پاکستان

پاکستان کے شمالی علاقوں میں موسلا دھار بارشوں کی تباہ کاریاں، تقریباً 200 افراد جاں بحق

  • باجوڑ میں ایم آئی-17 ہیلی کاپٹر کے حادثے میں دو پائلٹس سمیت 5 افراد جاں بحق
شائع August 15, 2025 اپ ڈیٹ August 15, 2025 10:44pm

نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (این ڈی ایم اے) نے جمعہ کو بتایا کہ گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران شدید بارشوں، سیلاب، لینڈ سلائیڈنگ اور آسمانی بجلی گرنے کے واقعات کے باعث ملک بھر میں تقریباً 200 افراد جاں بحق چکے ہیں، جن میں سے 180 کا تعلق خیبر پختونخوا سے ہے۔

خیبر پختونخوا کے مختلف اضلاع میں جاں بحق ہونے والوں میں 152 مرد، 15 خواتین اور 13 بچے شامل ہیں۔ سب سے زیادہ اموات ضلع بونیر میں ہوئیں جبکہ اس علاقے میں مزید 23 افراد زخمی بھی ہوئے ہیں۔

این ڈی ایم اے کے مطابق گلگت میں 5 اور آزاد جموں و کشمیر میں 9 افراد شدید بارشوں کے باعث جاں بحق ہوئے۔

متاثرہ علاقوں میں پی ڈی ایم اے، پاک فوج، ضلعی انتظامیہ، ریسکیو 1122 اور مقامی رضاکار امدادی سرگرمیوں میں مصروف ہیں۔

دوسری جانب وزیراعظم شہباز شریف نے ملک میں حالیہ بارشوں اور سیلابی صورتحال کا جائزہ لینے کے لیے ہنگامی اجلاس طلب کر لیا ہے۔

وزیراعظم آفس کے مطابق این ڈی ایم اے کے چیئرمین لیفٹیننٹ جنرل انعام حیدر ملک جلد وزیراعظم کو موجودہ صورتحال پر بریفنگ دیں گے۔

۔

آزاد جموں و کشمیر، گلگت بلتستان اور خیبر پختونخوا کے مختلف علاقوں میں بادل پھٹنے، موسلا دھار بارشوں اور اچانک آنے والے سیلاب نے تباہی مچا دی ہے، جس کے نتیجے میں ایک ہی دن میں درجنوں افراد جاں بحق اور متعدد زخمی ہو گئے۔

قومی آفات سے نمٹنے کے ادارے (این ڈی ایم اے) نے کہا ہے کہ وہ متعلقہ اداروں کی جانب سے جاری تمام امدادی سرگرمیوں کی مسلسل نگرانی کر رہا ہے۔

بیان میں کہا گیا: ”تمام ادارے کسی بھی ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کے لیے تیار ہیں۔ عوام سے اپیل ہے کہ وہ موجودہ بارشوں اور سیلاب کے دوران احتیاط برتیں اور ضروری حفاظتی تدابیر اختیار کریں۔“

۔

آج نیوز کے مطابق خیبرپختونخوا کے ضلع بونیر میں شدید بارشوں اور سیلابی ریلوں کے نتیجے میں کم از کم 75 افراد زندگی کی بازی ہار گئے۔ رکنِ صوبائی اسمبلی ریاض خان نے بتایا کہ پیر بابا اسپتال میں 80 لاشیں لائی گئی ہیں۔

ڈپٹی کمشنر بونیر کاشف قیوم کے مطابق ضلع میں سب سے زیادہ تباہی پیر بابا کے علاقے میں ہوئی، جہاں بارش سے متعلق مختلف حادثات میں جاں بحق ہونے والوں میں 40 مرد، 25 خواتین اور 10 بچے شامل ہیں۔ ان کے مطابق بڑی تعداد میں مویشی بھی ہلاک ہوئے ہیں۔

ڈپٹی کمشنر نے مزید بتایا کہ گکند کے علاقے میں ایک مسجد بھی منہدم ہوگئی ہے، جس کے بعد علاقے میں ایمرجنسی نافذ کر دی گئی ہے۔

دوسری جانب ملک کے شمالی علاقوں میں بادل پھٹنے، آسمانی بجلی گرنے، ندی نالوں کے بپھرنے، لینڈ سلائیڈنگ اور سڑکوں کی بندش کے باعث معمولاتِ زندگی مفلوج ہو کر رہ گئے ہیں۔

خیبرپختونخوا میں حالات کشیدہ

باجوڑ میں آسمانی بجلی گرنے سے پانچ افراد جاں بحق اور متعدد کچے مکانات تباہ ہو گئے۔

لوئر دیر کے لال قلعہ میدان میں سوری پاؤ گاؤں میں شدید بارش کے باعث مکان کی چھت گر گئی جس کے نتیجے میں 5 افراد جاں بحق اور 4 زخمی ہوگئے۔ جاں بحق ہونے والوں میں دو لڑکے، دو لڑکیاں اور ایک خاتون شامل ہیں۔ زخمیوں کو ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹر ہسپتال تیمرگرہ منتقل کر دیا گیا۔

