اسلامک اسٹیٹ خراسان (آئی ایس کے ) کے علاقائی گروپ کو بڑا دھچکا لگا ہے، اس کے سینئر کمانڈر محمد احسانی عرف انور کو افغانستان کے شہر مزار شریف میں نامعلوم مسلح افراد نے ہلاک کر دیا۔ یہ واقعہ سیکیورٹی ذرائع کے حوالے سے آج نیوز نے رپورٹ کیا ہے۔

ذرائع نے مزید بتایا کہ احسانی تاجک تھا، خودکش بمباروں کی تربیت اور انہیں پاکستان میں داخل کرنے کی ذمہ داری اس کے سپرد تھی۔ ذرائع نے کہا کہ وہ 2022 کے پشاور مسجد بم دھماکے کا بھی ایک اہم سہولت کار تھا، جس میں 67 افراد شہید ہوئے تھے۔ ذرائع کے مطابق احسانی پاکستان کے اندر متعدد دہشت گرد حملوں کی منصوبہ بندی میں بھی ملوث رہا اور اس کی ہلاکت کو خطے میں آئی ایس کے کی کارروائیوں کے لیے ایک اہم دھچکا قرار دیا جا رہا ہے۔

سیکیورٹی ایجنسیوں نے مزید بتایا کہ خیبر پختونخوا میں جاری آپریشن سربکاف کے تحت رواں ماہ کے اوائل میں ایک افغان شہری سمیت آئی ایس کے کے تین عسکریت پسندوں کو ہلاک کیا گیا۔ باجوڑ اور دیگر علاقوں میں بھی آئی ایس کے اور کالعدم تحریک طالبان پاکستان ( ٹی ٹی پی) کے سہولت کاروں کے خلاف کریک ڈاؤن جاری ہے۔

2021 میں طالبان رہنماؤں کی افغانستان واپسی کے بعد سے پاکستان میں سرحد پار سے دہشت گرد حملوں میں اضافہ دیکھا گیا ہے، خاص طور پر افغانستان سے متصل صوبوں خیبر پختونخوا اور بلوچستان زیادہ متاثرہیں۔

پاکستان میں دہشت گردی کی شدت میں اضافہ

پاکستان انسٹی ٹیوٹ فار کنفلیکٹ اینڈ سیکیورٹی اسٹڈیز ( پی آئی سی ایس ایس) نے رواں ماہ کے اوائل میں اپنی رپورٹ میں بتایا کہ اگست میں پاکستان نے ایک دہائی سے زیادہ عرصے میں عسکریت پسندوں کے تشدد کا سب سے مہلک ترین مہینہ دیکھا، جس میں 143 حملے ریکارڈ کیے گئے، ان حملوں میں 194 افراد ہلاک اور 231 زخمی ہوئے۔

رپورٹ میں کہا گیا کہ اگرچہ سندھ، پنجاب اور گلگت بلتستان میں بھی تشدد ہوا، لیکن خیبر پختونخوا اور بلوچستان کو سب سے زیادہ نقصان اٹھانا پڑا۔ رپورٹ کے مطابق عسکریت پسندوں نے نہ صرف اپنے حملوں کی رفتار میں اضافہ کیا بلکہ گوریلا حملوں، ٹارگٹ کلنگ، آئی ای ڈی اور گرینیڈ حملوں اور ایک خودکش بم دھماکے میں تیزی کے ساتھ اپنے حربوں کو بھی تبدیل کیا ، جو عسکریت پسند گروپوں کی نئی قوت کی عکاسی کرتا ہے۔

رپورٹ میں مزید کہا گیا کہ اس کے جواب میں سیکیورٹی فورسز نے انسداد دہشت گردی کی کارروائیاں تیز کر دیں، ملک بھر میں 41 کارروائیاں کی گئیں ،جن میں کم از کم 100 عسکریت پسندوں کو ہلاک کیا گیا اور 31 گرفتاریاں عمل میں آئیں۔

رپورٹ کے مطابق سب سے زیادہ مہلک کارروائیاں بلوچستان میں ہوئیں، جہاں بی ایل اے اور بی ایل ایف کے اہم کمانڈروں سمیت 50 عسکریت پسندوں کوموت کی نیند سلایا گیا، جبکہ خیبر پختونخوا اور سابقہ فاٹا میں شدید کارروائیوں میں 48 عسکریت پسند مارے گئے، لیکن اس کے نتیجے میں شہریوں اور سیکیورٹی اہلکاروں کا نقصان بھی ہوا۔ سندھ، پنجاب، آزاد جموں و کشمیر اور اسلام آباد میں انٹیلی جنس کی بنیاد پر ہونے والے چھاپوں میں کم سے کم جانی نقصان کے ساتھ گرفتاریاں ہوئیں، جو بڑھتی ہوئی عسکری سرگرمیوں کے پیشِ نظر سیکیورٹی فورسز کی زیادہ کاریگر اور جارحانہ حکمتِ عملی کی عکاسی کرتی ہیں۔