پاکستان میں سیلاب متاثرہ علاقوں میں ریسکیو آپریشنز دوبارہ شروع، ہلاکتیں 300 سے زائد
- مون سون کی بارشوں اور سیلاب نے پاکستان میں 657 افراد کی جانیں لے لی
پاکستان کے شمالی علاقوں میں پیر کے روز ریسکیو اور امدادی کارروائیاں دوبارہ شروع کر دی گئیں جہاں طوفانی بارشوں کے بعد آنے والے سیلاب نے 300 سے زائد جانیں لے لیں۔ ایک سرکاری اہلکار نے بتایا کہ بھاری بارشوں کی وجہ سے کئی گھنٹوں تک کارروائیاں معطل رہیں۔
نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (این ڈی ایم اے) کے مطابق جمعے سے شروع ہونے والی شدید بارشوں نے متعدد شمالی اضلاع میں تباہی مچائی اور سب سے زیادہ ہلاکتیں طوفانی سیلابوں کے باعث ہوئیں۔
پہاڑی علاقوں میں بارشوں نے اچانک آنے والے سیلابوں کے ساتھ ساتھ مٹی اور پتھروں کے تودے بھی گرئے جس سے مکانات، عمارتیں، گاڑیاں اور دیگر سامان بہہ گیا۔
بونیر ضلع سب سے زیادہ متاثر ہوا جہاں 200 سے زائد اموات ہوئیں۔
ایک مقامی سرکاری افسر عابد وزیر نے رائٹرز کو بتایا کہ بونیر سمیت متاثرہ علاقوں میں پیر کے روز شدید بارشوں کے باعث ریسکیو ٹیموں کو کئی گھنٹے امدادی کام روکنا پڑا۔
انہوں نے کہا کہ ہماری اولین ترجیح اب سڑکوں کی بحالی، عارضی پل قائم کرنا اور متاثرہ افراد تک امداد پہنچانا ہے۔
اطلاعات و نشریات کے وزیر عطا اللہ تارڑ نے ایک مقامی نیوز چینل کو بتایا کہ متاثرہ علاقوں میں امدادی سامان روانہ کر دیا گیا ہے۔
این ڈی ایم اے نے اپنے بیان میں کہا کہ امدادی سامان میں خوراک، ادویات، کمبل، کیمپ، بجلی پیدا کرنے والا جنریٹر اور پانی نکالنے کے پمپ شامل ہیں۔
بونیر، جو اسلام آباد سے ساڑھے تین گھنٹے کی مسافت پر واقع ہے، بادل پھٹنے (کلائوڈ برسٹ) کے نایاب واقعے سے متاثر ہوا، جس میں ایک گھنٹے کے اندر 100 ملی میٹر سے زائد بارش ہوتی ہے۔
حکام کے مطابق بونیر میں جمعہ کی صبح ایک گھنٹے کے دوران 150 ملی میٹر سے زیادہ بارش ریکارڈ کی گئی۔
حکام نے بتایا کہ ستمبر کے اوائل تک پاکستان کے مختلف حصوں میں مزید بارشوں کی پیشگوئی ہے۔
این ڈی ایم اے نے اتوار کو کہا کہ موجودہ موسمی نظام پاکستان کے خطے پر فعال ہے اور آئندہ 24 گھنٹوں میں شدید سے نہایت شدید بارشوں کا باعث بن سکتا ہے۔
انہوں نے مزید بتایا کہ رواں مون سون سیزن میں اب تک جون کے آخر سے ملک بھر میں 657 افراد بارشوں اور سیلاب کے باعث جاں بحق ہو چکے ہیں۔