چیف جسٹس پاکستان یحییٰ آفریدی نے پیر کے روز کہا ہے کہ عدالت کے کام کو زیادہ شفاف، منظم اور عوام کے لیے منصفانہ بنانے کے لیے قواعد، پالیسیاں اور رہنما اصول وضع کیے گئے ہیں۔
ریڈیو پاکستان کی رپورٹ کے مطابق اسلام آباد میں نئے عدالتی سال کے آغاز کے موقع پر منعقدہ عدالتی کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے چیف جسٹس یحییٰ آفریدی نے کہا کہ بار کے ساتھ مل کر تیز اور قابلِ رسائی انصاف کو یقینی بنانے کے لیے پرعزم ہیں۔
چیف جسٹس نے بتایا کہ ایک سال قبل سپریم کورٹ میں 60 ہزار 635 مقدمات زیرِ التوا تھے، جن میں سے 22 ہزار 865 نمٹا دیے گئے ہیں اور اب زیرِ التوا مقدمات کی تعداد گھٹ کر 56 ہزار 943 رہ گئی ہے۔
انہوں نے یہ اعلان بھی کیا کہ جو شخص وکیل کرنے کی استطاعت نہیں رکھتا، اسے مفت قانونی معاونت فراہم کی جائے گی۔
اصلاحات کا ذکر کرتے ہوئے چیف جسٹس یحییٰ آفریدی نے کہا کہ ٹیکنالوجی کے استعمال سے مقدمات کے بوجھ کو کم کیا گیا ہے اور عدالتی عمل کو زیادہ عوام دوست بنایا گیا ہے۔ ان کے مطابق مقدمات کی فائلوں کی ڈیجیٹائزیشن جاری ہے جو چھ ماہ میں مکمل ہونے کی توقع ہے۔
چیف جسٹس نے کہا کہ ایک خصوصی انسدادِ بدعنوانی ہاٹ لائن قائم کی گئی ہے جو شہریوں کو کرپشن کی شکایات درج کرانے کے لیے محفوظ اور خفیہ پلیٹ فارم فراہم کرتی ہے۔ انہوں نے مزید بتایا کہ عوامی سہولت کے مراکز بھی سپریم کورٹ کے مرکزی دفتر اور رجسٹریوں میں قائم کیے گئے ہیں۔
چیف جسٹس کے مطابق سپریم کورٹ کا ایک بیرونی آڈٹ بھی کرایا گیا ہے اور اس میں سامنے آنے والے مسائل کے حل کے لیے اقدامات کیے جا رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہم نے عدالتی عمل کے معیاری ڈھانچے اور کوالٹی ایشورنس کا عمل بھی شروع کر دیا ہے۔
اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے اٹارنی جنرل پاکستان منصور عثمان اعوان نے انصاف، قانون کی حکمرانی اور آئین پسندی کی بنیادی اقدار کو برقرار رکھنے کے عزم کا اعادہ کیا۔
اٹارنی جنرل نے کہا کہ ہمارا اولین فریضہ عام فریقِ مقدمہ کی خدمت ہے۔ ان کے مطابق یہ ہم سب کی مشترکہ ذمہ داری ہے کہ مقدمات کے فریقین کی رہنمائی نرمی اور ہمدردی کے ساتھ کی جائے۔ انہوں نے مزید کہا کہ شفافیت صرف اسی وقت ممکن ہے جب ہم قانون اور آئین کی پابندی کریں۔