سندھ میں ممکنہ سپر فلڈ کے پیش نظر حفاظتی اقدامات تیز، پنجاب میں شدید سیلاب سے 46 افراد جاں بحق
سندھ حکومت نے دریائے سندھ میں ممکنہ سیلابی صورتحال کے پیش نظر ہنگامی اقدامات تیز کر دیے ہیں جبکہ پنجاب میں سیلاب کے باعث جاں بحق ہونے والوں کی تعداد 46 تک پہنچ گئی ہے۔
محکمہ موسمیات پاکستان کے مطابق 6 سے 7 ستمبر کے دوران گڈو بیراج کے مقام پر انتہائی اونچے درجے کے سیلاب کا امکان ہے۔ یہ خطرہ اس وقت اور بڑھ گیا ہے جب بھارت کی جانب سے پاکستان کے دریاؤں میں مزید پانی چھوڑنے کی اطلاعات ہیں۔
وزیر اعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے یکم ستمبر کو کہا ہے کہ حکومت 0.8 ملین سے 1.1 ملین کیوسک پانی کے بہاؤ سے نمٹنے کے لیے تیار ہے، اور ہر ممکن احتیاطی تدابیر اختیار کی جا رہی ہیں۔
سیلاب کے ممکنہ خطرے کے پیش نظر صوبائی حکومت نے قانون نافذ کرنے والے اداروں سے بھی مدد طلب کر لی ہے۔ پاکستان آرمی اور دیگر اداروں نے حساس علاقوں میں مشینری اور آلات کے ساتھ تعیناتی مکمل کر لی ہے۔
ریڈیو پاکستان کے مطابق پاکستان رینجرز سندھ نے محکمہ آبپاشی کے مرمتی و تعمیری کاموں میں مصروف عملے کو مکمل سیکورٹی فراہم کر دی ہے تاکہ سیلاب سے بچاؤ کے انتظامات بغیر کسی رکاوٹ کے مکمل کیے جا سکیں۔
دریں اثناء حالیہ بارشوں کے باعث ملک کے بالائی اور وسطی علاقوں میں سیلابی پانی کے بہاؤ میں اضافے نے صورت حال کو مزید سنگین بنا دیا ہے اور حکام نے نشیبی علاقوں میں رہنے والوں کو نقل مکانی کی ہدایت کی ہے۔
حفاظتی بندوں پر گشت اور چیک پوسٹوں میں مزید اضافہ کر دیا گیا ہے جبکہ کچّے کے علاقوں سے نقل مکانی کرنے والے افراد کو ہر ممکن امداد فراہم کی جا رہی ہے۔
پاکستان رینجرز سندھ نے ضلعی انتظامیہ کے تعاون سے ایک مفت طبی کیمپ قائم کیا ہے، جہاں مقامی باشندوں کوعلاج کی سہولت دی جا رہی ہے۔
دریں اثناء نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (این ڈی ایم اے) کے نیشنل ایمرجنسی آپریشن سینٹر( این ای او سی) کے مطابق دریائے ستلج پر گنڈا سنگھ والا ہیڈورکس پر پانی کا بہاؤ غیرمعمولی سطح پر پہنچ چکا ہے، جہاں 3 لاکھ 35 ہزار 591 کیوسک پانی گزر رہا ہے۔ رپورٹ کے مطابق بھارت کے تقریباً بھر چکے پونگ اور بھاکڑا ڈیمز سے پانی چھوڑے جانے کے باعث سیلابی صورتحال مزید بگڑ رہی ہے۔
قصور، اوکاڑہ، پاکپتن، بوریوالا، عارف والا اور بہاولنگر کے اضلاع میں شدید سیلاب کا خطرہ ہے، جہاں زرعی اراضی، دیہی آبادیاں اور انفرااسٹرکچر کو نقصان پہنچنے کا خدشہ ہے۔ این ڈی ایم اے نے بتایا ہے کہ مقامی انتظامیہ کے تعاون سے انخلا اور امدادی کارروائیاں جاری ہیں۔
این ڈی ایم اے نے پنجاب، خیبرپختونخوا، آزاد کشمیر اور گلگت بلتستان کے لیے موسلا دھار بارشوں اور ممکنہ سیلاب سے متعلق الرٹ بھی جاری کر دیا ہے۔
پنجاب میں سیلاب سے پیدا ہونے والی صورتحال پر صوبائی ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی ( پی ڈی ایم اے) نے اپنی تازہ رپورٹ میں بتایا ہے کہ اب تک مختلف حادثات میں کم از کم 46 افراد جاں بحق ہوچکے ہیں۔ سیلاب سے صوبے بھر میں 3 ہزار 900 سے زائد دیہات متاثر اور 38 لاکھ 70 ہزار سے زیادہ افراد متاثر ہوئے ہیں۔
رپورٹ کے مطابق 18 لاکھ سے زائد افراد کو محفوظ مقامات پر منتقل کر دیا گیا ہے جبکہ 410 ریلیف کیمپ، 444 میڈیکل کیمپ اور 395 ویٹرنری کیمپ قائم کیے جا چکے ہیں۔ 13 لاکھ سے زائد مویشی بھی محفوظ مقامات پر منتقل کیے گئے ہیں۔
ڈیموں کی صورتحال کے بارے میں رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ منگلا ڈیم 87 فیصد جبکہ تربیلا ڈیم اپنی مکمل گنجائش تک بھر چکا ہے۔ بھارت کی جانب سے بھاکڑا ڈیم 84 فیصد، پونگ ڈیم 98 فیصد اور تھانہ ڈیم 92 فیصد تک بھرچکے ہیں۔
پنجاب کے دریا بھی مسلسل بلند سطح کے پانی سے گزر رہے ہیں۔ دریائے چناب میں مرالہ ہیڈورکس پر پانی کا بہاؤ 2 لاکھ 47 ہزار کیوسک، کھنکی پر 5 لاکھ 26 ہزار کیوسک، قادرآباد پر 5 لاکھ 30 ہزار کیوسک اور چنیوٹ پل کے مقام پر 4 لاکھ 94 ہزار کیوسک ریکارڈ کیا گیا ہے۔
دریائے راوی میں شاہدرہ پر پانی کا بہاؤ 97 ہزار 400 کیوسک اور راوی سیفون پر 98 ہزار کیوسک ہے۔ سدھنائی ہیڈورکس پر پانی کی مقدار تقریباً 1 لاکھ 39 ہزار 999 کیوسک تک پہنچ چکی ہے۔
دریائے ستلج میں گنڈا سنگھ والا پر پانی کا بہاؤ 3 لاکھ 19 ہزار کیوسک، سلیمانکی پر 1 لاکھ 32 ہزار 492 کیوسک اور اسلام ہیڈورکس پر 95 ہزار کیوسک ہے۔ حکام صورتحال کی مسلسل نگرانی کر رہے ہیں۔
ادھر فلش فلڈ سے ملتان کے 138 اور مظفرگڑھ کے 104 دیہات زیرِ آب آگئے ہیں، تاہم تمام اہم پل اور بند محفوظ بتائے جا رہے ہیں۔ دونوں اضلاع کی انتظامیہ مسلسل صورتحال پر نظر رکھے ہوئے ہے۔
بورے والا، وہاڑی، لودھراں، کہروڑ پکا اور جلال پور پیروالا کی تحصیلوں میں ریسکیو اور امدادی سرگرمیاں جاری ہیں، جہاں دریائے ستلج کی طغیانی نے دریا کے کنارے پوری آبادی کو متاثر کیا ہے۔