گردشی قرضوں کا عفریت آج پاکستان کی خودمختاری اور بقاء کے لیے ان گمبھیر ترین خطرات میں سے ایک بن چکا ہے، جو دہشت گردی اور بغاوت جیسے دیرینہ مسائل کے ہم پلہ ہے۔
توانائی کے شعبے میں گردشی قرضہ آج پانچ کھرب روپے سے تجاوز کر چکا ہے اور یہ ایک ایسا مالیاتی گرداب بن چکا ہے جو حکومت کو مفلوج کر رہا ہے، معیشت کی ترقی کے راستے مسدود کر رہا ہے اور شہریوں پر ناقابلِ برداشت ٹیرف کی شکل میں بوجھ ڈال رہا ہے۔
جب تک پاکستان تخلیقی، اختراعی اور جرات مندانہ انداز میں سوچنا شروع نہیں کرتا، یہ بڑھتا ہوا قرضہ قومی معیشت کی بنیادوں کو کھوکھلا کرتا رہے گا۔
ایک قابلِ عمل اور تزویراتی (اسٹرٹیجک) حل یہ ہے کہ پاکستان کو خطے میں بجلی برآمد کرنے والا ملک بنایا جائے، جو افغانستان، چین، اور حتیٰ کہ بھارت کو بجلی فراہم کرے۔ اس سے نہ صرف پاکستان کی اضافی توانائی کو مالی قدر حاصل ہوگی بلکہ ایک ایسا مشترکہ علاقائی گرڈ تشکیل پا سکتا ہے جو استحکام، باہمی انحصار، اور امن کو فروغ دے۔
گزشتہ دو برسوں میں پاکستان، چین اور افغانستان کے مابین وزرائے خارجہ کی سہ فریقی میٹنگز منعقد ہو چکی ہیں، لیکن ان کا نتیجہ محض رسمی اعلامیوں تک محدود رہا ہے۔ ان مذاکرات میں کسی ٹھوس پیش رفت یا قابلِ عمل اقدامات کا کوئی واضح اشارہ نہیں ملتا، اور سچ یہ ہے کہ کوئی نہیں جانتا کہ آیا واقعی کچھ پیش رفت ہوئی بھی ہے یا نہیں — کیونکہ تمام بات چیت سفارتی مبہمیت میں لپٹی ہوئی ہے۔
البتہ ایک بات واضح ہے کہ سرکاری بیانات میں تعاون کا ذکر ہوتا ہے، لیکن زمینی حقائق کچھ اور ہی کہانی سناتے ہیں۔ افغانستان سے آنے والے کالعدم تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) کے حملہ آور خیبر پختونخوا اور بلوچستان میں مہلک حملے جاری رکھے ہوئے ہیں، جن میں فوجی اور عام شہری جان سے جا رہے ہیں۔
یہ تمثیل دردناک حد تک واضح ہے: پاکستان اور افغانستان ”ایک ہی گرڈ“ پر نہیں ہیں، توانائی میں اور نہ ہی سیکورٹی میں۔ جب تک یہ دونوں ممالک کسی مشترکہ پلیٹ فارم پر نہیں آتے، خون بہتا رہے گا، خاص طور پر پاکستان کا، جس کے سپاہیوں کا خون سرحدی علاقوں میں بہہ رہا ہے اور اس کی معیشت گردشی قرضے کی دلدل میں دھنستی جا رہی ہے۔
سوال یہ ہے کہ ہمسایوں کو ایک ہی گرڈ پر کیسے لایا جائے؟
یہ کوئی محض علمی بحث نہیں، بلکہ قومی بقاء کا سوال ہے۔ امید کی جا سکتی ہے کہ یہ دلیل اُن پالیسی سازوں تک پہنچے گی جو بیک وقت بغاوت، دہشت گردی، معاشی کمزوری، اور اب گردشی قرضے جیسے سنگین خطرے کا سامنا کر رہے ہیں، ایک ایسا خطرہ جو ریاستی خودمختاری کو شاید دہشت گردی سے بھی زیادہ مؤثر انداز میں کھوکھلا کر رہا ہے۔
