پاکستان کی ڈیجیٹل معیشت کو ناقص انٹرنیٹ سروسز اور کمزور موبائل سگنلز کی وجہ سے شدید مشکلات کا سامنا ہے، جس کی بنیادی وجوہات بین الاقوامی سب میرین کیبل سسٹمز میں خلل اور موبائل نیٹ ورک میں مناسب سرمایہ کاری نہ ہونا ہیں۔ ٹیلی کام اور آئی ٹی سیکٹر کے ماہرین نے اس مسئلے کے حل کے لیے ایک عملی، مربوط اور فعال قومی پالیسی کی ضرورت پر زور دیا ہے۔
وائرلیس اینڈ انٹرنیٹ سروس پرووائیڈرز ایسوسی ایشن آف پاکستان کے چیئرمین شہزاد ارشد کے مطابق یہ طویل عرصے سے نظرانداز کیا جانے والا مسئلہ پاکستان کی کنیکٹیویٹی کی نازک صورتحال کو ظاہر کرتا ہے۔
انہوں نے بزنس ریکارڈر سے گفتگو میں کہا کہ کہ گیٹ ویز میں مقابلے کی کمی، سب میرین کیبلز پر زیادہ انحصار اور قومی پالیسی کی کمزوری کی وجہ سے بار بار رکاوٹیں پیدا ہورہی ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ فوری اصلاحات کے بغیر پاکستان کی ڈیجیٹل معیشت متاثر ہوگی جس کا اثر کاروبار، تعلیم، صحت اور قومی سلامتی پر پڑے گا۔
مسئلے کی بنیادی وجوہات کو سمجھنا
ذرائع کے مطابق یمن کے ساحل کے قریب کم از کم چار یا پانچ کیبلز متاثر ہوئی ہیں جن میں ریڈ سی کے نزدیک ایس ایم ڈبلیو 4 اور آئی ایم ای وی ای سسٹمز شامل ہیں اور ان کی مرمت میں دو ہفتے تک کا وقت لگ سکتا ہے۔
اس وقت پاکستان کو جوڑنے والے آٹھ بین الاقوامی سب میرین کیبل سسٹمز ہیں: ایس ایم ڈبلیو3، ٹی ڈبلیو1، آئی ایم ای ڈبلیو ای، اے اے ای۔1، پی ای اے سی ای، ایس ایم ڈبلیو5، ایس ایم ڈبلیو4 اور اورینٹ ایکسپریس۔
اس وقت تین بین الاقوامی گیٹ ویز وہ فزیکل اور منطقی انفرااسٹرکچر جو کسی ملک کے مقامی انٹرنیٹ نیٹ ورکس کو عالمی انٹرنیٹ سے جوڑتا ہے ملک کو خدمات فراہم کررہے ہیں: PIE (پاکستان انٹرنیٹ ایکسچینج)، TW1 (ٹرانس ورلڈ ایسوسی ایٹس)، اور PEACE (پاکستان ایسٹ افریقہ کنیکٹنگ یورپ)۔
یہ گیٹ ویز اور کیبلز تقریباً تمام بین الاقوامی انٹرنیٹ ٹریفک کو لے کر جاتے ہیں، جو انہیں پاکستان کی کنیکٹیویٹی اور معیشت کی شہ رگ بناتے ہیں۔
شہزاد ارشد نے کہا کہ پاکستان کو متبادل راستوں، مقامی انٹرنیٹ ایکسچینجز اور سیٹلائٹ بیک اپس میں سرمایہ کاری کرنی چاہیے اور حکومت، ریگولیٹر اور نجی شعبے کے درمیان مربوط حکمت عملی اپنانی چاہیے۔ کراچی، لاہور، فیصل آباد اور راولپنڈی/اسلام آباد جیسے شہروں کے لیے ایمرجنسی کیپیسٹی محفوظ کرنی ضروری ہے تاکہ سروس میں تسلسل برقرار رہے۔
حکومت کی جانب سے عملی قدم اٹھانے میں کمی
انہوں نے مزید کہا کہ حکومت جان بوجھ کر مسئلے کو نظر انداز نہیں کر رہی، مگر ملک میں فعال قومی ڈیجیٹل پالیسی کی کمی ہے، اور ٹیلی کام انفرااسٹرکچر میں آفات سے نمٹنے کی منصوبہ بندی محدود ہے۔ کمزور موبائل سگنلز کی وجہ سے سروس پرووائیڈرز بڑھتی ہوئی بینڈوڈتھ قیمتوں، بھاری ٹیکسوں اور طویل مدتی سرمایہ کاری کی کمی کا سامنا کر رہے ہیں۔
منافع کو نیٹ ورک اپگریڈز میں دوبارہ سرمایہ کاری کرنے کے بجائے، زیادہ تر کمپنیاں اخراجات پورا کرنے کے لیے قیمتوں میں تبدیلیوں پر انحصار کرتی ہیں۔ اسی دوران، لوگوں کی خریداری کی طاقت بھی کم ہو گئی ہے۔ کال پیکیجز کی مقبولیت کم ہوئی کیونکہ لوگ اخراجات کم کرنے کے لیے واٹس ایپ اور اسی طرح کے ذرائع استعمال کرنا پسند کرتے ہیں۔ مضبوط ریگولیشن اور صارفین کے تحفظ کے قوانین آپریٹرز پر لازم کریں کہ وہ ٹیرف بڑھانے سے پہلے معیار بہتر کریں۔
