پاکستان

فیلڈ مارشل عاصم منیر کا قصور سیکٹر اور جلال پور پیر والا ملتان میں ریلیف کیمپ کا دورہ، امدادی سرگرمیوں کا جائزہ لیا

  • ریاست ہر سال قیمتی جانوں اور املاک کے نقصان کی متحمل نہیں ہوسکتی، آرمی چیف
شائع September 13, 2025 اپ ڈیٹ September 13, 2025 01:36pm

چیف آف آرمی اسٹاف فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے سیلاب سے متاثرہ کمیونیٹیز کو درپیش چیلنجز سے نمٹنے میں سول اور عسکری اقدامات کے مربوط کردار کی اہمیت پر زور دیا۔

ان خیالات کا اظہار آرمی چیف نے قصور سیکٹر اور جلالپور پیر والا ملتان میں قائم فلڈ ریلیف کیمپ کے دورے کے دوران کیا جہاں وہ موجودہ سیلابی صورتحال اور جاری ریلیف اقدامات کا جائزہ لے رہے تھے۔

26 جون سے اب تک بارش اور سیلاب سے متعلق واقعات میں ملک بھر میں کم از کم 956 افراد جان کی بازی ہار چکے ہیں اور 1,062 دیگر زخمی ہوئے ہیں۔ نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (این ڈی ایم اے) کے مطابق، صرف ایک روز قبل پنجاب میں آٹھ اور سندھ میں دو افراد جاں بحق ہوئے۔

خیبر پختونخوا سب سے زیادہ متاثر ہوا ہے جہاں 504 افراد جان کی بازی ہار چکے ہیں، اس کے بعد پنجاب میں 268 افراد مارے گئے ۔

آئی ایس پی آر کے مطابق چیف آف آرمی اسٹاف فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے پاکستان آرمی کی عوامی فلاح کے تمام اقدامات کی حمایت کے لیے غیر متزلزل عزم کو دہرایا۔

ملکی انتظامیہ کے ساتھ تبادلۂ خیال کے دوران، آرمی چیف نے بہتر حکمرانی اور عوامی مرکزیت پر مبنی جامع ترقی کی اہمیت پر زور دیا۔

اس موقع پر انہیں متاثرہ علاقوں میں جاری ریسکیو اور ریلیف آپریشنز کی تفصیلات سمیت زمینی صورتحال پر تنصیلی بریفنگ دی گئی۔

انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ عوام کو بار بار آنے والے سیلاب کے تباہ کن اثرات سے بچانے کے لیے تمام ضروری اقدامات، بشمول بنیادی ڈھانچے کی ترقی، فوری طور پر کیے جائیں۔

فیلڈ مارشل نے آئی ایس پی آر کے حوالے سے کہا کہ ریاست ہر سال قیمتی جانوں اور املاک کے نقصان کا متحمل نہیں ہوسکتی۔

سیلاب سے متاثرہ افراد سے بات چیت کے دوران چیف آف آرمی اسٹاف نے انہیں رہائش اور بحالی کے عمل میں مسلسل تعاون کی یقین دہانی کرائی۔ متاثرہ افراد نے اس اہم موقع پر بروقت مدد فراہم کرنے پر پاکستان آرمی کا دل کی گہرائیوں سے شکریہ ادا کیا۔

فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے ریسکیو 1122 کے اہلکاروں، پولیس افسران اور ریلیف آپریشنز میں شامل فوجی دستوں سے بھی ملاقات کی۔ انہوں نے ان کے بلند حوصلے، عملی تیاری اور انتہائی مشکل حالات میں قوم کی خدمت کے لیے ثابت قدم عزم کو سراہا۔ انہوں نے سول انتظامیہ کے ساتھ قریبی ہم آہنگی کے ساتھ کیے جانے والے 24 گھنٹے جاری رہنے والے اقدامات کو بھی سراہا جن کے ذریعے عوام کو بروقت ریلیف اور امداد فراہم کی گئی۔

چیف آف آرمی اسٹاف نے لاہور-قصور اور ملتان-جلالپور پیر والا راستوں پر سیلاب سے متاثرہ علاقوں کا فضائی جائزہ بھی لیا تاکہ نقصان کے حجم اور جاری ریلیف اقدامات کا اندازہ لگایا جا سکے۔

سابق کرکٹ کپتان وسیم اکرم نے سیلاب سے متاثرہ افراد کی حفاظت کے لیے ریلیف اور ریسکیو کے اقدامات کرنے والے فوجی عملے اور امدادی کارکنوں کی تعریف کی۔ انہوں نے متاثرین کے لیے دعائیں بھی کیں اور ان کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کیا۔

