پاکستان

یورپین آرگنائزیشن برائے نیوکلیئر ریسرچ نے پاکستان کی ایسوسی ایٹ ممبرشپ کا جائزہ مکمل کر لیا

یورپین آرگنائزیشن برائے نیوکلیئر ریسرچ کے اعلیٰ سطح وفد کا دورہ پاکستان
شائع اپ ڈیٹ

یورپین آرگنائزیشن برائے نیوکلیئر ریسرچ (CERN) کی پانچ رکنی ماہرین پر مشتمل ٹاسک فورس نے پاکستان کی حیثیت بطور ایسوسی ایٹ ممبر کا جامع جائزہ مکمل کرلیا۔

سرن یورپی رکن ممالک کی جانب سے جنیوا میں قائم کی گئی ایک ممتاز سائنسی تحقیقی لیبارٹری ہے جو امن کے فروغ کے لیے سائنس کے اصول پر کام کرتی ہے، اس کا بنیادی مقصد علم کی حدود کو وسیع کرنا، نئی ٹیکنالوجیز تیار کرنا اور مستقبل کے سائنسدانوں و انجینئرز کی تربیت فراہم کرنا ہے۔

سرن دنیا کی سب سے بڑی پارٹیکل فزکس لیبارٹری بن چکی ہے جس کے 25 رکن ممالک اور نو ایسوسی ایٹ رکن ہیں، جن میں پاکستان بھی شامل ہے۔

پاکستان کا آرگنائزیشن کے ساتھ تعاون تین دہائیوں پر محیط ہے، جو 1994 میں تعاون کے معاہدے پر دستخط کے بعد شروع ہوا۔ پاکستان جولائی 2015 میں ایسوسی ایٹ رکن بنا اور تب سے کئی اہم منصوبوں میں نمایاں کردار ادا کر رہا ہے۔

پاکستان ایٹمی توانائی کمیشن پاک ۔ سرن تعاون میں مرکزی ایجنسی کے طور پر کام کر رہا ہے۔

ایسوسی ایٹ ممبرشپ کے ذریعے پاکستان نے سائنسی علم کی سرحدوں کو وسیع کرنے، تکنیکی ترقی کو فروغ دینے اور سائنسدانوں و انجینئرز کی نئی نسل کی تربیت میں نمایاں فوائد حاصل کیے ہیں۔

پاکستان میں ٹاسک فورس کے دورے کی قیادت شارلٹ ایل۔ وراکاؤلے نے کی جب کہ دیگر ارکان میں پروفیسر جوچم منِک، پروفیسر ایمانول تسسمیلیس، ڈاکٹر اینڈرجی چارکیوِچ اور پروفیسر تاڈیوش لیسیاک شامل تھے۔

پانچ روزہ دورے کے آغاز پر ٹاسک فورس نے اسلام آباد میں پاکستان ایٹمی توانائی کمیشن (پی اے ای سی) کے چیئرمین ڈاکٹر راجہ علی رضا انور سے ملاقات کی۔ اس کے بعد پی اے ای سی اور دیگر اداروں کی تحقیق و ترقی کی سہولیات سے تفصیلی پریزنٹیشنز پیش کی گئیں۔

پی اے ای سی کے رکن (سائنس) ڈاکٹر مسعود اقبال نے ٹاسک فورس کو مختلف تحقیقی مراکز اور اداروں کے دورے کروائے جن میں نیشنل سینٹر فار فزکس (این سی پی) میں ہائی انرجی فزکس لیبز، پاکستان انسٹیٹیوٹ آف انجینئرنگ اینڈ اپلائیڈ سائنسز (پی آئی ای اے ایس)، ہیوی مکینیکل کمپلیکس-3 (ایچ ایم سی-3)، انسٹیٹیوٹ آف نیوکلیئر میڈیسن اینڈ آنکولوجی (آئی این ایم او ایل) اور نیشنل انسٹیٹیوٹ فار لیزر اینڈ آپٹرونکس (این آئی ایل او پی) شامل ہیں۔ ان دوروں کا مقصد پاکستان میں سائنس و ٹیکنالوجی کی پیش رفت کا جائزہ لینا تھا۔

پی آئی ای اے ایس میں پروفیسر ایمانول تسسمیلیس نے ایک لیکچر دیا اور نوجوان محققین کے ساتھ فعال تبادلۂ خیال کیا، جس سے طلبہ و محققین کو جدید سائنسی تحقیق میں حصہ لینے کے مواقع فراہم ہوئے۔