۔

ریسکیو 1122 کے ترجمان عبدالرحمٰن کے مطابق، ایک حادثے میں خواتین اور بچوں سمیت 9 افراد ملبے تلے دب گئے تھے، جنہیں مقامی افراد اور ریسکیو ٹیموں نے کارروائی کے بعد زندہ نکال لیا۔

بونیر میں شدید بارشوں کے باعث گوکند اور پیر بابا کے علاقوں میں پانی جمع ہو گیا، اسکولوں میں سیلابی پانی داخل ہو گیا جبکہ متعدد مکانات زیرِ آب آ گئے۔ ایک مکان سیلابی ریلے میں بہہ گیا۔ گوکند میں آٹھ بچے پانی میں ڈوب کر جاں بحق ہو گئے، جب کہ ایک خاتون بھی طوفان کے دوران ڈوب گئیں، جن کی لاش بعد ازاں نکال لی گئی۔

مانسہرہ کے علاقے خیرآباد میں بارش کے باعث مکان کی چھت گرنے سے ماں اور بیٹی جاں بحق ہو گئیں۔

ایبٹ آباد میں دسویں جماعت کا طالب علم برساتی نالہ عبور کرتے ہوئے ڈوب کر جاں بحق ہو گیا، جب کہ ایک اور طالب علم اور ایک استاد زخمی ہوئے۔ سوات میں بھی چھت گرنے کے باعث ایک شخص جان کی بازی ہار گیا۔

سیلاب سے متاثرہ علاقوں میں امدادی سرگرمیاں شروع کر دی گئی ہیں۔ متاثرہ افراد کو محفوظ مقامات پر منتقل کرنے کے لیے تمام دستیاب وسائل بروئے کار لائے جا رہے ہیں، جب کہ پاک فوج اور دیگر ادارے بھی امدادی کارروائیوں میں حصہ لے رہے ہیں۔

ایم آئی-17 ہیلی کاپٹر حادثہ

ایک اور افسوسناک واقعے میں، خیبر پختونخوا حکومت کا ایم آئی-17 ہیلی کاپٹر، جو بارش سے متاثرہ باجوڑ کے علاقوں کے لیے امدادی سامان لے جا رہا تھا، خراب موسم کے باعث حادثے کا شکار ہو گیا ہے۔ خیبر پختونخوا کے وزیر اعلیٰ علی امین گنڈا پور نے واقعے کی تصدیق کی ہے۔

اس المناک حادثے میں عملے کے پانچ افراد، جن میں دو پائلٹس بھی شامل تھے، شہید ہو گئے۔

بارشوں کے باعث ہونے والی اموات کے بعد صوبائی حکومت نے خیبر پختونخوا میں ہفتے کے روز ایک روزہ سوگ کا اعلان کیا ہے۔

وزیراعلیٰ گنڈا پور نے کہا ہے کہ کل صوبے بھر میں قومی پرچم سرنگوں رہے گا، اور بتایا کہ ریسکیو ٹیمیں حادثے کی جگہ روانہ کر دی گئی ہیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ شہداء کی تدفین مکمل سرکاری اعزاز کے ساتھ کی جائے گی۔ ہم شہداء کے اہل خانہ کے غم میں برابر کے شریک ہیں۔ ہیلی کاپٹر کے عملے نے دوسروں کی جان بچانے کے لیے اپنی جان قربان کی ہے۔ وہ ہمارے سچے ہیرو ہیں اور ان کی قربانی تاریخ میں سنہری حروف سے لکھی جائے گی۔

باجوڑ میں ایک علیحدہ واقعے میں آسمانی بجلی گرنے سے پانچ افراد جاں بحق ہو گئے، اور کئی کچے مکانات تباہ ہو گئے۔

آزاد کشمیر میں تباہی

آزاد کشمیر میں طوفانی بارشوں، لینڈ سلائیڈنگ اور اچانک آنے والے سیلاب نے بڑے پیمانے پر تباہی مچائی ہے، جو تیسرے روز بھی جاری رہی۔ متعدد سڑکیں اور پل زمین بوس ہو چکے ہیں، جس کے باعث کئی علاقوں کا زمینی رابطہ منقطع ہو گیا ہے۔

ضلع مظفرآباد کی تحصیل نصیرآباد میں بادل پھٹنے کے باعث ساچھا نالہ میں طغیانی آ گئی، جس کی زد میں آکر ایک ہی خاندان کے چھ افراد سیلابی ریلے میں بہہ کر جاں بحق ہو گئے۔

ادھر پلندری کے قریب ایک ڈیم سے ایک نوجوان کی لاش برآمد ہوئی ہے، جب کہ اسی علاقے میں ایک خاتون جاں بحق اور دوسری زخمی ہو گئی۔

انتظامیہ کے مطابق نقصانات کا تخمینہ لگایا جا رہا ہے اور متاثرہ علاقوں میں امدادی کارروائیاں جاری ہیں۔

باغ میں سیاحوں کو لے جانے والی گاڑی سیلابی ریلے میں بہہ گئی تاہم خوش قسمتی سے سیاحوں کو بروقت بچا لیا گیا۔ وادی جہلم میں مچھرا ندی پر پل اور چار دکانیں بہہ گئیں۔

