اوورسیز انویسٹرز چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری (او آئی سی سی آئی) نے اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے فارن ایکسچینج مینوئل کے چیپٹر 14 کے پیراگراف 11 میں ترامیم کی سفارش کی ہے جو رائلٹی، فرنچائز اور ٹیکنیکل فیس سے متعلق ہیں۔ یہ تجویز وزیر توانائی سردار اویس خان لغاری کو سیکریٹری جنرل او آئی سی سی آئی عبدالعلیم کی جانب سے بھیجے گئے خط میں دی گئی۔

او آئی سی سی آئی نے کہا ہے کہ پاکستان میں پائیدار غیر ملکی سرمایہ کاری کے حصول کے لیے ڈیوڈنڈز، رائلٹی اور ٹیکنیکل فیس کی ترسیلات نہایت اہم عنصر ہیں اور ان کے قواعد کو خطے کی ابھرتی ہوئی معیشتوں کے مطابق ڈھالنے کی ضرورت ہے۔ تنظیم کے مطابق، اس عمل سے نہ صرف سرمایہ کاروں کا اعتماد بڑھے گا بلکہ انکم ٹیکس وِد ہولڈنگ کے تحت محصولات میں بھی اضافہ ہوگا اور غیر رسمی ذرائع سے ترسیلات کے امکانات کم ہوں گے۔

بینکنگ سیکٹر سے متعلق او آئی سی سی آئی نے کہا کہ اسٹیٹ بینک کے موجودہ ضابطوں کے تحت ری کرنگ فیس نیٹ سیلز کی بنیاد پر محدود ہے، تاہم مارکیٹ میں بڑھتے ہوئے معاہدے گراس ریونیو کو بنیاد بنا رہے ہیں۔ سرمایہ کاری کے حصول کے لیے پرکشش منافع دینا ضروری ہے، لہٰذا تجویز دی گئی ہے کہ اسٹیٹ بینک رائلٹی، فرنچائز اور ٹیکنیکل فیس کی حد 5 فیصد سے بڑھا کر 10 فیصد کرے۔

ٹیلی کام سیکٹر کے حوالے سے او آئی سی سی آئی نے کہا کہ دنیا کے کئی ممالک نے سروس پر مبنی رائلٹی ماڈلز اختیار کیے ہیں جن میں سبسکرائبر بیس یا لائسنسز کو پیمانہ بنایا جاتا ہے۔ بعض ممالک میں مینجمنٹ یا سپورٹ فیس کی بھی اجازت ہے جبکہ کئی ریگولیٹرز محفوظ حدود (سیف ہاربر) معاہدے فراہم کرتے ہیں۔ او آئی سی سی آئی نے تجویز دی کہ اسٹیٹ بینک ٹیلی کام آپریٹرز کے لیے واضح گائیڈ لائن جاری کرے جس میں سیلز یا سروسز کی بنیاد پر رائلٹی اور فیس کی اجازت ہو تاکہ ہیڈکوارٹرز کی جانب سے دی جانے والی مسلسل معاونت کا بہتر اعتراف ہو سکے۔

او آئی سی سی آئی نے مزید کہا کہ جہاں اخراجات کی درست پیمائش مشکل ہو، وہاں فکسڈ یا ویری ایبل مینجمنٹ فیس کی اجازت دی جائے۔ ساتھ ہی آڈٹ کے سخت تقاضوں میں نرمی کی سفارش کی گئی تاکہ کمپنیوں کو باریک بینی سے ہر مد کی وضاحت نہ دینا پڑے کیونکہ یہ معاونت مسلسل اور کثیر الجہتی ہوتی ہے۔

ادارہ نے یہ بھی تجویز دی کہ اپ فرنٹ فیس کی حد ایک لاکھ ڈالر سے بڑھا کر تین لاکھ ڈالر کی جائے، کیونکہ کاروباری سرگرمیوں میں توسیع کے ساتھ ادائیگیوں کا حجم بھی بڑھ رہا ہے۔ مزید یہ کہ طویل المدتی معاہدوں کو مدنظر رکھتے ہوئے فیس کی مدت بھی بڑھائی جائے جیسا کہ پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی 15 سال کے لائسنس جاری کرتی ہے۔

ایف بی آر کے حوالے سے او آئی سی سی آئی نے کہا کہ اگر اسٹیٹ بینک کسی اخراجات کو منظور کر چکا ہو تو ایف بی آر کو دوبارہ آڈٹ میں انہیں چیلنج نہیں کرنا چاہیے، کیونکہ اس عمل سے سرمایہ کار دوہری مشکلات کا شکار ہو جاتے ہیں۔

کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2025