کے۔ الیکٹرک کے بورڈ آف ڈائریکٹرز نے 23 ستمبر 2025ء کو منعقدہ اجلاس میں 30 جون 2024ء کو ختم ہونے والے مالی سال کے لیے کمپنی کے مالی نتائج کی منظوری دے دی ہے۔
مالی سال 2024 میں پاکستان کی معیشت مجموعی طور پر سست روی کا شکار رہی اور معاشی سرگرمیوں میں معمولی بہتری دیکھنے میں آئی۔ حقیقی جی ڈی پی کی شرح نمو 2.51 فیصد رہی جبکہ افراط زر اور مونیٹری پالیسی کی شرح بدستور بڑے چیلنج کے طور پر موجود رہے۔ یہ عوامل مالی سال 2024 میں مشکل کاروباری ماحول کا باعث بنے، جس کا دباؤ توانائی کے شعبے، بالخصوص کمپنی پر نمایاں رہا۔ صارفین پر بڑھتے ہوئے ٹیرف اور مہنگائی کے اثرات نے کمپنی کے آپریشنل چیلنجز اور ریگولیٹری اہداف کے حصول کو متاثر کیا۔ چیلنجز کے باوجود ان پہلوؤں کو مستقبل میں بہتری اور استحکام کے لیے ادارے کی تواجہ قرار دیا گیا ہے۔
ان مشکلات کی وجہ AT&C نقصانات میں 1.8 فیصد پوائنٹس کا اضافہ ریکارڈ کیا گیا جو ماضی کی معاشی رکاوٹوں کے دیرپا اثرات کی عکاسی کرتا ہے۔ مالی سال 2024 میں کے۔الیکٹرک کو 4.13 ارب روپے کا بعد از ٹیکس منافع ہوا جو ایکویٹی پر 3.56 فیصد اور پراپرٹی، پلانٹ اور ایکوپمنٹ (پی پی ای) پر 0.87 فیصد منافع کے برابر ہے۔ مستقبل کے پیش نظر کے۔الیکٹرک اپنی آپریشنل کارکردگی کو مستحکم بنانے اور شراکت داروں کے لیے قدر پیدا کرنے کے لیے ویلیو چین میں طویل مدتی سرمایہ کاری کے لیے پُرعزم ہے۔
کے۔ الیکٹرک نے 900 میگاواٹ کے بی کیو پی ایس III پلانٹ کو اپنے فِلیٹ میں شامل کرنے کے ساتھ ساتھ اگست 2023 میں 49.5 فیصد (HHV) کی بلند فِلیٹ گراس ایفیشنسی حاصل کی اور مالی سال 2024 کے دوران حد درجہ 3550 میگاواٹ کی ترسیل ممکن بنائی۔
مزید برآں مالی سال 2024 کے دوران کے۔الیکٹرک کی ٹرانسمیشن صلاحیت میں اضافہ ہوا۔ دھابیجی2، ڈی ایچ اے4 اور کورنگی ایسٹ گرڈز پر نئے 40 ایم وی اے پاور ٹرانسفارمرز نصب کیے گئے، جس کے نتیجے میں ٹرانسفارمیشن کی مجموعی صلاحیت بڑھ کر مالی سال 2024 کے اختتام تک 7095 ایم وی اے تک پہنچ گئی۔
اسی عرصے کے دوران حکومتِ پاکستان کی ہدایات کے مطابق نیشنل گرڈ سے بجلی کے حصول میں اضافہ اور نظام میں موجود زائد استعداد کے استعمال کے لیے نمایاں پیش رفت ہوئی۔ اس ضمن میں دو بڑے انٹرکنکشن منصوبے، 500 کے وی کا کے کے آئی (نومبر 2024) منصوبہ اور 220 کے وی کا دھابیجی2 (مارچ 2025) کا منصوبہ بھی کامیابی سے مکمل کیے گئے۔ مزید یہ کہ نیشنل گرڈ کمپنی کی جانب سے K2/K3 تا PQEPCL سرکٹ پر کام مکمل ہونے کے بعد کے۔الیکٹرک کی نیشنل گرڈ سے بجلی کے حصول کی صلاحیت اگست 2025 سے بڑھ کر تقریباً 2000 میگاواٹ تک پہنچ گئی ہے۔
یہ انٹرکنکشن کے۔الیکٹرک کی قومی توانائی وسائل تک رسائی کی صلاحیت میں ایک اہم پیش رفت ہے، جن کے ذریعے انٹرکنکشن کی استعداد میں نمایاں اضافہ اور گرڈ کے استحکام میں بہتری دیکھنے میں آئی۔
ڈسٹری بیوشن کے شعبے میں، ٹیرف میں نمایاں اضافہ اور افراطِ زر کی شرح کے دباؤ نے صارفین کی ادائیگی کی صلاحیت کو متاثر کیا، جس کے نتیجے میں ریکوری ریشو مالی سال 2024 میں کم ہوکر 91.5 فیصد رہا، جو گزشتہ سال اسی عرصے میں 92.8 فیصد تھا۔ بڑھتے ہوئے آپریشنل دباؤ سے نمٹنے کے لیے نیٹ ورک گورننس کو مزید موثر بنانے کے ساتھ انسدادِ بجلی چوری مہم کو تیز کیا گیا۔ 3 لاکھ 50 ہزار کلوگرام سے زائد غیرقانونی کنڈے ہٹائے گئے اور بجلی چوری کی روک تھام کے لیے تقریباً 30 ہزار کارروائیاں کی گئیں۔
پالیسی سازوں کی جانب سے معیشت کے استحکام کے لیے جاری اقدامات اور مالی سال 2025 میں مثبت معاشی پیش رفت کے پیش نظر توقع ہے کہ بہتر ہوتے ہوئے معاشی عوامل مستقبل میں کے۔الیکٹرک کی کارکردگی کو مزید مستحکم بنائیں گے۔ اسی دوران، کے۔الیکٹرک کی نیٹ ورک گورننس اور بجلی چوری کے خلاف اقدامات، ساتھ ہی اضافی علاقوں کی بجلی فراہمی کے لیے نیٹ ورک کی توسیع، پچاس ہزار سستی لاگت میٹروں کی تنصیب اور سال بھر جاری ریکوری کیمپس کے ذریعے اس کی کارکردگی میں بہتری آئے گی۔
کے۔الیکٹرک اپنے تمام شراکت داروں کے ساتھ تعاون کے لیے پُرعزم ہے تاکہ اہم معاملات کے حل اور منظور شدہ سرمایہ کاری کے منصوبے پر عملدرآمد کو یقینی بنایا جا سکے، جس سے نہ صرف صارفین کو بہتر سہولتیں میسر آئیں گی بلکہ پاکستان کی معیشت کو بھی مجموعی طور پر فائدہ پہنچے گا۔
کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر 2025