آج دبئی میں ایشیا کپ کے فائنل میں پاکستان اور بھارت کے مابین ٹاکرا ہوگا، جہاں پاکستان بدلہ لینے کے عزم کے ساتھ میدان میں اترے گا، مگر ناقابل شکست بھارت ٹائٹل برقرار رکھنے کا مضبوط دعویدار دکھائی دیتا ہے۔

بھارتی ٹیم نے اس ٹورنامنٹ میں اپنے تمام حریفوں کو ایسے پچھاڑا کہ ان کا فائنل تک پہنچنا کسی بھی مخالف کے لیے قطعی حیران کن نہیں ہے۔ اس ٹیم کی اصل طاقت کا عکس یہ ہے کہ ان کے اوپنر ابھیشیک شرما اور اسپنر ورون چکرورتی جیسے کھلاڑی بھی ٹیم کا حصہ ہیں، جو ٹی ٹوئنٹی فارمیٹ میں اپنی اپنی فیلڈز کے عالمی نمبر ون کھلاڑی ہیں۔ یہ اسٹار پاور بھارتی ٹیم کی غیر معمولی قوت کی عکاسی کرتی ہے۔

چھکے مارنے والی مشین ابھیشیک شرما چھ اننگز میں 309 رنز کے ساتھ ٹورنامنٹ کے سب سے بڑے اسکورر ہیں، جنہوں نے اکثر پہلے چھ پاور پلے اوورز میں ہی ہندوستانی بلے بازی کی سمت متعین کی ہے۔

اس کم اسکورنگ ٹورنامنٹ میں جہاں صرف سری لنکا کے پاتھم نسانکا سنچری بنانے میں کامیاب ہو سکے، وہیں ابھیشیک شرما کی شاندار فارم نے بھارت کو مسلسل برتری دلانے میں اہم کردار ادا کیا — یہاں تک کہ کپتان سوریا کمار یادیو کی بیٹنگ میں مسلسل ناکامی بھی ٹیم پر اثر انداز نہ ہو سکی۔

بھارتی فاسٹ باؤلر جسپریت بمراہ نے پاور پلے اوورز میں نپی تلی باؤلنگ کے ذریعے ٹیم کو برتری دلائی، تاہم اصل تباہی بائیں ہاتھ کے اسپنر کلدیپ یادو نے مچائی، جو 13 وکٹوں کے ساتھ ٹورنامنٹ کے ٹاپ باؤلر بن کر ابھرے ہیں۔ایشیا کپ کے اس پہلے فائنل میں روایتی حریف پاکستان اور بھارت کی ٹیمیں مدمقابل ہوں گی۔

ساتھی سپنرز اکشر پٹیل اور ورون چکرورتی نے بھی مڈل اوورز میں حریفوں کو سخت مشکلات سے دوچار رکھا ہے۔ درجنوں آل راؤنڈرز کی دستیابی نے سوریہ کمار کو بالنگ کے انتخاب میں عملی طور پر خوشگوار مشکل میں ڈال رکھا ہے۔

تناؤ اور کپتانوں کے بیانات

یہ جوہری ہتھیاروں سے لیس دونوں پڑوسیوں کے درمیان مئی کے فوجی تنازعے کے بعد پہلا ٹورنامنٹ ہے، جس میں ہندوستان اور پاکستان کے درمیان ہر بار ٹکراؤ کے دوران غصے اور چنگاریاں اُڑیں۔

جمعہ کو ڈیڈ ربر سمجھے جانے والے میچ میں بھارت ایک خوفناک صورتحال سے بچ نکلا جب اس نے سپر اوور کے ذریعے سری لنکا کو شکست دی۔ یہ واقعہ یقینی طور پر ٹیم کی مہم میں گھس آنے والی کسی بھی خوش فہمی کو جھٹکنے کے لیے کافی ہوگا۔

سوریہ کمار نے فائنل میں پہنچنے والی اپنی بے عیب مہم پر بات کرتے ہوئے کہا کہ مجھے وہ سب کچھ ملا جو میں لڑکوں سے چاہتا تھا – صرف کوشش کرنا اور اپنے منصوبوں کو عملی جامہ پہنانا، واضح رہنا اور کسی خوف کے بغیر کھیلنا۔ یہ واقعی اہم تھا اور مجھے یقین ہے کہ ہر کسی کو وہ ملا جو وہ چاہتے تھے۔ فائنل میں پہنچ کر خوشی ہے۔

فطری طور پر پاکستان اس ٹورنامنٹ میں روایتی حریف سے تیسری شکست سے بچنے کے لیے پوری جان لڑائے گا اور بنگلہ دیش کے خلاف ورچوئل سیمی فائنل میں حاصل ہونے والی مشکل فتح سے اعتماد حاصل کرنے کی کوشش کرے گا۔

پاکستان کے کپتان سلمان آغا فائنل سے قبل خاصے پُرجوش نظر آتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ ہم جانتے ہیں کہ ہمیں کیا کرنا ہے، ہماری ٹیم کسی کو بھی شکست دینے کی صلاحیت رکھتی ہے اور اتوار کو ہم میدان میں اتریں گے تو مقصد صرف ایک ہوگا وہ ہے بھارت کوشکست سے دو چار کرنا۔