پاکستان اور افغانستان آج (جمعہ) شارجہ میں سہ فریقی ٹی20 سیریز کے افتتاحی میچ میں آمنے سامنے ہوں گے۔ اس سیریز میں تیسری ٹیم متحدہ عرب امارات (یو اے ای) ہے، اور یہ ٹورنامنٹ اگلے ماہ یو اے ای میں ہونے والے ایشیا کپ کے لیے ایک اہم پریکٹس مرحلہ تصور کیا جا رہا ہے۔

اگرچہ ایشیا کپ کی تیاری کے حوالے سے یہ سیریز ٹیموں کو میچ پریکٹس کا اہم موقع فراہم کرتی ہے، تاہم مجموعی طور پر اس کی اہمیت نسبتاً محدود ہے، خصوصاً پاکستان اور افغانستان کے لیے، کیونکہ ایشیا کپ میں دونوں ٹیمیں مختلف گروپوں میں شامل ہیں۔ ایشیا کپ کے میچز ابوظہبی اور دبئی میں ہوں گے، جب کہ سہ فریقی سیریز کے تمام مقابلے شارجہ میں کھیلے جائیں گے۔

پاکستان

پاکستان سہ فریقی سیریز میں ایک جانب فیورٹ کے طور پر اتر رہا ہے، تو دوسری جانب تنقید کی زد میں بھی ہے۔ تاہم نئی وائٹ بال کوچنگ ٹیم، خاص طور پر مائیک ہیسن کی زیرِ نگرانی جارحانہ بیٹنگ اپروچ نے حالیہ میچز میں مثبت نتائج دیے ہیں۔

پاکستان نے حالیہ سیریز میں بنگلہ دیش کو ہوم گراؤنڈ پر اور ویسٹ انڈیز کو فلوریڈا میں شکست دی۔ ٹیم نے لمبی بیٹنگ لائن اور نیم ماہر باؤلرز سے آٹھ اوورز کروانے کی حکمت عملی اپنائی، جو کامیاب رہی—لیکن یہی حکمت عملی شارجہ کی سست پچوں پر نقصان دہ بھی ہو سکتی ہے، جہاں اکثر اسکور 150 سے کم رہتے ہیں۔ اس تناظر میں لچکدار ٹیم کمبینیشن پاکستان کی کامیابی کی کنجی ہو سکتی ہے۔

افغانستان

افغانستان اس سال پہلی بار ٹی20 انٹرنیشنل کرکٹ میں واپسی کر رہا ہے، اور ایک متوازن اسکواڈ کے ساتھ میدان میں اُتر رہا ہے۔ ان کا اسپن اٹیک—راشد خان، مجیب الرحمٰن، نور احمد، اور محمد نبی—دنیا بھر میں اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوا چکا ہے، اور شارجہ کی وکٹیں ان کے لیے سازگار ثابت ہو سکتی ہیں۔

تاہم، حالیہ بین الاقوامی ٹی20 میچ پریکٹس کا فقدان افغانستان کے لیے ایک سوالیہ نشان ضرور ہے۔ ایشیا کپ میں انہیں سری لنکا اور بنگلہ دیش کے ساتھ سخت گروپ کا سامنا ہے، اور یہ سیریز ان کے لیے اہم تیاری کا موقع ہے۔

متحدہ عرب امارات (یو اے ای)

یو اے ای اس سال غیر مستقل کارکردگی کے بعد اس سیریز میں بہتری کی تلاش میں ہے۔ انہوں نے مئی میں بنگلہ دیش کو 2-1 سے اپ سیٹ شکست دی، لیکن بعد ازاں یوگنڈا میں ”پرل آف افریقہ“ سیریز میں مشکلات کا شکار رہے۔

کپتان محمد وسیم 155 سے زائد کے اسٹرائیک ریٹ کے ساتھ نمایاں ہیں، جب کہ آصف خان نچلے نمبروں پر 162.50 کے اسٹرائیک ریٹ سے اہم کردار ادا کر سکتے ہیں۔ تاہم ٹیم کی مجموعی مار دھاڑ کی صلاحیت محدود نظر آتی ہے۔

بائیں ہاتھ کے اسپنر حیدر علی کلیدی کردار ادا کر سکتے ہیں۔ انہوں نے رواں برس اسی میدان پر بنگلہ دیش کے خلاف 3 رنز دے کر 7 وکٹیں حاصل کی تھیں۔ لیگ اسپنر زہیب زبیر ان کی معاونت کریں گے۔

شارجہ کا میدان ہمیشہ ڈرامائی مقابلوں کا گواہ رہا ہے۔ اگرچہ یہ سیریز مختصر ہے، لیکن ایشیا کپ جیسے بڑے ایونٹ کے لیے یہ ایک اہم وارم اپ مرحلہ ثابت ہو سکتی ہے۔