اپیلیٹ ٹریبونل ان لینڈ ریونیو (اے ٹی آئی آر) ملتان بینچ نے ایک تاریخی فیصلے میں قرار دیا ہے کہ ٹیکس دہندگان پر یہ قانونی ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ انکم ٹیکس آرڈیننس 2001 کی دفعہ 147 کے تحت ایڈوانس انکم ٹیکس کی مد میں قابل وصول ٹیکس کا 90 فیصد قومی خزانے میں جمع کرائیں۔ ٹریبونل کے مطابق اس ذمہ داری کی عدم ادائیگی پر حکومت پاکستان کو ڈیفالٹ سرچارج ادا کرنے کی قانونی ذمہ داری عائد ہوگی۔
مصدقہ اطلاعات کے مطابق اے ٹی آئی آر نے قرار دیا کہ اپیل کنندہ نے بلاشبہ اپنی 90 فیصد ایڈوانس ٹیکس کی ذمہ داری پوری نہیں کی، جس کے باعث دفعہ 205(1بی) کے تحت کارروائی لازم آتی ہے۔
ٹریبونل نے وضاحت کی کہ ٹیکس دہندہ کا دفعہ 205(1)( اے) پر انحصارمکمل طور پر غلط فہمی ہے، کیونکہ یہ شق صرف ایڈوانس ٹیکس کو ذیلی دفعہ (1) سے مستثنیٰ قرار دیتی ہے اور اس کے لیے خصوصی ذیلی دفعات (1اے) اور (1 بی) کا اطلاق ہوتا ہے۔
ٹیکس دہندہ کی اپیلیں مسترد کرتے ہوئے اے ٹی آئی آر نے واضح طور پر قرار دیا کہ پیش کی گئی تمام دلیلیں غیر موثر، قانون کے مطابق ناقابل قبول اور اعلیٰ عدالتی فیصلوں کے منافی ہیں۔
قانونی ماہرین نے اس فیصلے کو ایک اہم نظیر قرار دیا ہے، جو دفعہ 147 کے تحت ایڈوانس ٹیکس کی لازمی نوعیت اور دفعہ 205(1 بی) کے تحت ڈیفالٹ سرچارج کے سخت اطلاق کو مزید مضبوط کرتی ہے۔
ٹیکس وکیل وحید شہزاد بٹ نے بزنس ریکارڈر سے گفتگو میں کہا کہ یہ ایف بی آر کی انتہائی غفلت ہے کہ وہ آرڈیننس کی دفعہ 205(1بی) کی غیر مبہم شق سے لاعلم ہیں۔ ایف بی آر خود ٹیکس دہندگان کے بینک اکاؤنٹس سے براہ راست ریکوری کی ریاستی سرپرستی میں سرگرمیوں میں ملوث رہا ہے۔”
انہوں نے مزید کہا کہ شوکاز نوٹس دفعہ 205(1بی) کے تحت درست طور پر جاری کیا گیا ہے اور ڈیفالٹ سرچارج کا حساب بالکل غیر متنازع ہے۔
افسرِ انکم ٹیکس کے احکامات کو برقرار رکھتے ہوئے اے ٹی آئی آر نے ڈیفالٹ سرچارج کی عائد کردہ رقم 23,995,342 روپے اور 57,034,823 روپے کی توثیق کی۔
کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2025