وزیراعلیٰ بلوچستان سرفراز بگٹی نے پیر کے روز بتایا ہے کہ سیکورٹی فورسز نے یومِ آزادی (14 اگست) پر دہشتگردی کی ایک بڑی کوشش ناکام بنا دی ہے اور ایک ممکنہ خودکش حملہ آور کو گرفتار کر لیا گیا ہے۔ انہوں نے اس کامیابی کو بلوچستان میں علیحدگی پسند عناصر کے خلاف ایک بڑی پیش رفت قرار دیا ہے۔

پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے، جو انہوں نے اعلیٰ حکام کے ہمراہ کی، سرفراز بگٹی نے مزید کہا کہ گرفتار مشتبہ شخص ڈاکٹر محمد عثمان قاضی ہے، جو گریڈ 18 کا یونیورسٹی لیکچرار ہے۔ وزیراعلیٰ کے مطابق، ملزم نے 14 اگست کو شہریوں کو نشانہ بنانے کا منصوبہ بنایا تھا۔

ڈاکٹر قاضی پر الزام ہے کہ وہ نومبر 2024 میں کوئٹہ ریلوے اسٹیشن پر ہونے والے بم دھماکے میں سہولت کار کے طور پر بھی ملوث تھا، جس میں 32 افراد جاں بحق اور 50 سے زائد زخمی ہوئے تھے۔

سرفراز بگٹی نے کہا ہے کہ ملزم کالعدم تنظیم بلوچستان لبریشن آرمی (بی ایل اے) کے مجید بریگیڈ سے تعلق رکھتا ہے، جو کئی سطحوں پر کام کرتی ہے اور حالیہ عرصے میں سیکورٹی فورسز پر حملوں میں تیزی لائی ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ یہ پہلا موقع ہے کہ سیکورٹی فورسز نے اس تنظیم کے اعلیٰ سطح کے کسی رہنما کو گرفتار کیا ہے۔

وزیراعلیٰ نے کہا کہ اس گرفتاری سے ”بڑی تباہی“ ٹال دی گئی اور کاؤنٹر ٹیرر ازم ڈیپارٹمنٹ (سی ٹی ڈی) اور پولیس کی بروقت کارروائی کو سراہا۔

پریس بریفنگ کے دوران ملزم کا ریکارڈ شدہ بیان بھی سنایا گیا، جس میں اس نے اپنا تعلیمی و پیشہ ورانہ پس منظر اور سرکاری ملازمت سے منسلک خاندانی افراد کی تصدیق کی ہے۔

۔

وزیراعلیٰ بلوچستان سرفراز بگٹی نے اس بیانیے کو مسترد کر دیا کہ شدت پسندی محرومی کا نتیجہ ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ گرفتار ملزم ڈاکٹر محمد عثمان قاضی اور اس کا خاندان نہ صرف تعلیم یافتہ بلکہ مالی طور پر مستحکم بھی ہے، ان کے پاس سرکاری ملازمتیں اور اسکالرشپس تھیں۔

انہوں نے کہا کہ یہ گھڑا گھڑایا بیانیہ پاکستان کے خلاف جنگ کو جائز قرار دینے کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔

وزیراعلیٰ نے متنبہ کیا کہ دہشتگردوں کو پناہ دینے والوں کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی۔ انہوں نے انکشاف کیا کہ قاضی سے منسلک ایک ممکنہ خودکش حملہ آور کے پڑوسیوں نے پولیس چھاپے کے دوران مزاحمت کی تھی، اور اب اُن سب کو گرفتار کیا جا چکا ہے۔

سرفراز بگٹی نے انسدادِ دہشتگردی سے متعلق وسیع تر اقدامات کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ صوبائی حکومت نے چوتھے شیڈول کے تحت 2000 سے زائد افراد کی چھان بین کی ہے، جن میں سرکاری ملازمین بھی شامل ہیں۔ کچھ افراد کو کلیئر کر دیا گیا جبکہ دیگر کو معطل یا برطرف کیا گیا۔

انہوں نے واضح الفاظ میں کہا کہ ہم کسی کو نہیں چھوڑیں گے۔ یہ جنگ میدانِ جنگ میں بھی لڑیں گے اور قانون کی زبان میں بھی۔

واضح رہے کہ بلوچستان میں حالیہ مہینوں کے دوران دہشتگردی کے واقعات میں نمایاں اضافہ ہوا ہے، اور بی ایل اے جیسی تنظیمیں نئی حکمتِ عملی اپنا کر زیادہ جانی نقصان اور سیکورٹی فورسز کو براہِ راست نشانہ بنانے کی کوششیں کر رہی ہیں۔