پاکستانی صنعتی گروپ جے ڈبلیو گروپ نے اعلان کیا ہے کہ وہ روبو۔اے آئی انکارپوریٹڈ جو ایک نیسڈیک لسٹڈ ٹیکنالوجی کمپنی ہے کے ساتھ مل کر کمرشل وہیکل جوائنٹ وینچر (جے وی ) قائم کرے گا جس کا نام روبس (RoBUS) ہوگا۔

ایک بیان کے مطابق اس مشترکہ منصوبے کا صدر دفتر متحدہ عرب امارات (UAE) میں ہوگا۔ روبو ڈاٹ اے آئی نے NIO، Ford اور Volvo کے سابق سینئر ایگزیکٹو ریور ژانگ کو روبو ڈاٹ اے آئی کا چیف انڈسٹریل آفیسر اور روبس کا صدر بھی مقرر کیا ہے۔

روبس کا ارادہ ہے کہ وہ مشرق وسطیٰ، افریقہ، اور جنوب مشرقی ایشیا کے لیے مقامی قوانین اور صارفین کی ضروریات کے مطابق حسب ضرورت مصنوعات تیار کرے۔

اس مشترکہ منصوبے کے تحت روبو ڈاٹ اے آئی کیپیٹل مارکیٹ سپورٹ، برانڈ کی تشکیل کا تجربہ اور مشرقِ وسطیٰ اور عالمی سطح پر مارکیٹ میں توسیع میں سہولت فراہم کرے گا۔ دوسری جانب، جے ڈبلیو گروپ اپنی بیرون ملک سہولیات کے ذریعے مینوفیکچرنگ کی صلاحیت اور 400 سے زائد ڈسٹری بیوٹرز کے نیٹ ورک کے ذریعے مارکیٹ تک رسائی فراہم کرے گا۔

جے ڈبلیو گروپ کے چیف ایگزیکٹو آفیسر جاوید آفریدی نے کہا کہ روبس کے قیام سے گرین اور اسمارٹ کمرشل گاڑیوں کے استعمال کو تیز رفتاری ملے گی۔ مشترکہ انٹیلیجینٹ مینوفیکچرنگ پلیٹ فارم قائم کر کے ہم روبو ڈاٹ اے آئی کے ساتھ مل کر ایک انتہائی مؤثر کمرشل گاڑیوں کا حب بنانے کے منتظر ہیں جو عالمی مارکیٹوں کی خدمت کرے گا۔

دریں اثنا روبس کے صدر ریور ژانگ نے کہا کہ روبس کا قیام متحدہ عرب امارات کے قومی وژنWe the UAE 2031 کی حمایت کرنے والا ایک کلیدی اقدام ہے۔

انہوں ن کہا کہ روبو ڈاٹ اے آئی کی جانب سے حال ہی میں ایک ڈیپن ٹیکنالوجی کمپنی ارکرین میں سرمایہ کاری کے بعد، ہماری اسمارٹ گاڑیاں نہ صرف گرین موبیلٹی کی حامل ہیں بلکہ مستقبل کے ایسے اثاثے بھی ہیں جو ذہین اقتصادی نظام میں آسانی سے ضم ہو جائیں گی۔

جے ڈبلیو گروپ مشرق وسطیٰ اور جنوبی ایشیا کا ایک نمایاں صنعتی گروپ ہے، جس کے کاروبار میں آٹوموبائل، گھریلو آلات، توانائی اور رئیل اسٹیٹ شامل ہیں۔ اس کی آٹوموبائل اور الیکٹریکل مینوفیکچرنگ کی فیکٹریوں میں اسمبل کی مکمل سہولتیں موجود ہیں اور ایک عالمی فروخت نیٹ ورک قائم ہے۔

جبکہ روبو ڈاٹ اے آئی ایک ٹیکنالوجی کمپنی ہے جو عالمی سطح پر اے آئی سے مربوط روبوٹکس پلیٹ فارم بنانے کے لیے وقف ہے۔ اس کا مقصد اسمارٹ موبیلیٹی، اسمارٹ سٹیز اور اسمارٹ اثاثوں کو ایک متحدہ مصنوعی ذہانت کے آپریٹنگ سسٹم اور بلاک چین سے مربوط ایکو سسٹم میں ضم کرنا ہے تاکہ ذہین طرزِ زندگی کا مستقبل ممکن بنایا جاسکے۔