نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (این ڈی ایم اے) کے نیشنل ایمرجنسی آپریشنز سینٹر (این ای او سی) نے ملک میں بارشوں کے نئے اسپیل اور ممکنہ سیلابی صورت پر الرٹ جاری کردیا ہے۔

این ڈی ایم اے نے الرٹ میں 23 تا 30 اگست تک ملک کے مختلف علاقوں میں ممکنہ موسمیاتی صورتحال بتائی ہے۔ واضح رہے کہ رواں سال بارش سے حادثات کے نتیجے میں 780 سے زائد افراد جاں بحق ہوچکے ہیں۔

این ڈی ایم اے کے ایک اہلکار نے ہفتہ کو بزنس ریکارڈر کو اعداد و شمار فراہم کیے جن سے ظاہر ہوتا ہے کہ بارشوں کے باعث اب تک ملک بھر میں 785 افراد جاں بحق ہوچکے ہیں جن میں 469 مرد، 117 خواتین اور 199 بچے شامل ہیں۔

این ای او سی کے مطابق اس دوران ملک میں بارش کے 3سسٹمز داخل ہونے کی توقع ہے جو وسیع پیمانے پر موسلا دھار بارشوں کا باعث بن سکتے ہیں اور کمزور علاقوں میں سیلاب کے خطرات میں اضافہ کرسکتے ہیں۔

23 تا 25 اگست کے دوران اسلام آباد، کشمیر، خیبر پختونخوا اور پنجاب میں تیز ہواؤں کے ساتھ موسلا دھار بارشوں کی توقع ہے جس سے نچلے علاقوں میں سیلاب کا خدشہ ہے اور پہاڑی علاقوں میں لینڈ سلائیڈنگ کے امکانات ہیں۔ شمال مشرقی پنجاب کے اضلاع — بشمول راولپنڈی، اٹک، جہلم، میانوالی، خوشاب، سرگودھا، سیالکوٹ، گجرات، حافظ آباد، اور منڈی بہاؤالدین — میں شدید بارش کی پیش گوئی کی گئی ہے۔

لاہور، فیصل آباد، ملتان، گوجرانوالہ، نارووال، تلہ گنگ اور چکوال میں بھی شہری سیلاب کی توقع کی جا رہی ہے۔

جنوبی پنجاب اور ملحقہ علاقوں میں شدید پانی کے بہاؤ کی وجہ سے ڈیرہ غازی خان، ڈیرہ اسماعیل خان اور راجن پور میں پہاڑی نالے پھٹنے کا خدشہ ہے۔ اسی دوران خیبر پختونخوا میں 23 تا 27 اگست کے دوران شدید بارش متوقع ہے جس کے نتیجے میں ندی نالوں میں سیلاب اور پہاڑی علاقوں میں زمین کھسکنے کے خطرات ہیں۔

چترال، دیر، سوات، شانگلہ، مانسہرہ، بٹگرام، ایبٹ آباد، مالاکنڈ، پشاور، چارسدہ، نوشہرہ، مردان، ٹانک، بنوں، لکی مروت اور ڈیرہ اسماعیل خان میں موسلا دھار بارش کی پیش گوئی کی گئی ہے۔ سوابی، مردان، مالاکنڈ اور ہزارہ ڈویژنز میں شدید سیلاب کے امکانات زیادہ ہیں۔

آزاد جموں و کشمیر میں بارش کے نتیجے میں مظفرآباد، راولاکوٹ، باغ، حویلی، کوٹلی، میرپور اور بھمبر میں زمین کھسکنے اور سیلاب کا خدشہ ہے۔ گلگت بلتستان کے اضلاع — جن میں گلگت، اسکردو، ہنزہ، غیزر، دیامر، استور، گانچھے اور شگر شامل ہیں میں 23 تا 27 اگست شدید بارش متوقع ہے جس کے نتیجے میں سیلاب اور زمین کھسکنے کے خطرات ہیں جو پہاڑی علاقوں میں سڑکوں کی رسائی متاثر کرسکتے ہیں۔

27 تا 30 اگست کے دوران سندھ کے ساحلی اضلاع — کراچی، ٹھٹھہ، سجاول، بدین اور تھرپارکر — میں شدید بارش متوقع ہے۔ اندرون سندھ کے اضلاع میں بھی وسیع پیمانے پر بارش کی پیش گوئی کی گئی ہے جن میں حیدرآباد، جامشورو، نوابشاہ، دادو، خیرپور، سکھر، گھوٹکی، لاڑکانہ، جیکب آباد، شکارپور، کشمور اور شہید بینظیر آباد شامل ہیں۔

بلوچستان میں شدید بارشیں اور تیز ہوائیں لسبیلہ، خضدار، آواران، قلات، گوادر، تربت، کیچ اور پنجگور میں متوقع ہیں۔

کوئٹہ، زیارت، ژوب، لورالائی، برکھان، موسی خیل، ڈیرہ بگٹی اور کوہلو میں 24 تا 25 اگست اور پھر 27 تا 30 اگست کے دوران وقفے وقفے سے بارشیں متوقع ہیں۔ بھاری پانی کے بہاؤ کے باعث ڈیرہ مراد جمالی، اوستا محمد، ڈیرہ بگٹی، آواران، برکھان، نصیرآباد، کیچ اور لہری میں سیلاب کا خدشہ ہے۔

ذخائر کی مکمل گنجائش کے قریب پہنچنے کے باعث دریاؤں میں بہاؤ میں نمایاں اضافہ متوقع ہے۔ تونسہ، گڈو اور کالا باغ میں دریائے سندھ کا بہاؤ 500,000 کیوسکس تک بڑھ سکتا ہے جبکہ بھاری بارشوں کے باعث دریائے راوی اور چناب بھی اُبل سکتے ہیں جس سے متصل علاقوں میں سیلاب کے خطرات پیدا ہو سکتے ہیں۔

این ڈی ایم اے نے تصدیق کی ہے کہ وہ متاثرہ علاقوں میں ریلیف آپریشنز کی نگرانی کررہا ہے اور تمام متعلقہ ادارے ممکنہ ہنگامی حالات سے نمٹنے کے لیے اعلیٰ الرٹ پر ہیں۔ حکام نے خبردار کیا کہ مزید بارشیں زمین کھسکنے کے مزید واقعات کا سبب بن سکتی ہیں اور عوام سے محتاط رہنے اور حفاظتی اقدامات اختیار کرنے کی اپیل کی گئی ہے۔

سیاحوں کو شمالی علاقوں کا سفر کرنے سے گریز کرنے کی ہدایت کی گئی ہے کیونکہ وہاں بھاری بارش اور زمین کھسکنے کے زیادہ خطرات ہیں۔