پنجاب اور خیبر پختونخوا (کے پی) میں جاری شدید سیلاب نے پاکستان کی غذائی سپلائی چین کو بری طرح متاثر کیا ہے اور کراچی سمیت ملک کے دیگر شہروں میں سبزیوں کی قیمتیں تیزی سے بڑھنے لگی ہیں جس سے آنے والے مہینوں میں مہنگائی بڑھنے کے خدشات پیدا ہوگئے ہیں۔
کراچی میں سبز سبزیوں کی قیمتیں 30 فیصد تک بڑھ گئی ہیں اور مزید اضافے کا امکان ہے، کیونکہ ملک بھر کے بڑے رقبے پر پھیلی زرعی زمینیں اور نقل و حمل کے بنیادی ڈھانچے زیرِ آب ہیں یا شدید نقصان کا شکار ہیں۔
کراچی سبزی منڈی کمیٹی کے کوآرڈینیٹر افضال خان کے مطابق، شہر میں سبزیوں کی 70 سے 80 فیصد سپلائی پنجاب سے آتی ہے۔
ہول سیل ویجیٹیبل مارکیٹ ویلفیئر ایسوسی ایشن کے صدر شاہجہان شیخ نے کہا کہ مقامی مارکیٹوں میں سبزیوں کی ہول سیل قیمتیں 30 سے 40 فیصد تک بڑھ گئی ہیں اور سیلاب کی وجہ سے کراچی کو سبزیوں کی فراہمی 30 سے 50 فیصد تک کم ہوگئی ہے۔
چیف آرگنائزر پاکستان بزنس فورم احمد جواد نے بتایا کہ سیلاب نے نہ صرف کھڑی فصلوں کو تباہ کیا بلکہ مویشی بھی متاثر ہوئے، جس کے باعث دودھ اور انڈوں کی قیمتیں بھی بڑھ گئی ہیں۔ انہوں نے خبردار کیا کہ اگر سیلابی پانی سندھ میں داخل ہوا تو صورتحال مزید سنگین ہوسکتی ہے۔
فوری درآمدی اقدامات کا مطالبہ
احمد جواد نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ قیمتوں کو مستحکم کرنے کے لیے افغانستان سے سبزیوں کی درآمد پر 15 فیصد کسٹم ڈیوٹی معاف کی جائے۔
انہوں نے کہا کہ افغانستان سے سبز سبزیاں، ٹماٹر، پیاز، سیب اور تربوز جیسی اہم اجناس فراہم ہوتی ہیں۔
انہوں نے سیلاب کی وجہ سے پیداوار میں کمی کا شکار گندم اور چاول کی فوری درآمد کی بھی ضرورت پر زور دیا جو ٹریڈنگ کارپوریشن آف پاکستان (ٹی سی پی ) یا نجی شعبے کے ذریعے ممکن ہے۔ انہوں نے وزارت تجارت سے کہا کہ اس سلسلے میں فوری طور پر ایس آر او جاری کیا جائے تاکہ درآمدات تیز ہو سکیں۔
انہوں نے زور دیا کہ حکومت کو اب فوری اقدامات کرنے ہوں گے تاکہ غذائی بحران سے بچا جاسکے۔ احمد جواد نے عوامی و نجی شعبے کے کوٹا سسٹم کو درآمدات کے انتظام کے لیے مؤثر قرار دیا۔
سندھ میں خطرہ بڑھ گیا
جیسے جیسے سندھ میں مقامی فصلوں کا موسم قریب آرہا ہے، کراچی کی سبزیوں کی ضروریات کے لیے اس صوبے پر انحصار بڑھ رہا ہے۔ سندھ کے اہم سبزی پیدا کرنے والے علاقے تھرپارکر، بدین، ٹنڈو آدم، نوابشاہ اور گھوٹکی ہیں۔
کراچی سبزی مندی کمیٹی کے کوآرڈینیٹر افضال خان نے خبردار کیا کہ اگر آنے والے دنوں میں سندھ میں سیلاب آیا تو کراچی کی سبزیوں کی فراہمی شدید متاثر ہوگی۔ کراچی کی سبزیوں کی صرف 10 فیصد ضرورت مقامی فارم ملیر سے پوری ہوتی ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ ٹماٹر اور پیاز بلوچستان سے تو لائے جا رہے ہیں، لیکن اچانک آنے والے سیلاب نے اہم سڑکیں تباہ کر دی ہیں، جس سے فراہمی کے راستے مزید محدود ہوگئے ہیں۔
ادارہ شماریات کے مطابق ملک میں سالانہ بنیاد پر مہنگائی بڑھنے کی شرح اگست 2025 میں 3 فیصد رہی، جو جولائی 2025 کے 4.1 فیصد کے مقابلے میں کم ہے۔
ماہانہ بنیاد پر اگست میں مہنگائی بڑھنے کی شرح میں 0.6 فیصد کمی دیکھی گئی جبکہ پچھلے ماہ 2.9 فیصد اور اگست 2024 میں 0.4 فیصد اضافہ ہوا تھا۔
ماہرین اقتصادیات کے مطابق سیلاب سے متاثرہ لاکھوں افراد کے پیش نظر خوراک کی فراہمی پر دباؤ بہت زیادہ ہے اور مہنگائی کے اضافے سے بچنے کے لیے حکومت کی فوری اور مؤثر مداخلت ناگزیر ہے۔