رواں مالی سال کے ابتدائی دو ماہ (جولائی، اگست)کے دوران پاکستان کی آئی ٹی برآمدات میں 18 فیصد اضافہ ہوا، جو بڑھ کر 691 ملین ڈالر تک جا پہنچیں۔ اسٹیٹ بینک کے مطابق گزشتہ سال اسی مدت میں برآمدات 584 ملین ڈالر رہیں تھیں۔

یہ شعبہ ٹیکسٹائل اور چاول کے بعد ملک کا تیسرا بڑا برآمدی شعبہ ہے جبکہ خدمات کی برآمدات میں اس کا حصہ سب سے زیادہ ہے۔

پاکستان سافٹ ویئر ہاؤسز ایسوسی ایشن (پاشا)کے سینئر نائب چیئرمین محمد عمیر نظام کے مطابق، آئی ٹی ایکسپورٹرز نہ صرف برآمدی آمدنی میں اضافہ کر رہے ہیں بلکہ ملک کے کرنٹ اکاؤنٹ اور مجموعی معاشی اشاریوں کو بھی سہارا دے رہے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ آئی ٹی برآمد کنندگان وزارتِ انفارمیشن ٹیکنالوجی و ٹیلی کمیونی کیشن کے پلیٹ فارم کے تحت برآمدات بڑھانے کے لیے بھرپور سرگرم ہیں اور مجموعی معیشت کے استحکام میں اپنے کردار کو تسلیم کر چکے ہیں۔

انہوں نے حکومت پر زور دیا کہ برآمدات میں اضافے اور طویل المدتی اہداف کے حصول کے لیے معاون پالیسیاں جاری رکھی جائیں، تاہم یہ بھی واضح کیا کہ آئی ٹی شعبہ اب بھی کئی چیلنجز کا شکار ہے جنہیں فوری حل کرنے کی ضرورت ہے۔

ماہرین کے مطابق شعبے کی مستحکم کارکردگی کا سہرا حکومت کی جانب سے روایتی اور نئی منڈیوں تک رسائی میں دی گئی معاونت کو جاتا ہے۔ اس کے علاوہ، آئی ٹی ایکسپورٹرز کی امریکہ، برطانیہ، یورپی ممالک اور خلیجی تعاون کونسل (جی سی سی) کے خطے میں عالمی سطح کی ٹیکنالوجی و تجارتی نمائشوں اور روڈ شوز میں شمولیت بھی مثبت نتائج دے رہی ہے۔

وزارت اور بینکاری ریگولیٹر کی جانب سے فراہم کردہ مراعات اور مالی اقدامات نے بھی برآمدی آمدنی بڑھانے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔

پاکستان فری لانسرز ایسوسی ایشن (پی اے ایف ایل اے)کے چیئرمین ابراہیم امین نے کہا کہ برآمدات میں اضافے کے لیے فری لانسرز کا کردار نہایت اہم ہے۔

ان کے مطابق مختلف اداروں اور این جی اوز کے جاری تربیتی و استعداد بڑھانے کے پروگرام فری لانسرز کی تعداد میں نمایاں اضافہ کر رہے ہیں۔

آئی ٹی ایکسپورٹر نعمان احمد سعید نے کہا کہ برآمدات کے ہدف کو حاصل کرنے کے لیے ماہانہ آمدنی کو 400 سے 450 ملین ڈالر تک بڑھانا ضروری ہے تاکہ رواں مالی سال میں 5 ارب ڈالر کے ہدف تک پہنچا جا سکے، جو ان کے مطابق آئندہ مہینوں میں باآسانی ممکن ہے۔

انہوں نے کہا کہ اگرچہ اے آئی ٹولز مددگار ثابت ہو رہے ہیں لیکن یہ آئی ٹی کمپنیوں اور فری لانسرز کے کاروبار کے لیے نئے چیلنجز بھی پیدا کر رہے ہیں۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ آئی ٹی کمپنیاں اور فری لانسرز کو اپنی حکمتِ عملی اور مہارتوں کو بہتر بنانے کے ساتھ ساتھ غیر ملکی منڈیوں میں بڑے منصوبوں کے لیے مشترکہ منصوبہ بندی اور تعاون پر بھی توجہ دینی چاہیے۔

انہوں نے تجویز دی کہ حکومت اپنی حکمتِ عملی پر نظرِ ثانی کرے اور آئی ٹی برآمدکنندگان کے ساتھ قریبی تعاون کرے تاکہ اہداف حاصل کیے جا سکیں۔

ان کے مطابق حکومت جہاں ممکن ہو کم لاگت حل فراہم کرے، طویل المدتی وژن کے ساتھ ریگولیٹری ماحول مہیا کرے اور مؤثر مالیاتی نظام ترتیب دے۔