹھوں کو ویلیو ایڈیڈ مصنوعات میں تبدیل کر کے سالانہ 50 ارب امریکی ڈالر سے زائد زرِمبادلہ کما رہا ہے۔
اس کے برعکس پاکستان کی صورتحال بالکل مختلف ہے۔ پاکستان ہر سال 1.2 سے 1.5 کروڑ گانٹھیں، مقامی پیداوار اور درآمدات ملا کر، استعمال کرتا ہے، مگر گزشتہ کئی برسوں سے ٹیکسٹائل برآمدات 15 سے 20 ارب ڈالر سالانہ کی سطح پر جمی ہوئی ہیں۔ یوں بنگلہ دیش کے مقابلے میں زیادہ کپاس استعمال کرنے کے باوجود پاکستان زرِمبادلہ کے لحاظ سے خاصا پیچھے ہے۔
اس فرق کی جڑ محض مقدار میں نہیں بلکہ معیار اور پروسیسنگ میں ہے۔ پاکستان کی کپاس کے معیارات بین الاقوامی سطح پر ناقابلِ قبول ہیں، جبکہ فرسودہ جننگ نظام سے ریشے کی لمبائی، مضبوطی اور صفائی شدید متاثر ہوتی ہے۔ نتیجتاً پاکستان کی 90 فیصد سے زائد کپاس ویلیو ایڈیڈ مصنوعات کے لیے موزوں نہیں رہتی۔ عالمی برانڈز کی طلب کے مطابق ہائی اینڈ فیشن اور ٹیکنیکل ٹیکسٹائلز کی بجائے پاکستان کا ٹیکسٹائل شعبہ گھریلو ٹیکسٹائلز تک محدود ہو کر رہ گیا ہے۔
یہ محدودیت برآمدات کی وسعت کو بری طرح متاثر کر رہی ہے، جس کے نتیجے میں کسان اور صنعت دونوں جمود اور خسارے کا شکار ہیں۔ اگر پاکستان واقعی عالمی ٹیکسٹائل سپلائی چین میں اپنی پوزیشن کو مستحکم کرنا چاہتا ہے تو اسے فوری طور پر کپاس کی جینیاتی بہتری، معیاری بیج کی فراہمی اور جدید جننگ ٹیکنالوجی کے نفاذ جیسے بنیادی شعبوں میں اصلاحات کرنا ہوں گی۔ بصورتِ دیگر، یہ صنعت کم مالیت کی مصنوعات تک محدود رہے گی اور برآمدی اہداف محض کاغذی خواب بنے رہیں گے۔
یہ فرق صرف کپاس کی مقدار کا نہیں، بلکہ ویلیو ایڈیشن اور پالیسی ترجیحات کا بھی ہے۔ بنگلہ دیش کے ٹیکسٹائل شعبے نے عالمی مارکیٹ کے تقاضوں کو بروقت سمجھا، اپنی مصنوعات کے لیے برانڈ ویلیو تخلیق کی اور بین الاقوامی سطح پر ایک مسابقتی مقام حاصل کیا۔ اس کے برعکس، پاکستان کی صنعت نے اپنی توجہ سستی توانائی، گیس اور ٹیکس چھوٹ پر مرکوز رکھی، جبکہ کپاس کی تحقیق، کسانوں کی معاونت اور بیج و پیداوار کے مسائل حل کرنے کے لیے خاطر خواہ اقدامات نہیں کیے گئے۔
پاکستان کو بنگلہ دیش سے سبق سیکھنا ہوگا۔ اگر ٹیکسٹائل صنعت حقیقی ترقی چاہتی ہے تو اسے حکومتی سبسڈی پر انحصار کم کرتے ہوئے کپاس کی ویلیو چین کو مضبوط بنانا ہوگا۔ اس کے لیے کسانوں کو مراعات دینا، بیج اور تحقیقی اداروں کی معاونت کرنا اور بین الاقوامی معیار کی مصنوعات تیار کرنا ناگزیر ہے۔ صرف اسی صورت میں پاکستان اپنی برآمدات میں وسعت لا سکتا ہے۔
