نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (این ڈی ایم اے) کی جانب سے جاری ابتدائی وارننگز اور الرٹس کے بعد دریائے ستلج میں ممکنہ سیلاب کے خدشے کے پیش نظر اب تک تقریباً 1 لاکھ 50 ہزار افراد کو محفوظ مقامات پر منتقل کیا جا چکا ہے۔
این ڈی ایم اے کے پیشگی انتباہ پر فوری کارروائی کرتے ہوئے صوبائی ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (پی ڈی ایم اے) پنجاب نے حساس اضلاع میں بڑے پیمانے پر انخلا کے آپریشن شروع کیے۔ ایمرجنسی ریسپانس ٹیمیں تعینات کی گئیں اور متعلقہ تمام اداروں کو عوام کی جان و مال کے تحفظ کے لیے ہائی الرٹ پر رکھا گیا۔
اے پی پی کے مطابق بھارت کی جانب سے دریائے ستلج میں پانی چھوڑنے کے بعد درجنوں دیہات زیرِ آب آگئے جبکہ سیکڑوں ایکڑ پر کھڑی فصلیں تباہ ہوگئیں۔
اتوار کو قصور کے علاقے گنڈا سنگھ والا میں اونچے درجے کے سیلاب کی اطلاع ملی جہاں پانی کی سطح 21.30 فٹ سے تجاوز کر گئی اور بہاؤ 1 لاکھ 30 ہزار کیوسک سے زیادہ ریکارڈ کیا گیا۔
ریسکیو 1122 کے ذرائع کے مطابق متاثرہ علاقوں میں 30 سے زائد دیہات شامل ہیں جن میں نگر ایمن پورہ، مابوکی، بستی ابراہیم، ماہی والا اور فتیوالا وغیرہ شامل ہیں۔
این ڈی ایم اے کی جانب سے منگل کو جاری کردہ سرکاری اعداد و شمار کے مطابق متاثرہ اضلاع سے انخلا میں بہاولنگر سے 89,868 افراد، قصور سے 14,140، اوکاڑہ سے 2,063، پاکپتن سے 873، بہاولپور سے 361 اور وہاڑی سے 165 افراد شامل ہیں۔
سیلاب کے خطرے کے پیش نظر وزیراعلیٰ مریم نواز نے بروقت انخلا کو یقینی بنانے کی ہدایت دی ہے۔
این ڈی ایم اے کے مطابق ابتدائی الرٹس کے فوراً بعد تقریباً 40 ہزار افراد پہلے ہی محفوظ مقامات پر منتقل ہو چکے تھے۔
ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی نے تمام اداروں اور ایمرجنسی سروسز کو الرٹ رہنے کی ہدایت دیتے ہوئے شہریوں کو دریاؤں، ندی نالوں اور نشیبی علاقوں سے دور رہنے، غیر ضروری سفر سے گریز کرنے اور ٹی وی، ریڈیو، موبائل الرٹس اور پاک این ڈی ایم اے ڈیزاسٹر الرٹ ایپ کے ذریعے جاری حفاظتی ہدایات پر عمل کرنے کی تلقین کی ہے۔