پاکستان کے اُبھرتے ہوئے گالفر عمر خالد حسین نے تاریخ رقم کر دی ہے اور وہ امریکی سرزمین پر گالف کا ٹائٹل جیتنے والے پہلے پاکستانی کھلاڑی بن گئے ہیں۔ عمر نے یہ اعزاز ایونز وِل، انڈیانا میں منعقدہ فینڈرچ اوپن ٹرافی جیت کر حاصل کیا ہے۔

عمر، جو امریکہ میں کالجیٹ اسپورٹس کی بلند ترین سطح این سی اے اے ڈویژن 1 میں کھیلنے والے واحد پاکستانی ہیں، نے 18 ہزار 700 ڈالر کے اس ٹورنامنٹ میں شاندار کارکردگی دکھاتے ہوئے پروفیشنل کھلاڑیوں کی ایک بڑی فہرست کو پیچھے چھوڑ دیا۔ انہوں نے 61 اور 65 کے شاندار اسکور کارڈ کرتے ہوئے میدان مارلیا۔

اتوار کے روز فینڈرچ گالف کورس (پار-70) میں عمر نے 36 ہولز پر مجموعی 126 (-14) کا اسکور بنایا اور صرف ایک اسٹروک کے فرق سے ایلی نوائے کے تجربہ کار پروفیشنل زیک ولیمز کو شکست دی۔

ہفتے کو کھیلے گئے پہلے راؤنڈ میں عمر نے آٹھ برڈیز اور ایک ایگل اسکور کرتے ہوئے شاندار 9 انڈر پار 61 کا اسکور بنایا اور لیڈر بورڈ پر سرفہرست رہے۔ فائنل راؤنڈ کے پہلے ہول پر انہوں نے ایک بوگی سے آغاز کیا، تاہم فوراً سنبھلتے ہوئے چھ برڈیز اسکور کیں اور 65 کے اسکور کے ساتھ ٹائٹل اپنے نام کیا۔

عمر، جو 16 برس کی عمر میں پاکستان امیچور جیتنے والے کم عمر ترین کھلاڑی بنے تھے، اب امریکہ میں پروفیشنل گالف ٹورنامنٹ جیتنے والے پہلے پاکستانی بن گئے ہیں۔

طاقتور شاٹس کھیلنے والا یہ نوجوان کھلاڑی تاریخ رقم کرنے سے نا آشنا نہیں۔

2020 میں پاکستان امیچور کا ٹائٹل جیتنے کے بعد، عمر — جو اس وقت یونیورسٹی آف ایونز وِل کی نمائندگی کر رہے ہیں — نے فالڈو سیریز پاکستان ٹائٹل 40 اسٹروکس کے بڑے فرق سے اپنے نام کیا اور نیا ریکارڈ قائم کیا۔

بعدازاں 17 برس کی عمر میں وہ کسی بھی امریکی گالف ایسوسی ایشن (یو ایس جی اے) کے ایونٹ میں کٹ لائن عبور کرنے والے پہلے پاکستانی کھلاڑی بنے۔ عمر نے یہ سنگ میل امریکہ جونیئر گالف چیمپئن شپ میں حاصل کیا، جو اوریگون کے مشہور بندون ڈونز گالف کلب میں منعقد ہوئی۔

عمر نے 2024 میں دوحہ میں ہونے والے قطر اوپن میں بھی شاندار کارکردگی دکھاتے ہوئے چوتھی پوزیشن حاصل کی تھی۔

عمر خالد 17 برس کی عمر میں پاکستان کے کم عمر ترین نمبر ون گالفر بھی بنے اور پاکستان اوپن میں لو امیچور کا اعزاز اپنے نام کیا۔ وہ پاکستان کی نمائندگی ایشین گیمز، ایشیا پیسفک گالف چیمپئن شپ اور ورلڈ چیمپئن شپ میں کر چکے ہیں، جبکہ برٹش امیچور، اسکاٹش اوپن اور سینٹ اینڈریوز اوپن جیسے مقابلوں میں بھی حصہ لے چکے ہیں۔

اب عمر کی نظریں اس ہدف پر مرکوز ہیں کہ وہ پی جی اے ٹور میں شرکت کرنے والے پہلے پاکستانی بنیں۔ ان کا ماننا ہے کہ وہ درست سمت میں آگے بڑھ رہے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ میں اپنی کارکردگی سے خوش ہوں اور سخت محنت جاری رکھوں گا تاکہ اپنے خواب کو حقیقت بنا سکوں، اور ایک دن پی جی اے ٹور پر کھیلوں اور کامیابی حاصل کروں۔