پاکستان

اوچھے ہتھکنڈوں سے جنگ کے زخم نہیں بھریں گے، پاکستان کی بھارت پر کرکٹ میں سیاست چمکانے پر کڑی تنقید

  • امید ہے آئندہ فتوحات تمام ٹیمیں وقار اور شائستگی کے ساتھ منائیں گی، محسن نقوی
شائع اپ ڈیٹ

پاکستانی حکام نے بھارتی کھلاڑیوں کو سخت تنقید کا نشانہ بنایا ہے جنہوں نے کھیل کو سیاست سے جوڑتے ہوئے اتوار کو دبئی کرکٹ اسٹیڈیم میں ایشیا کپ 2025 کے گروپ اے میچ میں فتح کے بعد پاکستانی کھلاڑیوں سے ہاتھ ملانے سے انکار کر دیا۔

تقریبِ تقسیم انعامات سے خطاب کرتے ہوئے بھارتی کپتان سوریہ کمار یادو نے یہ فتح اپنی مسلح افواج اور پہلگام حملے کے متاثرین کے نام کی، جس کا الزام بھارت نے پاکستان پر لگایا ہے، حالانکہ اسلام آباد بارہا مکمل تعاون اور غیر جانبدار تحقیقات کی پیشکش کر چکا ہے تاکہ اس فالس فلیگ کے دہشت گرد حملے کی حقیقت سامنے آسکے جو رواں سا مقبوضہ جموں و کشمیر میں ہوا تھا۔

اس کے بعد بھارتی افواج نے پاکستان کی شہری آبادی کو بھی نشانہ بنایا، تاہم پاک افواج کے بھرپور جواب نے بھارت کو ناکام بنا دیا۔

مئی میں ہونے والی ان جھڑپوں میں میزائل، ڈرون اور توپوں سے حملوں کے تبادلے کے نتیجے میں 70 سے زائد افراد جاں بحق ہوئے، جس کے بعد امریکی ثالثی میں جنگ بندی کرائی گئی۔

سوریہ کمار نے کہا کہ ہم پہلگام دہشت گرد حملے کے متاثرہ خاندانوں کے ساتھ کھڑے ہیں اور اپنی یکجہتی کا اظہار کرتے ہیں،۔ ہم آج کی فتح اپنی مسلح افواج کے نام کرتے ہیں۔

یہ بیان اس وقت سامنے آیا جب بھارت نے پاکستان کو سات وکٹوں سے شکست دے دی۔ یہ ہمسایہ ممالک کے درمیان مئی کی فوجی کشیدگی کے بعد کرکٹ کے میدان میں پہلا ٹکراؤ تھا۔

اس حوالے سے پاکستان کرکٹ بورڈ (پی سی بی) کے چیئرمین اور ایشین کرکٹ کونسل (اے سی سی) کے صدر محسن نقوی نے کہا کہ آج کھیل کے جذبے کی بدترین کمی دیکھنے کو ملی۔ کھیل میں سیاست کو گھسیٹنا کھیل کی روح کے منافی ہے، انہوں نے مزید کہا کہ امید ہے کہ آئندہ فتوحات تمام ٹیمیں وقار کے ساتھ منائیں گی۔

۔

وزیر دفاع خواجہ آصف نے حیرت کا اظہار کیا کہ ٹیم انڈیا کرکٹ کو اتنے نچلے درجے پر کیسے لے آئی۔ انہوں نے ایکس پر لکھا کہ حال ہی میں بھارت کو جھڑپوں میں جو منہ کی کھانی پڑی اور بین الاقوامی سطح پر جو رسوائی ہوئی، اسے اس طرح کے گھٹیا اور چھوٹی سوچ کے حربوں سے چھپایا نہیں جا سکتا۔

۔

انہوں نے مزید کہا کہ پاک افواج کے ہاتھوں لگنے والے زخم اور بھارتی فضائیہ (آئی اے ایف) کے طیاروں، جن میں جدید رافیل بھی شامل تھے، کے نقصان کا مداوا ایسے اوچھے ہتھکنڈوں سے ممکن نہیں۔

میچ کے بعد پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے پاکستان کے ہیڈ کوچ مائیک ہیسن نے بھی بھارتی کھلاڑیوں کے رویے پر مایوسی کا اظہار کیا۔

۔

مائیک ہیسن نے کہا ہم آخر میں ہاتھ ملانے کے لیے تیار تھے۔ ہمیں مایوسی ہوئی کہ ہمارے حریف نے ایسا نہیں کیا۔ ہم ہاتھ ملانے گئے لیکن وہ پہلے ہی ڈریسنگ روم جا چکے تھے۔ یہ میچ ختم ہونے کا ایک افسوسناک طریقہ تھا۔

سابق وکٹ کیپر کپتان راشد لطیف نے بھارت کے رویے پر انٹرنیشنل کرکٹ کونسل (آئی سی سی) کے کردار پر سوال اٹھایا۔ انہوں نے کہا ہاتھ نہ ملانا مین ان بلو کے اصل چہرے کو ظاہر کرتا ہے۔

راشد لطیف نے ٹویٹ کیا کہ ہاں آپ انڈیا کرکٹ ہیں، ہاں آپ دنیا کی بہترین ٹیم ہیں… لیکن میچ کے بعد ہاتھ نہ ملانا آپ کا اصل رنگ دکھاتا ہے!!! پاکستانی کھلاڑی انتظار کر رہے تھے لیکن بھارتی کھلاڑی ڈریسنگ روم میں چلے گئے!! آئی سی سی کہاں ہے۔

۔

گلوکار اور میزبان فخرِ عالم نے بھی بھارتی ٹیم کو تنقید کا نشانہ بنایا اور کہا کہ جنگ اور کرکٹ کو الگ رکھنا چاہیے۔ کھیل کے میدان میں ہاتھ ملانا ایک باعزت روایت ہے۔

۔

دوسری جانب سینئر سیاستدان فواد چوہدری نے پاکستان کی ناقص کارکردگی کی نشاندہی کرتے ہوئے کہا کہ سابق کپتان بابر اعظم اور وکٹ کیپر بلے باز محمد رضوان کے بغیر ٹیم پاکستان عالمی مقابلوں کے لیے موزوں نہیں۔

۔

۔