حل کے لیے روایتی سوچ سے ہٹ کر عملی حکمتِ عملی کی ضرورت ہے، ایسی حکمتِ عملی جو مفاداتی گروہوں سے وفاداری کی بجائے ریاستِ پاکستان سے وفاداری پر مبنی ہو۔
اس سمت میں پہلا قدم چین، افغانستان اور پاکستان کی موجودہ بجلی کی پیداواری صلاحیت اور مستقبل کی ضروریات کا تجزیہ ہے۔
چین کا کیس
نومبر 2014 میں، انجینئر اے ایچ اے نے وزیراعظم کو بیجنگ روانگی سے قبل ایک خط لکھا، جس میں پاکستان اور چین کے بجلی کے گرڈ کو جوڑنے کی تجویز دی گئی تھی۔ اس وقت بھی یہ تجویز دونوں ممالک کے تاریخی تعلقات اور دوطرفہ تعاون کی صلاحیت کو سامنے رکھ کر دی گئی تھی، اور آج یہ پہلے سے زیادہ متعلقہ ہے۔
چین اس وقت 3,349 گیگاواٹ کی پیداواری صلاحیت رکھتا ہے، جس کا 56 فیصد سے زائد حصہ قابلِ تجدید ذرائع سے حاصل ہوتا ہے، مگر یہ بھی اس کی آئندہ ضروریات کو پورا کرنے کے لیے ناکافی ہے۔ 2035 تک صنعتی ترقی، ٹرانسپورٹ کی برقی کاری، ڈیٹا سینٹرز اور مصنوعی ذہانت کی بڑھتی ہوئی طلب کے باعث اس کی بجلی کی ضرورت میں شدید اضافہ ہوگا۔ اگر پاکستان اپنا شمالی گرڈ سنکیانگ سے جوڑ لے تو اضافی پن بجلی اور قابلِ تجدید توانائی چین کو برآمد کی جا سکتی ہے — اور اس سے پاکستان کو قیمتی زرمبادلہ بھی حاصل ہوگا۔
افغانستان کا کیس
افغانستان بمشکل 600 میگاواٹ بجلی خود پیدا کرتا ہے، جب کہ اس کی ضرورت کم از کم 5,000 میگاواٹ ہے، جو آبادی میں اضافے، وطن واپسی کرنے والے تارکین وطن، اور اقتصادی سرگرمیوں کے بڑھنے کے ساتھ 7,000 میگاواٹ تک جا سکتی ہے۔ افغانستان پہلے ہی ایران، تاجکستان، ترکمانستان اور ازبکستان سے 720 میگاواٹ سے زائد بجلی درآمد کر رہا ہے، مگر حیران کن طور پر پاکستان سے ایک واٹ بھی نہیں لیتا۔
یہ ایک سیاسی اور تکنیکی ناکامی ہے۔ اگر پاکستان افغانستان کو بجلی فراہم کرے، تو وہ وسط ایشیاء پر اپنا انحصار کم کر سکتا ہے، جب کہ پاکستان کو ایک پائیدار برآمدی منڈی اور ہمسایہ ملک کے ساتھ مستحکم تعلقات حاصل ہوں گے۔
یہ صرف توانائی کی فراہمی کا معاملہ نہیں، یہ ایک مشترکہ اقتصادی مستقبل کی بنیاد بن سکتا ہے، جو شدت پسندی کی کشش کو کم کرے اور استحکام کو باہمی مفاد بنا دے۔ یوں بجلی ایک سادہ تجارتی شے کے بجائے امن کی کرنسی بن سکتی ہے۔
پاکستان کی متضاد صورتِ حال
افسوسناک طور پر، جہاں افغانستان میں قلت ہے اور چین میں طلب، وہیں پاکستان خود ایک تباہ کن تضاد کا شکار ہے، یعنی ”افراد کی بھوک، گودام میں اناج“ والا معاملہ۔
