کبھی پاکستان کی بیوروکریسی ساٹھ کی دہائی میں حکمرانی کا ایک مضبوط ستون تھی، جس پر قوم کے مستقبل کی ذمہ داری سونپی گئی تھی۔ آج یہ عمارت بوسیدہ ہو چکی ہے—اس کی بنیادیں دہائیوں کی زوال پذیری سے کمزور ہو گئی ہیں۔

حال ہی میں ایک سیاستدان کے بیان نے ایک کڑوی حقیقت کو اجاگر کیا، ہمارے کئی سینئر بیوروکریٹس کے لیے ریٹائرمنٹ کے بعد کا سفر تھنک ٹینکس یا اپنے سرکاری دور کے یادداشتوں پر مبنی تحریروں کی طرف نہیں جاتا، بلکہ مغرب کے آرام دہ کناروں کی طرف ہوتا ہے، جہاں وہ اپنی باقی زندگی سکون سے گزارتے ہیں، اُس ملک سے کوسوں دور جس کی خدمت کا وہ کبھی حلف اُٹھاتے تھے۔

دوسرے ممالک میں، ریٹائر ہونے والے سول سرونٹس اپنی قوم کی رہنمائی جاری رکھتے ہیں—دانش فراہم کرتے ہیں، پالیسی تشکیل دیتے ہیں، ادارہ جاتی یادداشت کو محفوظ رکھتے ہیں۔ ہماری بیوروکریسی، خاص طور پر پاکستان ایڈمنسٹریٹو سروسز (پی اے ایس)، جو پہلے ڈسٹرکٹ مینجمنٹ گروپ (ڈی ایم جی) کہلاتا تھا، اور سینٹرل سپیریئر سروسز (سی ایس ایس) کا ایلیٹ سمجھا جاتا تھا، بدعنوانی، سیاسی مداخلت اور کھوکھلی احتسابی نظام کے جال میں پھنس گئی۔

اس کی ایک وجہ یہ ہے کہ پاکستان ایڈمنسٹریٹو سروسز گروپ کے افسران اسسٹنٹ کمشنر (اے سی) اور ڈپٹی کمشنر (ڈی سی) کے طور پر خدمات انجام دیتے ہیں۔ یہ عہدے، جو برطانوی راج کے زمانے سے چلے آ رہے ہیں، غیر معمولی پروٹوکول کے ساتھ عزت، اختیار اور مالی طاقت فراہم کرتے ہیں۔ یہ پاکستان ایڈمنسٹریٹو سروسز افسران زمین کے ریکارڈ سے ڈیل کرتے ہیں، ہاؤسنگ اتھارٹیز اور ریونیو سسٹم پر کنٹرول رکھتے ہیں۔

پٹواری—جو زمین کے ریکارڈ رکھنے کا ذمہ دار ایک نچلے درجے کا مگر بااثر ریونیو اہلکار ہے—پاکستان کے سب سے بدعنوان افسران میں شمار ہوتا ہے۔

چنانچہ ای سیز یا ڈی سیز بھی زمین کے ریونیو اور ریکارڈ کے نگران ہوتے ہیں۔ یوں وہ بیوروکریٹس جو زمین کے ریکارڈ اور پٹواریوں سے ڈیل کرتے رہے، اسٹیٹس کو کے یرغمال بن جاتے ہے۔ ایک المیہ، ایک ایسے ملک کے لیے جس کا نام ہے پاک سرزمین: دنیا نے غلطیوں کو کم کرنے، بدعنوانی سے بچاؤ اور شفافیت یقینی بنانے کے لیے ڈیجیٹلائزیشن کو اپنا لیا ہے، مگر پاکستان اب بھی پیچھے ہے—اس کے زمین کے ریکارڈ پرانے، دستی نظام میں پھنسے ہیں، جو بدعنوان پٹواریوں کے ہاتھ میں ہیں، بجائے اس کے کہ چند آسان کلکس سے آن لائن دستیاب ہوں۔ مختلف صوبوں میں زمین کے ریکارڈ کی کمپیوٹرائزیشن کا نامکمل اور ناقص عمل ریونیو افسران کے بے لگام اختیارات ختم کرنے میں ناکام رہا ہے۔

پاکستان کی بیوروکریسی کی روایت میں نوٹ شیٹ کسی بھی سرکاری فائل میں صرف ایک کاغذ کا ٹکڑا نہیں تھی—یہ حکمرانی کی جیتی جاگتی یادداشت تھی۔ ہر سطر میں غور و فکر کا وزن ہوتا، ہر حاشیے میں منظم سوچ کا عکس۔ یہ دستاویزات خیالات کے محتاط تبادلے، پالیسی کی ناپ تول کر تشکیل، اور قوم کی سمت طے کرنے والے سنجیدہ فیصلوں کا ریکارڈ رکھتی تھیں۔

