ایسوسی ایشن آف بلڈرز اینڈ ڈیولپرز (آباد) نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ گوادر کو مزید تاخیر کے بغیر فعال کیا جائے اور اسے سی پیک فنڈنگ کے تحت ٹیکس فری زون اور اسمارٹ سٹی کے طور پر اعلان کیا جائے۔
آباد ہاؤس کراچی میں گوادر کی اہمیت پر منعقدہ پریس کانفرنس سےخطاب کرتے ہوئے چیئرمین آباد حسن بخشی نے کہا کہ گوادر پاکستان کی ترقی اور خوشحالی کی کنجی ہے، تاہم متوقع فوائد برسوں کی سرمایہ کاری کے باوجود سامنے نہیں آئے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ اگر حکومت فوری اور مؤثر اقدامات نہ کرے تو یہ شہر پاکستان کو درکار نتائج فراہم کرنے میں ناکام رہے گا۔
حسن بخش نے کہا کہ اصل سی پیک سرمایہ کاری سے پیدا ہونے والے مواقع ضائع ہو گئے،انہوں نے کہا کہ 2002 میں گوادر پورٹ کے قیام کا اعلان ہوا جبکہ 2014 میں سی پیک سامنے آیا لیکن 43 ارب ڈالر کے سی پیک منصوبے میں اب تک صرف 80 کروڑ ڈالر کی سرمایہ کاری ہوئی ہے جو ناکافی ہے جس میں زیادہ تر فنڈز بجلی کے شعبے اور آزاد پاور پروڈیوسرز کی جانب منتقل کیے گئے۔
انہوں نے مزید کہا کہ اگر اُس وقت گوادر کو مکمل طور پر ترقی دی جاتی تو آج پاکستان کو چین اور وسطی ایشیائی ممالک تک کارگو رسائی میں آسانی ہوتی اور برآمدات میں نمایاں اضافہ ہوتا۔
آباد کے چیئرمین نے سیکیورٹی مسائل کو گوادر کی ترقی کی سب سے بڑی رکاوٹ قرار دیا اور کہا کہ دشمن عناصر بندرگاہ کو غیر فعال رکھنے کی سازش کر رہے ہیں۔ مسلح افواج کی قربانیوں کو سراہتے ہوئے انہوں نے کہا کہ حکومت کو مقامی کمیونٹی میں بھی سرمایہ کاری کرنی ہوگی تاکہ لوگ اپنے شہر کے محافظ بن سکیں۔
انہوں نے تجویز دی کہ سرمایہ کاروں کی رسائی آسان بنانے کے لیے مقامی پروازیں فوری طور پر شروع کی جائیں، چاہے بین الاقوامی پروازیں وقتی طور پر ممکن نہ ہوں۔ حسن بخش نے زور دیا کہ گوادر کی ترقی کو مقامی آبادی کی ترقی سے الگ نہیں کیا جا سکتا اور غیر ملکی سرمایہ کاری سے مقامی مفادات کو متاثر کرنے کی غلط فہمی ختم کی جائے۔
ایسوسی ایشن کی قیادت نے تمام سیاسی جماعتوں کو گوادر کے معاملے پر اجتماعی ناکامی پر تنقید کا نشانہ بنایا اور کہا کہ پاکستان ایک ایسا ٹرانزٹ ہب بن سکتا تھا جو متحدہ عرب امارات یا سنگاپور کے برابر ہوتا۔
کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر 2025