ماہرین نے پاکستان میں گوشت کی برآمدات پر پابندی لگانے اور ملک کے گوشت کی فراہمی کے نظام کو جدید بنانے کا مطالبہ کیا ہے تاکہ مقامی قیمتیں مستحکم ہوں اور غذائی تحفظ مضبوط ہو۔ انہوں نے جگہ صحت و معیار کے مطابق ریٹیل آؤٹ لیٹس قائم کرنے اور مویشیوں کی فارمنگ کو بہتر بنانے کی سفارش کی ہے تاکہ پیداوار اور معیار دونوں میں بہتری آئے۔

اعداد و شمار کے مطابق پاکستان کی گوشت اور خوردنی اعضاء کی برآمدات 2003 میں 14 ملین امریکی ڈالر سے بڑھ کر 2023 میں 467 ملین امریکی ڈالر تک پہنچ گئیں جو 18 فیصد سالانہ ترقی کی عکاسی کرتی ہیں، جبکہ مالی سال 2023–24 میں یہ برآمدات 511 ملین امریکی ڈالر تک جا پہنچی ہیں، یعنی 20 فیصد سالانہ اضافہ۔ عالمی حلال گوشت اور مویشیوں کی مارکیٹ تقریباً 200 بلین امریکی ڈالر کی ہے اور پوری حلال غذائی صنعت کا تخمینہ 2 سے 3 ٹریلین امریکی ڈالر کے درمیان لگایا گیا ہے۔

ڈاکٹر منصور احمد، جو پنجاب بیف اور بوچرز اسٹیک ریسٹورنٹ چلا رہے ہیں، نے کہا کہ بلا روک ٹوک برآمدات، بغیر مقامی طلب کے جائزہ کے، قیمتوں میں اضافے کی بڑی وجہ ہیں۔ انہوں نے مقامی طلب کا درست اندازہ لگانے اور صرف اضافی مقدار کی برآمد کی اجازت دینے پر زور دیا۔ انہوں نے قصابوں کی شریعت کے مطابق ذبیحہ اور جدید حفظانِ صحت کے معیار پر تربیت کی ضرورت پر بھی زور دیا۔

ان کے پارٹنر شہزاد یونس نے بتایا کہ ان کے گوشت کاٹنے کے طریقے بین الاقوامی معیار پر پورا اترتے ہیں اور عالمی حلال گوشت کا کاروبار اربوں روپے کا موقع فراہم کرتا ہے۔

ماہرین نے پنجاب فوڈ اتھارٹی کو جرمانے کے ادارے کے بجائے تعلیمی اور نگرانی کرنے والا ادارہ بنانے اور پوائنٹس پر مبنی تعمیل نظام متعارف کرانے کی تجویز دی، جبکہ یونیورسٹی آف ویٹرنری اینڈ اینیمل سائنسز کے تربیتی پروگرامز کو بھی سراہا۔

ڈاکٹر منصور نے کہا کہ 2030 تک کاروبار کو دس ملکی اور دو بین الاقوامی شاخوں تک بڑھانے کا منصوبہ ہے، لیکن اس کے لیے پورے نظام میں اصلاحات ناگزیر ہیں۔