آج نیوز کے مطابق کراچی شہر میں طوفانی بارش کے نتیجے میں منگل کے روز کم از کم 12 افراد مختلف واقعات میں جاں بحق ہو گئے۔

گلستانِ جوہر بلاک 12 میں جھونپڑیوں کے قریب ایک مکان کی دیوار گرنے سے 4 افراد جان کی بازی ہار گئے، جبکہ اورنگی ٹاؤن سیکٹر 11 میں ایک اور شخص دیوار گرنے کے باعث جاں بحق ہو گیا۔

مزید برآں، نارتھ کراچی اور شاہ فیصل کالونی میں کرنٹ لگنے سے کم از کم 4 افراد جاں بحق ہوئے۔

ملیر کے ایک پٹرول پمپ پر شارٹ سرکٹ کے نتیجے میں ایک شخص جھلس کر جان سے گیا۔

ریڈیو پاکستان کے مطابق وزیرِ اعظم شہباز شریف نے بدھ کے روز وزیرِ اعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ کو فون کر کے صورتحال پر تبادلہ خیال کیا اور ایمرجنسی سے نمٹنے کے لیے سندھ حکومت کو وفاق کی مکمل معاونت کی پیشکش کی۔

وزیرِ اعظم نے نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (این ڈی ایم اے) کے چیئرمین کو ہدایت دی کہ وہ سندھ حکومت کے ساتھ مسلسل رابطے میں رہیں اور ایمرجنسی کے دوران ان کی ضروریات کے مطابق مکمل تعاون کریں۔

منگل کے روز کراچی شدید بارش کے ساتھ بیدار ہوا، جس نے بڑے پیمانے پر شہری سیلاب، بجلی اور انٹرنیٹ کی بندش کو جنم دیا۔

محکمہ موسمیات نے پیش گوئی کی ہے کہ 19 سے 22 اگست کے دوران کراچی، حیدرآباد، ٹھٹھہ، بدین، سجاول، میرپور خاص، عمرکوٹ، تھرپارکر، جامشورو، سانگھڑ، ٹنڈو الٰہیار، ٹنڈو محمد خان اور شہید بے نظیر آباد میں مزید بارشوں اور بعض مقامات پر شدید سے نہایت شدید بارشوں کا امکان ہے۔

بلوچستان کے شمالی اور جنوب مشرقی اضلاع، بشمول گوادر، کیچ، خضدار، سبی، ژوب، پنجگور، بارکھان اور موسیٰ خیل میں بھی فلیش فلڈز کے خدشے کے باعث الرٹ جاری کر دیا گیا ہے۔

جبکہ اسلام آباد، بالائی پنجاب، کشمیر، گلگت بلتستان اور خیبر پختونخوا میں بھی کہیں کہیں بارش کا امکان ہے۔

این ڈی ایم اے کے مطابق، 26 جون سے اب تک ملک بھر میں مجموعی ہلاکتوں کی تعداد 707 تک پہنچ گئی ہے جبکہ 967 افراد زخمی ہو چکے ہیں۔ یہ اموات اور زخمی ہونے کے واقعات مون سون کے دوران فلیش فلڈز، لینڈ سلائیڈز، مڈ سلائیڈز اور دیگر حادثات کے نتیجے میں پیش آئے۔