جنہیں اسلام آباد کے نیشنل آرکائیوز سینٹر جانے کا موقع ملے، وہ 1950 کی دہائی سے 1970 کی دہائی تک کے منصوبوں یا پالیسی امور کی فائلوں کے نازک اور زرد پڑ چکے صفحات پلٹیں۔ وہاں، پرانی نوٹ شیٹس کی ماندہ سیاہی میں ایک مختلف قسم کے سول سرونٹس نظر آتے ہیں—جو محض تکنیکی مہارت میں نہیں، بلکہ حکمرانی کے فن میں تربیت یافتہ تھے۔ وہ رسمی قواعد کے ماہر، درجہ بندی کے احترام میں گہرے، اپنے شعبوں کے ماہر، اور سب سے بڑھ کر عوامی بھلائی کے لیے غیر شخصی اور معروضی عزم رکھتے تھے۔

یہ ایک دل گرفتہ کرنے والا عمل ہے کہ اس ورثے کا تقابل اکیسویں صدی کی بیوروکریسی سے کیا جائے۔ آج کے افسران لیپ ٹاپس کے سامنے بیٹھے ہیں، ایم ایس آفس اور جدید سافٹ ویئر کے ہتھیاروں سے لیس، جن کا مقصد مہارت اور کارکردگی کو بڑھانا ہے۔ مگر اکثر یہ اوزار اُس خالی پن کو چھپا دیتے ہیں جہاں کبھی فکری پختگی ہوا کرتی تھی۔ یہ موازنہ کسی اور قوم سے نہیں، بلکہ خود اپنے آپ سے ہے—اپنے اُس ماضی سے جب بیوروکریسی نے 8 فیصد سے زیادہ معاشی ترقی کو سہارا دیا، ایک نو عمر پاکستان کو امید اور ترقی کی راہ پر گامزن رکھا۔

آج نوٹ شیٹس شاید زیادہ صاف، تیز اور ڈیجیٹل ہیں، مگر سوچ کی گہرائی، فیصلے کی درستگی، اور قوم کے مفاد کے لیے ثابت قدمی ماند پڑ گئی ہے۔

جو ادارہ کبھی عقل، نظم و ضبط اور خدمت کی بنیاد پر کھڑا تھا—آج کمزور ہو چکا ہے، اس کا زوال انہی دستاویزات میں درج ہے جو کبھی اس کی عظمت کی گواہ تھیں۔

یہ تربیت کا مسئلہ ہے؟ ہرگز نہیں۔ بیشتر بیوروکریٹس دنیا کے بہترین اداروں سے تربیت یافتہ ہیں۔ ان کی تربیت کا اثر اس وقت ضائع ہوگیا جب فنی علم اُس نظام کی سڑاند کے سامنے ٹھہر نہ سکا جہاں عوامی ذمہ داری اور ذاتی مفاد ایک دوسرے میں اس قدر گڈمڈ ہوگئے کہ الگ کرنا ممکن نہ رہا۔ تو پھر خرابی کہاں پیدا ہوتی ہے؟

سال 1985 کے بعد، سیاستدانوں نے الیکشن میں پیسہ لگانا شروع کر دیا۔ جب سیاستدان الیکشن جیتنے کے لیے کروڑوں یا اربوں روپے خرچ کرتے ہیں اور جب وہ وزیر یا وزیراعظم بنتے ہیں تو وہ اپنے وفادار بیوروکریٹس کی تلاش میں رہتے ہیں تاکہ نہ صرف الیکشن پر خرچ کیا گیا پیسہ واپس حاصل کیا جا سکے بلکہ اتنا زائد سرمایہ بھی اکٹھا ہو جائے کہ ان کے پوتے پوتیاں بھی الیکشن جیت سکیں۔ یہاں ایک موزوں ماحول ہوتا ہے اور ایک لالچی بیوروکریٹ دور سے ہی منتظر ہوتا ہے، خاص طور پر وہ جو اپنے کیریئر کا آغاز زمین کے ریکارڈ اور پٹواریوں کے ساتھ معاملات سے کرتے ہیں۔

اس بیوروکریسی اور سیاستدانوں کی ناپاک گٹھ جوڑ میں تازہ رجحان میڈیا کے کچھ بوسیدہ عناصر کی شمولیت ہے۔ قومی احتساب بیورو (نیب) کی ساکھ کو ایک طرف رکھیں، جب طویل مدتی ایل این جی گیس معاہدہ کیا گیا تو میڈیا میں بھاری شور مچایا گیا، لیکن اب جب اس معاہدے کے بعد کی جانچ پڑتال نے سچ سامنے رکھا کہ اس ڈیل نے پاکستان کو 22 ارب امریکی ڈالر کا نقصان پہنچایا، تو یہی میڈیا کے کرائے کے سپاہی خاموش ہو گئے۔

