شاہین آفریدی، حارث رؤف کی شاندار کارکردگی، پاکستان اور بھارت پہلی بار ایشیا کپ فائنل میں آمنے سامنے
پاکستان نے جمعرات کو دبئی میں سنسنی خیز مقابلے میں بنگلہ دیش کو 11 رنز سے شکست دے دی، 135 کے معمولی اسکور کا کامیابی سے دفاع کرتے ہوئے روایتی حریف بھارت کے خلاف ایشیا کپ فائنل میں جگہ بنا لی ہے۔
یہ فتح پاکستان کے فاسٹ بولرز کی شاندار کارکردگی کی مرہون منت رہی، جنہوں نے بیٹنگ لائن کے ابتدائی ناکامی کے بعد ذمہ داری سنبھالی اور ٹیم کو کامیابی دلائی۔
شاہین شاہ آفریدی نے نئی گیند کے ساتھ ابتدا ہی میں دباؤ قائم کر دیا، پرویز حسین ایمان کو صفر پر آؤٹ کیا اور پھر توحید ہری دَوئے کو پویلین بھیج کر بنگلہ دیش کو 23 رنز کے اسکور پر دو کھلاڑی آؤٹ کرکے مشکلات میں ڈال دیا۔ انہوں نے بعد ازاں شمیم حسین (30) کی قیمتی وکٹ حاصل کی اور چار اوورز میں صرف 17 رنز کے عوض تین کھلاڑیوں کو آؤٹ کرکے شاندار کارکردگی کا مظاہرہ کیا۔
دوسری جانب حارث رؤف نے درمیانے اور اختتامی اوورز میں بھرپوررفتار اور جارحآنہ بولنگ کے ذریعے کھیل کا رخ موڑ دیا۔ انہوں نے اپنے اسپیل کے آغاز میں سیف حسن (18) کو آؤٹ کیا اور پھر لگاتار اوورز میں تنظیم حسن ثاقب اور تسکین احمد کو پویلین کی راہ دکھائی۔ ان کے 33 رنز کے عوض تین وکٹوں میں 18ویں اوور میں دو اہم شکار شامل ہیں، جنہوں نے بنگلہ دیش کے نچلے آرڈر کی مزاحمت ختم کر دی۔
نوجوان صائم ایوب نے بھی بولنگ کے محآذ پراہم کردار ادا کیا، شاندار بولنگ کے ذریعے نورالحسن اور کپتان جاکر علی کو آؤٹ کرتے ہوئے صرف 16 رنز دے کر دو وکٹیں حاصل کیں۔ محمد نواز نے درمیانی اوورز میں نپی تلی بولنگ کرتے ہوئے ایک وکٹ لی اور رنز کی رفتار کو قابو میں رکھا۔
شمیم حسین کی مزاحمتی 30 رنز کی اننگز اور رشاد حسین کی آخری لمحات میں 11 گیندوں پر ناقابلِ شکست 16 رنز کی کاوش کے باوجود بنگلہ دیش اپنے 20 اوورز میں 9 وکٹوں کے نقصان پر 124 رنز تک محدود رہا اور ہدف سے 11 رنز پیچھے رہ گیا۔
اس سے قبل پاکستان کی بیٹنگ مشکلات کا شکار رہی اور آٹھ اوورز میں ہی صرف 33 رنز پر چار وکٹیں گر گئیں۔ تاہم محمد حارث (31)، نواز (25) اور آفریدی (19) کی مختصر مزاحمتی اننگز نے ٹیم کو 8 وکٹوں کے نقصان پر135 رنز تک پہنچایا، جو بظاہر ناکافی اسکور دکھائی دیتا تھا مگر فیصلہ کن ثابت ہوا۔
تسکین احمد (3-28)، رشاد حسین (2-18) اور مہدی حسن (2-28) پہلی اننگز میں بنگلہ دیش کے نمایاں باؤلر رہے۔
اس سنسنی خیز کامیابی کے ساتھ پاکستان نے نہ صرف غیر یقینی بیٹنگ کارکردگی کے باوجود میچ بچایا بلکہ اپنے فاسٹ باؤلرز کی دھاک بھی منوائی۔ اب قومی ٹیم اتوار کو ایشیا کپ کے ہائی وولٹیج فائنل میں بھارت کے خلاف میدان میں اترے گی۔