چیف کلیکٹر کسٹمز واجد علی نے کہا ہے کہ 80 فیصد سے زائد تاجر، خصوصاً صنعتی درآمد کنندگان، اپنے کنسائنمنٹس ایمانداری سے ظاہر کرتے ہیں جس کے پیش نظر حکام اس نظام کو مزید مضبوط بنا کر اہل تاجروں کو گرین چینل کی سہولت فراہم کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔

قابلِ ذکر بات یہ ہے کہ واجد علی نے ایف پی سی سی آئی ہیڈ آفس کا دورہ کیا، جہاں بزنس، صنعت اور تجارتی برادری کے ساتھ تفصیلی اور مشاورتی نشست میں کسٹمز ایپریزمنٹ سے متعلق ان کے مسائل اور شکایات پر بات چیت کی گئی۔

انہوں نے مزید کہا کہ کسٹمز ڈیپارٹمنٹ کو مزید موثر، کاروبار دوست، شفاف اور منصفانہ بنانے کے لیے انسانی رابطے اور تعامل کو کم کرنے کے اقدامات جاری ہیں۔ واجد علی نے کہا کہ کسٹمز ڈیپارٹمنٹ پوری خلوص نیت کے ساتھ تجارت اور صنعت کی سہولت کاری کے لیے عملی اور قانونی حدود کے اندر ہر ممکن کوشش کرے گا۔

وفاقی چیمبر کے صدر عاطف اکرام شیخ نے کہا کہ کاروباری برادری کسٹمز ڈیپارٹمنٹ میں فیس لیس کسٹمز اسیسمنٹ سسٹم کے نفاذ کی مکمل حمایت کرتی ہے تاکہ انسانی رابطے کو کم کیا جا سکے اور ٹیکنالوجی کے ذریعے کارکردگی میں اضافہ ہو۔

انہوں نے مطالبہ کیا کہ تاجروں کو گرین چینل کلیئرنس کے ذریعے سہولت دی جائے، ڈویل ٹائم کم کیا جائے اور شکایات کے حل کے سیل کو مکمل فعال بنایا جائے تاکہ مسائل اور شکایات کا بروقت ازالہ ممکن ہو اور تاجروں کے مالی نقصان اور اضافی اخراجات میں کمی لائی جاسکے۔

عاطف اکرام شیخ نے زور دیا کہ پاکستان میں ڈویل ٹائم تقریباً 7.7 دن ہے، جو علاقائی حریف ممالک کے مقابلے میں تقریباً دوگنا ہے اور بین الاقوامی بہترین معیارات سے کہیں زیادہ ہے۔ اس صورتحال کے باعث تاجروں کو ڈیمرج، ڈیٹینشن چارجز، اسٹوریج لاگت اور سرمایہ کاری کے بلاک ہونے کے سبب مالی نقصان برداشت کرنا پڑ رہا ہے۔