پاکستان کی ورچوئل اثاثہ جات کے شعبے میں عالمی سرمایہ کاری کی دعوت، وی اے ایس پیز لائسنسنگ نظام متعارف
- یہ اقدام محفوظ اور جدید ورچوئل اثاثہ جات کے نظام کو باقاعدہ بنانے کی جانب ایک اہم پیش رفت ہے، وزارتِ خزانہ
پاکستان ورچوئل اثاثہ جات ریگولیٹری اتھارٹی (پی وی اے آر اے) نے ہفتے کے روز عالمی سطح پر معروف ایکسچینجز اور ورچوئل اثاثہ خدمات فراہم کرنے والے اداروں (وی اے ایس پیز) سے پاکستان کی ڈیجیٹل معیشت میں شمولیت کے خواہش مند اداروں کے لیے ”اظہارِ دلچسپی“ (ای او ایل) طلب کر لیا ہے۔ یہ بات وزارتِ خزانہ کے جاری کردہ بیان میں کہی گئی ہے۔
گزشتہ ماہ پی وی اے آر اے کے پہلے بورڈ اجلاس میں اسٹیٹ بینک آف پاکستان کی جانب سے 2018 میں عائد کردہ ورچوئل کرنسیوں پر پابندی کے خاتمے کے امکان پر غور کیا گیا، جبکہ مصنوعی ذہانت پر مبنی رسک مینجمنٹ، لائسنسنگ اور ریگولیٹری فریم ورک کے لیے روڈ میپ بھی مرتب کیا گیا۔
وزارتِ خزانہ کے بیان کے مطابق ”یہ اقدام ورچوئل اثاثہ جات کے ایک محفوظ، شفاف اور جدید نظام کی تشکیل اور ضابطہ بندی کی جانب ایک اہم پیش رفت ہے، جو فنانشل ایکشن ٹاسک فورس (ایف اے ٹی ایف)، آئی ایم ایف اور ورلڈ بینک کے بین الاقوامی معیارات سے ہم آہنگ ہے۔“
پاکستان کا ورچوئل اثاثہ مارکیٹ، جو 4 کروڑ سے زائد صارفین اور سالانہ 300 ارب ڈالر سے زیادہ کے تخمینی تجارتی حجم پر مشتمل ہے، دنیا کے متحرک ترین ابھرتے ہوئے شعبوں میں سے ایک تصور کیا جا رہا ہے۔
8 جولائی 2025 کو نافذ اور 9 جولائی کو سرکاری گزٹ میں شائع ہونے والے آرڈیننس کے تحت پی وی اے آر اے کو وی اے ایس پیز کے لائسنس، نگرانی اور ضابطہ بندی کا اختیار حاصل ہے، جس میں منی لانڈرنگ اور دہشت گردی کی مالی معاونت کی روک تھام، سائبر سیکیورٹی اقدامات کو یقینی بنانا، اور شریعت سے ہم آہنگ جدت کو ریگولیٹری سینڈ باکسز کے ذریعے فروغ دینا شامل ہے۔
پی وی اے آر اے کے چیئرمین اور وزیرِ مملکت برائے کرپٹو و بلاک چین بلال بن ثاقب نے کہا ہے کہ ”یہ اظہارِ دلچسپی دنیا کے ممتاز وی اے ایس پیز کو پاکستان کے شفاف اور ایسا ڈیجیٹل مالیاتی نظام جو تمام طبقات، خصوصاً کم آمدنی والے، خواتین، دیہی آبادی اور وہ افراد جو روایتی بینکاری نظام سے باہر ہیں، کو بھی برابر کے مواقع اور مالیاتی رسائی فراہم کرے، کی تعمیر میں شراکت کی دعوت ہے۔“
◼ اظہارِ دلچسپی (ای او آئی) ، کلیدی نکات🔹 اہلیت:
یہ درخواست ان ورچوئل اثاثہ خدمات فراہم کرنے والے اداروں (وی اے ایس پیز) اور ایکسچینجز کے لیے کھلی ہے:
جو کم از کم ایک بین الاقوامی دائرہ اختیار میں کام کر رہے ہوں
اور جہاں وہ درج ذیل میں سے کسی مجاز ریگولیٹری ادارے کے تحت لائسنس یافتہ ہوں:
امریکہ: ایس ای سی/ ایم ایس بی
برطانیہ: ایف سی اے
یورپی یونین: ای یو وی اے ایس پی
متحدہ عرب امارات: وی اے آر اے
سنگاپور: ایم اے ایس
نیز، ان کا آپریشنز اے ایم ایل/ سی ایف ٹی اور کے وائی سی کے تقاضوں سے ہم آہنگ ہو
مطلوبہ معلومات:
درخواست دہندگان کو درج ذیل تفصیلات فراہم کرنا ہوں گی:
ادارے کا جامع تعارف
لائسنس کی تفصیلات (ملک، مجاز ادارہ، لائسنس نمبر/تاریخ)
آپریشنز کا جائزہ (تجارتی و تحویلی خدمات، ٹیکنالوجی و سیکیورٹی اقدامات، اے یو ایم یا آمدنی کا حجم)
کمپلائنس کی سابقہ کارکردگی
پاکستان میں کاروباری دلچسپی اور مجوزہ ماڈلز
جمع کرانے کا طریقہ:
تمام دستاویزات پی ڈی ایف میں ای میل کے ذریعے بھیجی جائیں
ای میل پتہ: info@pvara.gov.pk
سبجیکٹ لائن:“ ای او ایل وی اے ایس پی لائسنسنگ- – [کمپنی کا نام]”
آخری تاریخ: ریکروٹنگ بنیاد (رولنگ بیسس)
پتہ:پاکستان ورچوئل اثاثہ جات ریگولیٹری اتھارٹی ( پی وی اے آر اے)ہیڈکوارٹر: سوئیٹ نمبر 12، گراؤنڈ فلور، ایویکیوی ٹرسٹ بلڈنگ، میریٹ ہوٹل کے بالمقابل، اسلام آباد
ادارہ جاتی پس منظر
پی وی اے آر اے ایک خودمختار وفاقی ادارہ ہے جسے پاکستان میں ورچوئل اثاثہ جات کی نگرانی، غیر قانونی مالی سرگرمیوں کی روک تھام، صارفین کے تحفظ، اور فِن ٹیک، ترسیلاتِ زر اور ٹوکنائزڈ اثاثوں میں ترقی کے مواقع پیدا کرنے کے لیے قائم کیا گیا ہے۔
حکومتی موقف
وفاقی وزیرِ خزانہ و محصولات محمد اورنگزیب نے گزشتہ ماہ ایک اجلاس سے خطاب میں کہا ہے کہ “ملک میں لاکھوں پاکستانی، بالخصوص نوجوان، پہلے ہی بلاک چین اور ڈیجیٹل اثاثہ جات سے وابستہ ہیں۔ ایسے میں ضروری ہے کہ پاکستان اس نئی معیشت کو اپناتے ہوئے مالی شمولیت، شفافیت اور کارکردگی کو فروغ دے، اور ایک متوازن ریگولیٹری فریم ورک کے ذریعے اس شعبے کو منظم کرے۔”