وادی نیلم میں رتی گلی میں 500 سیاح بیس کیمپ میں پھنس گئے۔ دریائے پونچھ میں پھنسے چار افراد کو بچا لیا گیا۔

مظفرآباد ایبٹ آباد روڈ لینڈ سلائیڈنگ کے باعث بند ہو گئی جس سے وادی جہلم، ہٹیاں بالا اور لیپہ ویلی سمیت اہم راستوں تک رسائی منقطع ہو گئی۔

مزید لینڈ سلائیڈنگ اور دریاؤں اور ندی نالوں میں طغیانی کے خطرے کے پیش نظر آزاد کشمیر کے تمام سرکاری اور نجی تعلیمی ادارے دو روز کے لیے بند کر دیے گئے ہیں۔

گلگت بلتستان میں تباہی

گلگت بلتستان میں بادل پھٹنے کے واقعات نے شدید تباہی مچائی ہے۔ ضلع غذر میں سیلابی صورتحال کے باعث جاں بحق افراد کی تعداد 11 ہو گئی ہے، جن میں سے 6 کی لاشیں نکال لی گئی ہیں۔ شندور اور دیوسائی جانے والی سڑکیں متعدد مقامات پر بند ہو چکی ہیں، جب کہ اشکومن اور یاسین کی تحصیلوں کا زمینی رابطہ مکمل طور پر منقطع ہو گیا ہے۔

دیامر میں دو افراد سیلابی ریلے میں بہہ گئے۔ اس کے علاوہ سکردو، کھرمنگ اور شگر کے درجنوں دیہات اچانک سیلاب کی زد میں آ گئے، جہاں مکانات، فصلیں، باغات اور بجلی کے کھمبے تباہ ہو چکے ہیں۔

اشکومن روڈ آٹھ مختلف مقامات پر بند ہے جبکہ دیوسائی کی سڑک بھی سیلاب سے مکمل طور پر تباہ ہو چکی ہے، جس کے باعث متعدد سیاح وہاں پھنس گئے ہیں۔

مقامی آبادی شدید مشکلات کا شکار ہے اور لوگ اپنی جان و مال کو بچانے کے لیے جدوجہد کر رہے ہیں۔ لینڈ سلائیڈنگ، کیچڑ کے تودے اور مسلسل بارش نے صورتحال کو مزید سنگین بنا دیا ہے۔

ملک کے دیگر حصوں میں بھی شدید بارشوں کی پیش گوئی

محکمہ موسمیات کے مطابق اسلام آباد، کشمیر، بالائی پنجاب، خیبرپختونخوا اور گلگت بلتستان میں آئندہ دنوں میں گرج چمک کے ساتھ مزید بارشوں کا امکان ہے۔ سندھ، بشمول کراچی، میں 18 اگست سے 23 اگست کے درمیان موسلادھار بارشوں کی پیش گوئی کی گئی ہے۔

دوسری جانب بھارت کی جانب سے دریائے چناب میں پانی چھوڑے جانے کے بعد ہیڈ مرالہ کے مقام پر سیلابی صورتحال پیدا ہو گئی ہے۔ پی ڈی ایم اے پنجاب نے دریاؤں میں ممکنہ سیلاب کے پیش نظر الرٹ جاری کر دیا ہے، جب کہ دریائے جہلم میں بھی اونچے درجے کے سیلاب کا خدشہ ظاہر کیا گیا ہے۔

۔

صدر، وزیرِ اعظم کا قیمتی جانی نقصان پر اظہارِ افسوس

صدر آصف علی زرداری اور وزیرِ اعظم شہباز شریف نے ملک کے مختلف حصوں میں بارشوں اور سیلاب کے باعث قیمتی جانوں کے ضیاع پر گہرے رنج و غم کا اظہار کیا ہے۔

صدر مملکت نے جاں بحق افراد کے لواحقین سے تعزیت کرتے ہوئے مرحومین کے درجات کی بلندی کے لیے دعا کی ہے۔

صدر آصف زرداری نے متعلقہ حکام کو ہدایت کی ہے کہ امدادی سرگرمیوں کو تیز کیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ متاثرہ افراد کی امداد اور بحالی کے لیے ہر ممکن اقدام کیا جائے۔

اپنے پیغام میں وزیرِ اعظم شہباز شریف نے ضلع بٹگرام میں بادل پھٹنے کے بعد آنے والے سیلاب کے باعث انسانی جانوں کے ضیاع پر گہرے دکھ کا اظہار کیا ہے۔

وزیرِ اعظم نے سیلاب میں جاں بحق ہونے والوں کے درجات کی بلندی کے لیے دعا کی اور ان کے اہل خانہ سے دلی تعزیت کا اظہار کیا ہے۔

انہوں نے ہدایت کی کہ زخمیوں کو فوری اور مکمل طبی امداد فراہم کی جائے۔

وزیرِ اعظم نے متعلقہ حکام کو ہدایت کی ہے کہ متاثرہ علاقوں میں ریسکیو آپریشن کو مزید تیز کیا جائے۔