ٹیلی کام اور آئی ٹی سیکٹر کے ماہر اور تجزیہ کار پرویز افتخار نے کہا کہ موبائل سروس ناقص ہے کیونکہ آپریٹرز انفرااسٹرکچر میں سرمایہ کاری نہیں کر رہے۔ ان کے بقول اس کی دو وجوہات ہو سکتی ہیں: ملک میں کاروبار کرنے میں سہولت کی کمی اور بہت زیادہ ٹیکس کا بوجھ۔
یہ اس لیے بھی ہے کہ پاکستان میں فی صارف اوسط آمدنی دنیا میں سب سے کم ہے۔ ایک طرف یہ صارفین کے لیے فائدہ مند ہے لیکن دوسری طرف سرمایہ کاروں کے لیے نقصان دہ ہے۔ یہ ایک ریگولیٹری مسئلہ ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ گزشتہ تین سال کے دوران ملک میں بڑھتی ہوئی مہنگائی کے ساتھ موبائل سروس پیکیجز کی قیمتیں ہم آہنگ نہیں ہوئیں۔ اگر کچھ کہا جائے تو قیمتیں بہت کم ہیں، جس سے سرمایہ کاروں کے پاس نیٹ ورکس میں دوبارہ سرمایہ کاری کے لیے کافی رقم نہیں بچتی۔
آئی ٹی برآمدات پر اثرات
اسی دوران، آئی ٹی اور ٹیلی کام کے ماہر ڈاکٹر نعمان احمد نے کہا کہ انٹرنیٹ کسی بھی ٹیکنالوجی سے متعلق کاروبار کی ریڑھ کی ہڈی ہے اور یہ اس وقت خاص طور پر اہم ہے جب پاکستان کی آئی ٹی اور آئی ٹی سے متعلقہ خدمات کی برآمدات میں اضافہ ہو رہا ہے۔
سست انٹرنیٹ اس سخت محنت سے حاصل شدہ رفتار میں کلائنٹس کا اعتماد کم کر سکتا ہے۔ پاکستان کو 2024 میں انٹرنیٹ میں خلل سے ہونے والے سب سے زیادہ نقصانات کا تخمینہ تقریباً 1.6 ارب ڈالر لگایا گیا ہے۔ ٹیکنالوجی میں سرمایہ کاری اور کنیکٹیویٹی کے مسائل کے باعث سرمایہ کاری محدود رہی ہے اور بعض اوقات یہ ڈیٹا کی رازداری پر بھی اثر انداز ہوتا ہے۔
ملک کی ضروریات کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ یہ حقیقت کہ خاندان اور چھوٹے و درمیانے درجے کے کاروبار متعدد کنکشنز کے لیے ادائیگی کرتے ہیں خود ایک غیر مؤثر نظام کی نشاندہی کرتی ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ مستحکم، تیز اور شفاف انداز میں ناپا جانے والا انٹرنیٹ کوئی عیش و آرام نہیں بلکہ یہ پاکستان کے برآمدی شعبے کا انجن روم اور براہِ راست غیر ملکی سرمایہ کاری کے لیے لازمی شرط ہے۔
ان کی سفارشات یہ ہیں کہ انٹرنیٹ کی بندش اور سست روی کو معاشی خطرات کے طور پر دیکھا جائے؛ بینڈوڈتھ میں شفافیت کو نافذ کیا جائے اور ایسا مضبوط نظام بنایا جائے تاکہ ہمارے کاروباری افراد اور انجینئر عالمی سطح پر مقابلہ کر سکیں۔ کنیکٹیویٹی آج کی مسابقت کی نئی کرنسی ہے۔
آئی ٹی ایکسپورٹر اور ہیگزا لائز کے سی ای او سعد شاہ نے کہا کہ سست انٹرنیٹ پچھلے کئی ہفتوں سے کاروبار کے تسلسل اور اعتبار کو متاثر کررہا ہے جس سے غیر ملکی کلائنٹس کے لیے کام کرنے والے پیشہ ور افراد کو مشکلات کا سامنا ہے۔
آئی ٹی کمپنیاں، اسٹارٹ اپس اور فِن ٹیک آپریٹرز نے اپنے عملے، بشمول خواتین اور معذور پیشہ ور افراد کے لیے سہولت فراہم کرنے کے لیے ہائبرڈ ورکنگ ماڈل اپنایا ہے، تاہم بہت سی کمپنیاں اپنے عملے کو گھر پر دستیاب خراب انٹرنیٹ سروس کی وجہ سے پرانے ماڈل پر واپس نہیں جارہیں۔
انہوں نے یہ بھی بتایا کہ فری لانسرز، ریموٹ کارکنان اور مختلف مضامین کے طلبہ جو موبائل انٹرنیٹ سروسز پر انحصار کرتے ہیں، وہ بھی کنکٹوٹی کے مسائل کا سامنا کررہے ہیں جس سے ان کا وقت ضائع ہو رہا ہے اور مشکلات پیدا ہورہی ہیں۔