انٹربینک مارکیٹ میں ڈالر کے مقابلے روپے کی قدر میں بہتری کا سلسلہ جاری ہے۔ پیر کو بھی ڈالر کی نسبت روپیہ 0.09 فیصد تگڑا رہا۔
کاروبار کے اختتام پر ڈالر کے مقابلے روپیہ 4 پیسے کی بہتری سے 282.02 روپے کا ہوگیا۔
حالیہ دنوں میں روپے کی مثبت پیش رفت کرنسی مارکیٹ میں بہتر اعتماد اور غیر قانونی منی چینجرز و اسمگلرز کے خلاف قانون نافذ کرنے والے اداروں کی جاری کارروائیوں کا نتیجہ ہے۔
گزشتہ ہفتے انٹربینک مارکیٹ میں ڈالر کے مقابلے روپیہ 41 پیسے یعنی 0.14 فیصد کے اضافے سے 282.06 کا ہوگیا تھا۔
بین الاقوامی سطح پر امریکی ڈالر پیر کو قدرے غیر یقینی کا شکار رہا کیونکہ سرمایہ کار امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور اُن کے یوکرینی ہم منصب وولودیمیر زیلینسکی کی اہم ملاقات کے ساتھ ساتھ فیڈرل ریزرو کے جیکسن ہول سمپوزیم سے ممکنہ مالیاتی پالیسی کے اشاروں کا انتظار کررہے ہیں۔
ابتدائی ایشیائی سیشن میں کرنسی کی حرکات نسبتاً محدود رہیں، تاہم ڈالر پچھلے ہفتے کی کمی کے بعد مستحکم ہوا کیونکہ تاجروں نے اگلے ماہ فیڈرل ریزرو کی ممکنہ بڑی شرح سود میں کمی کے امکانات کم کر دیے۔
یورو کی قدر 1.1705 ڈالر پر مستحکم رہی، جبکہ اسٹرلنگ میں معمولی اضافہ دیکھنے میں آیا اور یہ 1.3557 ڈالر پر پہنچ گئی۔ دیگر کرنسیوں کے مقابلے میں امریکی ڈالر معمولی اضافے کے ساتھ 97.85 پر آگیا جو پچھلے ہفتے 0.4 فیصد کی کمی کے بعد ہے۔