پاکستان کی کل پیداواری صلاحیت 46,605 میگاواٹ ہے، جس میں نیٹ میٹرنگ سے حاصل کردہ 2,813 میگاواٹ بھی شامل ہیں۔ مگر یہ اعدادوشمار دھوکہ دہ ہیں، کیونکہ زیادہ تر صلاحیت غیر استعمال شدہ ہے، وجہ: پیداوار، ترسیل اور تقسیم کی خامیاں۔
اس سے بھی زیادہ خطرناک بات یہ ہے کہ بجلی کی طلب ہر سال 10 سے 12 فیصد کی شرح سے کم ہو رہی ہے، کیونکہ صارفین مہنگے نرخوں کے خلاف بغاوت کر چکے ہیں، جو نیپرا، سی پی پی اے، پی پی آئی بی، اور وزارتِ توانائی کے نافذ کردہ ہیں۔
تقریباً آدھی بجلی گھریلو صارفین استعمال کرتے ہیں، جن میں سے بے شمار اب گرڈ سے کنارہ کش ہو کر ذاتی سولر پینلز پر منتقل ہو رہے ہیں — خواہ انہیں گھر کا سامان یا مویشی فروخت کرنے پڑیں۔ زراعت کے شعبے میں بھی یہی رحجان ہے۔
خطرہ یہ ہے کہ آئندہ ایک سال میں صرف وہی لوگ قومی گرڈ سے منسلک رہیں گے جو بجلی چوری کرتے ہیں؛ جب کہ دیانت دار صارفین مکمل طور پر الگ ہو جائیں گے۔ جدید بیٹری ٹیکنالوجی کی تیز ترقی اس عمل کو مزید تیز کر رہی ہے۔
غیر ضروری پیداوار: تباہی کا نسخہ
اس کے باوجود ریاست نئی پیداواری صلاحیت شامل کر رہی ہے۔ پی پی آئی بی 6,026 میگاواٹ کی آئی پی پیز کی شمولیت کے لیے پرعزم ہے۔ بڑے منصوبے جیسے دیامر بھاشا، مہمند، داسو اور تربیلا کا پانچواں منصوبہ مزید 12,000 میگاواٹ شامل کریں گے۔
جب ملک کے پاس پہلے ہی 35,000 میگاواٹ سے زائد اضافی صلاحیت موجود ہے، تو سوال یہ ہے: کیا اس اضافی بجلی کے لیے کوئی منصوبہ بندی ہے؟ اس گردشی قرضے کے تناظر میں، کیا اس بے قابو پیداواری رجحان نے خطرے کو کئی گنا نہیں بڑھا دیا؟
بدقسمتی سے، جواب نفی میں ہے، اور حکومتی منصوبے جیسے ”اُڑان پاکستان“ ان خطرات کا ذکر تک نہیں کرتے۔
خطے کو بجلی برآمد کرنا ہی واحد راستہ ہے
افغانستان قدرتی خریدار ہے، چین ایک بہت بڑی منڈی، اور بھارت، دشمن سہی، لیکن نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ بھارت نے پہلے ہی مغربی دریاؤں پر 14,000 میگاواٹ کے پن بجلی منصوبوں کے لیے سندھ طاس معاہدہ معطل کر دیا ہے۔ اگر پاکستان بھارت کو بجلی بیچے، تو یہ کشمیر اور ہماچل کے جنگلات کو بچا سکتا ہے جو پن بجلی منصوبوں کی وجہ سے تباہ ہو رہے ہیں۔ یہ تجویز سیاسی طور پر تھوڑی ناپسندیدہ ہو سکتی ہے، لیکن اس کی مثالیں موجود ہیں۔
