انٹربینک مارکیٹ میں جمعرات کو بھی ڈالر کے مقابلے روپے کی قدر میں بہتری کا سلسلہ جاری رہا۔
کاروبار کے اختتام پر ڈالر کے مقابلے روپیہ 3 پیسے یا 0.01 فیصد کی بہتری سے 281.92 پرجاپہنچا۔
یاد رہے کہ بدھ کو ڈالر 281.95 روپے پر بند ہوا تھا۔
گزشتہ چند دنوں میں ڈالر کے مقابلے روپے کی قدر میں مثبت رجحان دیکھا جارہا ہے جس کی وجہ کرنسی مارکیٹ میں بہتر ہوتا ہوا اعتماد ہے، یہ بہتری قانون نافذ کرنے والے اداروں کی جانب سے غیر قانونی کرنسی ڈیلرز اور اسمگلرز کے خلاف جاری کریک ڈاؤن کے باعث دیکھنے میں آئی ہے۔
بین الاقوامی سطح پر امریکی ڈالر جمعرات کو قدرے کمزور ہوا کیونکہ سرمایہ کاروں کو فیڈرل ریزرو کی خودمختاری کے بارے میں تشویش لاحق رہی۔ یہ خدشات اس وقت بڑھے جب صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک بار پھر فیڈ پر تنقید کی، جبکہ فیڈ چیئر جیروم پاول کی جانب سے اس ہفتے کے آخر میں متوقع تقریر شرح سود کے حوالے سے آئندہ منظرنامے کو متاثر کر سکتی ہے۔
ٹرمپ نے فیڈ گورنر لیزا کُک سے استعفیٰ کا مطالبہ کیا ہے، اپنے ایک سیاسی اتحادی کی جانب سے مشی گن اور جارجیا میں اُن کے رہن (مورگیجز) سے متعلق لگائے گئے الزامات کو بنیاد بناتے ہوئے۔ یہ مطالبہ امریکی مرکزی بینک پر اثر و رسوخ بڑھانے کی اُن کی کوششوں کو مزید تیز کررہا ہے۔
جاپانی ین نے گزشتہ سیشنز میں حاصل ہونے والے فوائد کو برقرار رکھا اور ڈالر کے مقابلے میں 147.41 پر تقریباً بغیر کسی تبدیلی کے ٹریڈ ہوا، جبکہ یورو 1.1642 ڈالر پر مستحکم رہا۔ اسٹرلنگ کی آخری قیمت 1.34535 ڈالر رہی۔
اس کے نتیجے میں ڈالر انڈیکس 98.301 پر مستحکم رہا۔
ٹرمپ نے بارہا پاول پر تنقید کی کہ وہ شرح سود میں کمی کرنے میں سست روی کا مظاہرہ کررہے ہیں جس سے سرمایہ کاروں کو مرکزی بینک کی خودمختاری اور اس کی ساکھ کے بارے میں خدشات لاحق ہو گئے ہیں۔