پاسبان ڈیموکریٹک پارٹی (پی ڈی پی) کے چیئرمین الطاف شکور نے اتوار کے روز وفاقی حکومت کے تعاون سے جاری گرین لائن منصوبے کے دوسرے مرحلے پر کام کی بندش پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ کراچی کی ترقی کو سیاست کی نذر نہ کیا جائے۔
انہوں نے افسوس کا اظہار کیا کہ پیپلزپارٹی کی زیر قیادت سندھ حکومت کی پشت پناہی رکھنے والی کراچی میٹروپولیٹن کارپوریشن (کے ایم سی) نے گزشتہ ہفتے 6 ارب روپے مالیت کے گرین لائن منصوبے کو یہ مؤقف اختیار کرتے ہوئے روک دیا کہ پی آئی ڈی سی ایل نے کام دوبارہ شروع کرنے سے قبل بلدیاتی اداروں سے این او سی حاصل نہیں کیا۔
الطاف شکور نے کہا کہ ایک طرف سندھ حکومت شکوہ کرتی ہے کہ وفاق کراچی میں فنڈز خرچ نہیں کرتا اور دوسری طرف جب وفاقی حکومت کراچی کے شہریوں کا پرانا مطالبہ پورا کرنے کے لیے گرین لائن بی آر ٹی کے دوسرے مرحلے کی تعمیر شروع کرتی ہے تو اسے خوش آمدید کہنے کے بجائے رکاوٹیں کھڑی کی جا رہی ہیں جو افسوسناک ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ کراچی کی انفراسٹرکچر پہلے ہی تباہ حالی کا شکار ہے، اور سندھ حکومت کے منفی رویے کو شہری سخت ناپسند کرتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ اس میگا سٹی کو وفاقی اور صوبائی دونوں حکومتوں سے بھاری فنڈنگ کی ضرورت ہے۔ گرین لائن بی آر ٹی کراچی کا ایک اہم منصوبہ ہے اور اس کے خلاف اقدامات شہریوں اور شہر کے مفاد کے منافی ہیں۔ انہوں نے سٹی میئر مرتضیٰ وہاب اور وزیراعلیٰ مراد علی شاہ سے مطالبہ کیا کہ وہ اس منفی رویے پر نظرثانی کریں اور پی آئی ڈی سی ایل کو فوری طور پر گرین لائن کے دوسرے مرحلے کی تکمیل کی اجازت دیں۔
کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2025