بھارت نے نیپال، بھوٹان، بنگلہ دیش اور میانمار کے ساتھ بجلی کے رابطے قائم کر لیے ہیں اور اب سری لنکا کے ساتھ بھی اسی نوعیت کے روابط کے لیے کوشاں ہے۔ اس کے برعکس، پاکستان اب تک گوادر اور گلگت بلتستان جیسے اپنے ہی علاقوں کو قومی گرڈ سے منسلک کرنے میں ناکام رہا ہے، اور اس ناکامی کی بنیادی وجہ نیشنل ٹرانسمیشن اینڈ ڈسپیچ کمپنی (این ٹی ڈی سی) اور وزارتِ توانائی کی بیوروکریٹک سستی اور جمود ہے۔
اگر بھارت اپنے ہمسایوں کے ساتھ منطقی اور تزویراتی سطح پر بجلی کے روابط قائم کر سکتا ہے، تو پاکستان بھی قومی بقاء کی خاطر اس نوعیت کی حکمتِ عملی اپنا سکتا ہے — چاہے وہ کسی مخالف ملک کے ساتھ ہی کیوں نہ ہو۔
اگر پاکستان چین، افغانستان اور بالآخر بھارت کے ساتھ بجلی کے گرڈ کو مربوط کر لے، تو وہ اپنی اضافی بجلی کو برآمدی شے میں بدل سکتا ہے، بیکار پیداواری صلاحیت کو مالیاتی قدر میں ڈھال سکتا ہے، توانائی کے شعبے کو مستحکم کر سکتا ہے، اور اس گردشی قرضے میں کمی لا سکتا ہے جو آج ریاست کی خودمختاری کو ہی خطرے میں ڈال رہا ہے۔
اسی کے ساتھ، یہ رابطہ کاری (کنیکٹویٹی) علاقائی معیشتوں کو باہم جوڑ سکتی ہے، انتہاپسندی کی کشش کو کم کر سکتی ہے، اور بجلی کو امن اور خوشحالی کے انجن میں تبدیل کر سکتی ہے۔
اگر برآمدات شروع نہ کی گئیں، تو پاکستان کی زائد پیداواری صلاحیت بےکار پڑی رہے گی، اور یہ صرف گردشی قرضے میں مزید اضافہ کرے گی، یہاں تک کہ توانائی کا پورا شعبہ اپنے ہی بوجھ تلے بیٹھ جائے۔
گردشی قرضہ آج دہشت گردی سے بھی زیادہ خطرناک دشمن بن چکا ہے، کیونکہ یہ ریاستی خودمختاری کو خاموشی اور تسلسل کے ساتھ چاٹ رہا ہے۔
دہشت گردی جسم کو مارتی ہے، مگر گردشی قرضہ ریاست کی روح کو مفلوج کر دیتا ہے، اس کی حکمرانی کی مالی صلاحیت کو کمزور بنا کر۔ اگر پاکستان نے بروقت اور دانشمندانہ اقدامات نہ کیے، تو 35,000 میگاواٹ کی یہ نصب شدہ زائد صلاحیت ایک اثاثہ بننے کے بجائے معیشت کے گلے کا پھندہ بن جائے گی۔
لیکن اگر دانائی سے کام لیا گیا، تو یہی صلاحیت ایک طاقت میں تبدیل ہو سکتی ہے، پڑوسی ممالک کو بجلی برآمد کر کے پاکستان کو ایک علاقائی توانائی مرکز (ریجنل انرجی ہب) میں تبدیل کیا جا سکتا ہے۔
لہٰذا نتیجہ سادہ مگر نہایت فوری ہے: پاکستان صرف گھریلو استعمال کے لیے بجلی پیدا کر کے زندہ نہیں رہ سکتا۔ اسے بجلی برآمد کرنی ہوگی، علاقائی انضمام کو اپنانا ہوگا، اپنی تقدیر کو خطے کے ساتھ ایک مشترکہ گرڈ اور ایک مشترکہ مستقبل سے جوڑنا ہوگا۔ یہی وہ واحد راستہ ہے جو گردشی قرضے کو روک سکتا ہے، معیشت کو استحکام دے سکتا ہے، اور پائیدار امن کے لیے سازگار حالات پیدا کر سکتا ہے۔
کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2025