سابق فاسٹ بولر نے اپنے ایکس اکاؤنٹ پر لکھا کہ پاکستان میں حالیہ موسلا دھار بارشیں اور اچانک آنے والے سیلاب واقعی دل دہلا دینے والے ہیں۔ میں ان خاندانوں کے ساتھ دلی ہمدردی کا اظہار کرتا ہوں جنہوں نے اپنے پیاروں کو کھو دیا۔ اس مشکل وقت میں، ہم تمام متاثرہ افراد کے ساتھ یکجہتی کا مظاہرہ کرتے ہیں۔

میں اپنے فوجی جوانوں اور امدادی کارکنوں کی انتھک کوششوں کو دل کی گہرائیوں سے سراہتا ہوں جو متاثرین تک پہنچ کر مدد کر رہے ہیں۔ میری دعائیں ہر اس شخص کے ساتھ ہیں جو بے گھر ہوا ہے اور دعا ہے کہ وہ جلد اپنے گھروں کو واپس لوٹ سکیں۔

دوسری جانب وزیراعظم شہباز شریف نے قومی ہنگامی امدادی ادارے اور وزارت موسمیاتی تبدیلی سمیت تمام متعلقہ وفاقی محکموں کو ہدایت کی ہے کہ وہ سیلاب سے متاثرہ افراد کو ہر ممکن تعاون فراہم کرنے کیلئے چوکس رہیں۔

انہوں نے سوشل میڈیا ایپ ایکس پر ایک پیغام میں کہا کہ اِس قدرتی آفت سے بڑی تباہی ہوئی ہے تاہم اِس کے باوجود کسانوں، مزدوروں، خواتین اور بچوں نے غیر معمولی ہمت کا مظاہرہ کیا ہے۔

وزیراعظم نے سیلاب زدہ علاقوں میں امدادی کارروائیوں میں وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز کی کوششوں اور خیبرپختونخوا‘ سندھ‘ گلگت بلتستان اور آزاد کشمیر کی قیادت کی انتھک محنت و عزم کو بھی سراہا۔

پاک بحریہ کا ریلیف آپریشنز

پاک بحریہ کی پنجاب اور سندھ میں سیلاب سے متاثرہ علاقوں میں امدادی سرگرمیاں جاری ہیں۔

ریڈیو پاکستان کے مطابق سیلاب کی سنگین صورتحال کے پیشِ نظر، جلالپور ملتان میں بھی پاک بحریہ کی ایمرجنسی ریسپانس ٹیم تعینات کی گئی ہے۔

کشمور، گھوٹکی، سکھر اور شکارپور میں پہلے سے موجود ٹیمیں امدادی سرگرمیوں میں مصروف ہیں۔ایمرجنسی ریسپانس ٹیمیں ہوورکرافٹ، ریسکیو بوٹس اور ماہر غوطہ خور ٹیموں سے لیس ہیں۔

گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران 478 سیلاب زدہ افراد کو مختلف متاثرہ علاقوں محفوظ مقامات پر منتقل کیا گیا۔

پاک بحریہ کی جانب سے اب تک ریسکیو کیے گئے افراد کی مجموعی تعداد 6,860 ہو گئی ہے۔

متاثرہ آبادی کو مفت طبی سہولیات اور ضروری ادویات کی فراہمی بھی جاری ہے۔

پاک بحریہ متاثرین کی مکمل بحالی تک ہر ممکن مدد فراہم کرنے کے لیے پرعزم ہے۔

**سندھ میں ممکنہ سیلاب کے باعث پاک فوج کی تیاریاں **

ادھر پاکستان آرمی حالیہ موسلادھار بارشوں اور سندھ میں ممکنہ درمیانے درجے کے سیلاب کے پیش نظر مکمل طور پر الرٹ اور تیار ہے۔

پاک فوج اور سول انتظامیہ کے افسران نے اپنے متعلقہ علاقوں کا جائزہ لیا۔

پاک فوج ممکنہ سیلابی صورتحال کے حوالے سے سول انتظامیہ کی پوری مدد کر رہی ہے اور مختلف جگہوں پر سیلاب کی روک تھام کیلئے بند بنانے کا سلسلہ جاری ہے۔

سندھ میں دادو اور جامشورو میں ممکنہ طغیانی کی صورتحال کا بھی مکمل جائزہ لیا گیا اور تیاریوں کو حتمی شکل دی گئی۔

سکھر اور گڈو بیراج پر ممکنہ سیلابی صورتحال سے نمٹنے کیلئے تیاریاں مکمل پاک فوج کی جانب سے لگائے گئے میڈیکل کیمپس میں متاثرہ افراد کا مفت علاج جاری ہے اور ممکنہ سیلاب کے دوران بھی مفت علاج جاری رہے گا۔

متاثرین نے پاک فوج اور سول انتظامیہ کے امدادی اقدامات کو خراج تحسین پیش کیا۔