وزیرِاعظم محمد شہباز شریف نے جمعہ کے روز آبی گزرگاہوں پر غیرقانونی تعمیرات کی حوصلہ شکنی پر زور دیتے ہوئے کہا ہے کہ وہ جلد اس سنگین مسئلے پر غور کے لیے ایک اجلاس طلب کریں گے۔

قدرتی یا انسان ساختہ آبی راستوں، جیسا کہ دریا، نہریں، نالے، یا بارش کے پانی کے بہاؤ کی گزرگاہیں، پر قبضے اور تعمیرات کو شدید بارشوں اور سیلاب کے دوران بڑے پیمانے پر انسانی جانوں کے ضیاع کا سبب قرار دیا جاتا ہے۔

وزیرِاعظم نے 2022 کے تباہ کن سیلابوں کو یاد کرتے ہوئے کہا کہ اُس وقت جہاں بڑے پیمانے پر املاک کو نقصان پہنچا، وہیں تقریباً 100 افراد جان کی بازی ہار گئے۔ انہوں نے حالیہ طوفانی بارشوں اور بادل پھٹنے کے واقعات کو مزید خطرناک قرار دیتے ہوئے انکشاف کیا کہ اس بار متاثرہ علاقہ اگرچہ محدود تھا، مگر انسانی جانوں کا نقصان کہیں زیادہ ہوا، اب تک 700 سے زائد افراد جاں بحق ہو چکے ہیں، جن میں سے 400 سے زائد کا تعلق خیبر پختونخوا سے ہے۔ وزیرِاعظم نے متعلقہ اداروں پر زور دیا کہ وہ آبی گزرگاہوں پر تجاوزات کے خلاف موثر کارروائی کریں تاکہ مستقبل میں ایسے سانحات سے بچا جا سکے۔

وزیرِاعظم نے کراچی، گلگت بلتستان اور آزاد جموں و کشمیر میں موسم سے جڑے ایسے ہی دیگر سانحات کا بھی ذکر کیا اور متاثرہ افراد سے اظہارِ یکجہتی کیا ہے۔

۔

وفاقی کابینہ کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وزیرِاعظم شہباز شریف نے سیلاب متاثرہ خاندانوں کی، خصوصاً خیبر پختونخوا کے متاثرہ علاقوں میں، بھرپور امداد اور بحالی کے عمل کو تیز تر کرنے کے لیے وفاقی حکومت کے غیر متزلزل عزم کا اعادہ کیا۔

انہوں نے حالیہ شدید بارشوں، بادل پھٹنے اور طوفانی سیلاب کے واقعات پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ ان موسمی آفات نے صوبے بھر، بالخصوص سوات، صوابی، مانسہرہ اور شانگلہ میں شدید تباہی مچائی ہے۔

وزیرِاعظم نے اس بات پر زور دیا کہ وفاقی وزراء، متعلقہ سیکرٹریز، چیئرمین نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (این ڈی ایم اے) اور مسلح افواج متاثرہ علاقوں میں جاری امدادی سرگرمیوں میں مکمل طور پر مصروفِ عمل ہیں۔

وزیرِاعظم نے بتایا کہ چیف آف آرمی اسٹاف فیلڈ مارشل عاصم منیر نے حالیہ دورۂ بونیر اور خیبر پختونخوا کے دیگر سیلاب زدہ علاقوں میں ان کے ہمراہ دورہ کیا، جس سے وفاقی حکومت اور افواجِ پاکستان کی متاثرہ علاقوں سے وابستگی اور یکجہتی کا اظہار ہوتا ہے۔

انہوں نے درختوں کی کٹائی اور اس کے ماحولیاتی اثرات پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ گلیات سمیت ملک کے دیگر علاقوں میں بڑے پیمانے پر درختوں کی کٹائی جاری ہے، جو ماحولیاتی تباہی کی ایک اہم وجہ ہے۔

چینی وزیرِ خارجہ وانگ ای کے دورۂ پاکستان کا ذکر کرتے ہوئے وزیرِاعظم نے کہا کہ پاک چین تزویراتی دوستی روز بروز مزید مضبوط ہو رہی ہے۔ انہوں نے یہ بھی بتایا کہ وہ جلد شنگھائی تعاون تنظیم (ایس سی او) سربراہ اجلاس میں شرکت کے لیے چین کا دورہ کریں گے، جہاں وہ چینی قیادت سے ملاقات بھی کریں گے۔

وفاقی کابینہ نے حالیہ بارشوں اور طوفانی سیلاب میں جاں بحق ہونے والے افراد کے لیے فاتحہ خوانی بھی کی اور ان کے اہل خانہ سے گہرے رنج و غم کا اظہار کیا۔