جامعہ کراچی نے اسلام آباد ہائی کورٹ کے جسٹس طارق محمود جہانگیری کی ایل ایل بی کی ڈگری منسوخ کر دی۔

آج نیوز کے مطابق جامعہ کراچی نے اسلام آباد ہائی کورٹ کے جسٹس طارق محمود جہانگیری کی قانون کی ڈگری منسوخ کرتے ہوئے ان پر تین سال کی پابندی عائد کر دی ہے۔

جامعہ کراچی کے رجسٹرار عمران احمد صدیقی نے ڈگری منسوخی کا باضابطہ نوٹیفکیشن جاری کیا۔ یونیورسٹی کے بیان میں کہا گیا ہے کہ ان فیئر مینز کمیٹی نے ڈگری منسوخ کرنے کے ساتھ ساتھ جسٹس جہانگیری پر تین سال تک جامعہ میں داخلہ لینے اور امتحانات میں شرکت پر بھی پابندی عائد کی ہے، کیونکہ انہوں نے امتحان میں غیر قانونی ذرائع استعمال کیے۔

جامعہ کراچی کی سنڈیکیٹ کے اجلاس کے فیصلے کی روشنی میں اسسٹنٹ رجسٹرار سیٹلمنٹ نے جسٹس جہانگیری کی ڈگری کو جعلی قرار دے دیا ہے۔ نوٹیفکیشن میں وضاحت کی گئی ہے کہ جسٹس جہانگیری کبھی اسلامیہ لاء کالج کراچی کے طالبعلم نہیں رہے اور ان کا اندراج نمبر 7124/87 بھی منسوخ کر دیا گیا ہے۔

یاد رہے کہ جولائی 2024 میں میاں داؤد نے اسلام آباد ہائی کورٹ میں ریٹ آف کو وارنٹو دائر کی تھی، جس میں جسٹس جہانگیری کی مبینہ جعلی ڈگری کی تحقیقات کا مطالبہ کیا گیا تھا۔ درخواست گزار نے مؤقف اختیار کیا تھا کہ جسٹس جہانگیری کی تعیناتی غیر آئینی ہے کیونکہ ان کی ڈگری درست نہیں۔

اس درخواست پر اسلام آباد ہائی کورٹ کے ایک ڈویژن بینچ نے رواں ماہ کے آغاز میں ہی جسٹس جہانگیری کو عدالتی فرائض سرانجام دینے سے روک دیا تھا، جب تک کہ سپریم جوڈیشل کونسل اس معاملے پر فیصلہ نہیں دیتی۔

جسٹس جہانگیری نے 19 ستمبر کو اس فیصلے کے خلاف سول پٹیشن دائر کی۔ ان کا مؤقف تھا کہ ڈویژن بینچ کا حکم آئین کے آرٹیکل 189 اور 209(7) کے برخلاف، غیر قانونی، عدالتی تاریخ میں بے مثال اور عدلیہ کی آزادی پر کاری ضرب کے مترادف ہے۔

گزشتہ روز سندھ ہائی کورٹ میں پیشی کے دوران جسٹس جہانگیری نے کہا تھا کہ یہ پہلا موقع ہے جب ایک ہائی کورٹ کا جج بطور ملزم کٹہرے میں کھڑا ہے۔ انہوں نے مؤقف اختیار کیا کہ انہیں جامعہ کراچی کی طرف سے کبھی کوئی نوٹس موصول نہیں ہوا۔ ان کا کہنا تھا کہ ان کی ڈگری بالکل درست ہے اور انہوں نے ذاتی طور پر امتحانات دیے تھے۔ مزید کہا کہ اپنے 34 سالہ کیریئر میں ان پر کبھی بدعنوانی کا الزام نہیں لگا۔

اس مقدمے کی سماعت سندھ ہائی کورٹ کے دو رکنی بینچ جسٹس سمن رفعت اور جسٹس کے کے آغا نے کی، جس میں ایڈیشنل اٹارنی جنرل، ایڈووکیٹ جنرل سندھ اور جامعہ کراچی کے وکلاء بھی پیش ہوئے۔

واضح رہے کہ اسلام آباد ہائی کورٹ کی ویب سائٹ پر موجود جسٹس جہانگیری کے پروفائل کے مطابق انہوں نے1991 میں اسلامیہ لاء کالج (جامعہ کراچی سے الحاق شدہ) سے قانون کی ڈگری حاصل کی تھی۔

یاد رہے کہ مارچ 2024 میں جسٹس جہانگیری سمیت اسلام آباد ہائی کورٹ کے چھ ججوں نے سپریم جوڈیشل کونسل کو خط لکھ کر انٹیلی جنس ایجنسیوں خصوصاً آئی ایس آئی پر عدالتی معاملات میں مداخلت کے سنگین الزامات لگائے تھے۔

اسی خط کے بعد ایک شہری نے جامعہ کراچی میں پٹیشن دائر کی تھی، جس میں آئین کے آرٹیکل 19 اور سندھ ٹرانسپیرنسی اینڈ رائٹ ٹو انفارمیشن ایکٹ 2016 کے تحت جسٹس جہانگیری کا تعلیمی ریکارڈ فراہم کرنے کی درخواست کی گئی تھی۔

جسٹس جہانگیری اسلام آباد ہائی کورٹ کے اس تین رکنی بینچ کا بھی حصہ رہے ہیں جس نے سابق وزیراعظم عمران خان کو کاغذات نامزدگی میں ٹیریان وائٹ کو بیٹی ظاہر نہ کرنے پر نااہل قرار دینے کی درخواست مسترد کی تھی۔