اسٹیٹ بینک ، بی ایس سی اور یو این ویمن پاکستان نے مالی شمولیت، مالی خواندگی اور قرضوں تک رسائی بڑھانے کی غرض سے طویل مدتی تعاون کو فروغ دینے کے لیے مفاہمت کی یادداشت پر دستخط کردیے جس میں پاکستان کے اندر صنفی مساوات کو فروغ دینے اور خواتین کو بااختیار بنانے پر بھرپور توجہ دی گئی ہے۔

اسٹیٹ بینک ، بی ایس سی کے منیجنگ ڈائریکٹر معراج محمود اور یو این ویمن پاکستان کے ملک گیر نمائندے جمشید قاضی کی موجودگی میں دستخط کی تقریب کراچی میں منعقد ہوئی۔

اس شراکت داری سے دونوں اداروں کے اس مشترکہ عزم کا اعادہ ہوتا ہےکہ معاشی میدان میں خواتین کی شرکت کیلئے سازگار ماحول، بالخصوص مالی وسائل اور معلومات تک رسائی میں بہتری لائی جائے گی۔

تقریب سے خطاب کرتے ہوئے جمشید قاضی نے صنفی مساوات پروان چڑھانے میں مالی شمولیتی نظام کی اہمیت پر زور دیا۔

انہوں نے یہ بات اجاگر کی کہ پاکستان میں خواتین کی صلاحیتوں کو سامنے لانے میں مالی شمولیت کا کلیدی کردار ہے۔

انہوں نے کہا کہ یو این ویمن کا ایس بی پی -بی ایس سی کےساتھ اس شراکت داری کامقصد مالی خدمات تک خواتین کی رسائی،مضبوطی پیدا کرنےاور پائیدار معاشی ترقی میں حصہ ڈالنے کی راہ ہموار کرنا ہے۔

معراج محمود نے مالی شعبے میں خواتین کی شرکت کو فروغ دینے کے اسٹیٹ بینک کے عزم پر زور دیتے ہوئے کہا کہ یو این ویمن کے ساتھ اسٹیٹ بینک کی یہ شراکت داری مالی خواندگی بڑھانے اور مالی خدمات سے نیم محروم طبقوں بالخصوص خواتین کی قرضوں تک رسائی کے سلسلے میں مرکزی بینک کے نصب العین کی عکاس ہے۔

ایس بی پی- بینکنگ سروس کارپوریشن یو این ویمن کے ساتھ مل کر ساختی رکاوٹوں کو دور کرنے اور شمولیتی معاشی ترقی کے لیے اختراعی طریقوں کے فروغ کے لیے کوشاں ہے۔

دوسری جانب مفاہمتی یادداشت میں تعاون کے اہم شعبوں کا احاطہ کیا گیا ہے جن میں مشترکہ سیمینارز اور کانفرنسوں کا انعقاد، استعداد کاری اور آگاہی کے پروگرام، اور خواتین کی مالی شمولیت میں حائل رکاوٹوں کی نشاندہی کے لیے مشترکہ تحقیق جیسے امور شامل ہیں

اسکا مقصد یہ بھی ہے کہ ڈجیٹل مالی خدمات کے استعمال کو فروغ دیا جائے اور قرضوں تک کم رسائی رکھنے والے علاقوں اور سماجی طبقوں کے لیے مالی خدمات کو بڑھایا جائے تاکہ خواتین کو معاشی طور پر بااختیار بنانے کے لیے پائیدار مواقع پیدا کیے جاسکیں۔

کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر 2025