عالمی سطح پر بڑھتی ہوئی مانگ کے پیشِ نظر پاکستان کو تکنیکی ٹیکسٹائل اور اسمارٹ فیبرکس میں بھی سرمایہ کاری کرنی چاہیے۔ میڈیکل ٹیکسٹائل، دفاعی کپڑے، کھیلوں کے ملبوسات اور صنعتی فیبرکس جیسے شعبے بین الاقوامی منڈیوں میں تیزی سے ترقی کر رہے ہیں، اور پاکستان کے لیے ان منافع بخش حصوں میں داخل ہونا ناگزیر ہے۔ یہ اعلیٰ قدر والے شعبے برآمدی آمدن میں کئی گنا اضافہ کر سکتے ہیں۔
اب وقت آ گیا ہے کہ سوت اور گرے کلاتھ کی فروخت سے آگے بڑھا جائے۔ عالمی سطح پر پاکستانی فیشن اور ٹیکسٹائل ڈیزائن کی شناخت کے لیے مصنوعات کو برانڈ کرنا ضروری ہے۔ اسی طرح، ای کامرس اور بین الاقوامی ریٹیل نیٹ ورکس کے ذریعے صارفین تک براہِ راست رسائی برآمدات میں مزید اضافہ کر سکتی ہے۔
دوسری جانب عالمی خریدار اب ماحول دوست پیداوار کو ترجیح دے رہے ہیں، لہٰذا پانی کی بچت کرنے والی ٹیکنالوجیز، ری سائیکل شدہ کپاس اور گرین سرٹیفیکیشنز کو اپنانا ناگزیر ہوتا جا رہا ہے۔
یہ بھی سمجھنا ضروری ہے کہ ویلیو ایڈیشن صرف مشینری سے ممکن نہیں۔ اس کے لیے ڈیزائنرز، ٹیکنیشنز اور محققین کی نئی نسل کو تیار کرنا بھی لازم ہے۔ اگر پاکستان اس نوع کی جدت کو اپنی ٹیکسٹائل صنعت میں جذب کر لے تو کپاس کی معیشت کو مضبوط بنانے کے ساتھ ساتھ عالمی منڈیوں میں نمایاں مقام دوبارہ حاصل کیا جا سکتا ہے۔
چیلنجز صرف تکنیکی نہیں بلکہ پالیسی سے جڑے ہوئے بھی ہیں۔ کئی دہائیوں سے کپاس کو زرعی منصوبہ بندی میں چاول یا گندم جتنی اہمیت حاصل نہیں رہی، جس کے نتیجے میں کپاس کے زیرِ کاشت رقبے میں مسلسل کمی واقع ہوئی ہے، اور کسان زیادہ منافع بخش فصلوں کی طرف منتقل ہو گئے ہیں۔
جب تک حکومت منافع کے توازن کو مختلف فصلوں کے درمیان بحال نہیں کرتی، کپاس کی پیداوار میں خاطر خواہ اضافہ ممکن نہیں ہوگا۔ تحقیق و ترقی (آر اینڈ ڈی ) پر سرمایہ کاری بھی تقریباً نہ ہونے کے برابر ہے۔ اگر پاکستان زرعی تحقیق پر محض ایک فیصد جی ڈی پی بھی خرچ کرے تو چند ہی برسوں میں کپاس کے معیار اور مقدار میں نمایاں بہتری لائی جا سکتی ہے۔
معاشی تناظر میں دیکھا جائے تو پاکستان کو یہ تسلیم کرنا ہوگا کہ ویلیو ایڈیشن نہ صرف برآمدات بڑھانے کا ایک موثر ذریعہ ہے بلکہ روزگار کے مواقع پیدا کرنے کا سب سے بڑا انجن بھی یہی ہے۔
تخمینے ظاہر کرتے ہیں کہ اگر پاکستان کی صرف 10 فیصد کپاس کو اعلیٰ قدر کی مصنوعات میں استعمال کیا جائے تو نئے روزگار کے 5 لاکھ سے زائد مواقع پیدا ہو سکتے ہیں جبکہ برآمدات میں کم از کم 8 سے 10 ارب ڈالر تک اضافہ ممکن ہے۔ یہ مواقع محض امکانات نہیں بلکہ حقیقت کا رُخ اختیار کر سکتے ہیں بشرطیکہ وژن، پالیسی میں تسلسل اور سنجیدہ عزم سے کام لیا جائے۔
کاپی رائٹ: بزنس ریکارڈر، 2025