کرپشن نے طرزِ حکمرانی کی رگوں میں خون کی طرح دوڑنا شروع کر دیا—رشوت، بدعنوانی، اور عوامی فنڈز کی معمول کی لوٹ مار ایک عام روایت بن گئی۔ وہ ادارے جو شفافیت اور دیانت داری کے محافظ ہونے چاہیئے تھے، جیسے نیب، آڈیٹر جنرل آف پاکستان، پبلک اکاؤنٹس کمیٹی اور اینٹی کرپشن، اب خود 25 کروڑ پاکستانیوں پر ایک بھاری بوجھ بن چکے ہیں۔ میرٹ کو اقربا پروری کے نام پر قربان کر دیا گیا اور تقرریاں سیاسی سودے بازی کا شکار ہو گئیں۔

2008 میں، ہم میں سے ایک [انجینئر اے ایچ اے] نے پاکستان میں جمی ہوئی کرپشن کے دل پر ضرب لگائی، منصوبہ بندی کمیشن کے ہر پبلک سیکٹر ڈویلپمنٹ پروگرام (پی ایس ڈی پی) منصوبے کو آن لائن، ملک گیر سطح پر براہِ راست مانیٹرنگ کے لیے ڈال دیا—جس نے مکمل شفافیت اور بدعنوانی کے خاتمے کا وعدہ کیا۔ یہ طرزِ حکمرانی میں انقلابی تبدیلی لا سکتا تھا، مگر طاقت کے دلالوں نے اس اصلاح کو ختم کر دیا، اے ایچ اے کو ہیرو کے بجائے خطرہ سمجھ کر سزا دی۔ اس کا واحد جرم یہ تھا کہ اس نے کرپشن کو ناممکن بنانے کی جرأت کی۔ طویل 17 برس گزر چکے ہیں، اور یہ زخم اب تک ہرا ہے۔

آج حکومت میں کوئی بھی اس قسم کی اصلاح کا ذکر کرنے کی ہمت نہیں کرتا۔ وہ وژن جو اربوں روپے کو لوٹ مار سے بچا سکتا تھا، دفن ہو چکا ہے—نہ اس لیے کہ وہ ناقص تھا، بلکہ اس لیے کہ وہ اتنا پاکیزہ تھا کہ زہریلی زمین میں پنپ نہیں سکا۔

اس ایجاد کو قتل کر کے، انہوں نے صرف ایک شخص کو خاموش نہیں کیا—انہوں نے ایک پوری قوم کو بہتر بننے کا موقع چھین لیا۔ اور یوں پاکستان اپنی تھکی ماندی چال سائے میں جاری رکھے ہوئے ہے، جبکہ ایک قتل شدہ خیال کا بھوت اب بھی منڈلا رہا ہے، ہمیں یاد دلاتا ہے کہ کیا ہو سکتا تھا۔

یوں، رفتہ رفتہ بیوروکریسی کی صلاحیت ختم ہو گئی۔ جو کبھی قومی ترقی اور انتظامی کارکردگی کا انجن تھی، وہ اپنے ہی سائے میں سمٹ گئی—نہ ڈلیور کرنے کے قابل، نہ اصلاح کرنے کے—اس کا وعدہ کرپشن، سیاست اور مقصدیت کے الم ناک نقصان کے بوجھ تلے دفن ہو گیا۔

تو پھر حل کیا ہے؟ جب سیاستدان اپنے ہاتھ میں جدید اور مہنگے ترین موبائل رکھتے ہیں لیکن کبھی ترقیاتی منصوبوں کی مانیٹرنگ اور ان کے معیار اور مقدار کو آن لائن، براہِ راست جانچنے کا نظام قائم کرنے کی کوشش نہیں کرتے تاکہ کرپشن اور اخراجات میں اضافے کو روکا جا سکے۔

لیکن بیوروکریسی اور بدعنوان سیاستدانوں کے لیے اس سے بھی زیادہ خوفناک طوفان مصنوعی ذہانت ہے۔ ہم یہ خبر نہیں دے رہے، مگر شاید 70 فیصد کام پہلے ہی کچھ سمجھدار ماہرین مکمل کر چکے ہیں۔ جلد ہی، 25 کروڑ عوام کرپٹ بیوروکریٹس اور سیاستدانوں کے ظالمانہ پنجوں سے نجات پا لیں گے۔

کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2025