ای پی بی ڈی نے پہلا ویلتھ پرسیپشن انڈیکس 2025 جاری کردیا، پاکستان کے نمایاں 40 کاروباری گروپس شامل
ایکنامک پالیسی اینڈ بزنس ڈویلپمنٹ تھنک ٹینک (ای پی بی ڈی) نے اپنا پہلا ویلتھ پرسیپشن انڈیکس 2025 جاری کر دیا ہے، جس میں پاکستان کے سرکاری اور نجی شعبے کے 40 بڑے کاروباری گروپوں کی درجہ بندی کی گئی ہے۔ اس میں ملک کے ممکنہ ڈالر میں ارب پتی کاروباری گروپوں کی پہلی مرتبہ فہرست بھی شامل ہے۔
یہ انڈیکس پاکستان کے 78ویں یومِ آزادی کے موقع پر جاری کیا گیا، جس میں بینکاری، سیمنٹ، کھاد، ڈائیورسفائیڈ مینوفیکچرنگ، رئیل اسٹیٹ، ایف ایم سی جی، آئی ٹی اور میڈیا جیسے اسٹریٹجک شعبوں میں 20 بڑے پبلک لسٹڈ کارپوریٹ گروپس اور 20 اعلیٰ کارکردگی کے حامل نجی گروپس کی نشاندہی کی گئی ہے۔
ای پی بی ڈی کے سی ای او احمد نواز سکھیرا کے مطابق یہ رینکنگ پاکستان کے نجی شعبے کی اس صلاحیت کو اجاگر کرتی ہے کہ وہ اگر حکومتی معاون پالیسیوں اور سازگار ریگولیٹری فریم ورک کے ساتھ ہو تو دیرپا معاشی ترقی کو آگے بڑھا سکتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ حکومت اکیلے پاکستان کے پیچیدہ معاشی مسائل حل نہیں کر سکتی۔ ہمیں پالیسی سازوں اور اپنے بڑے نجی شعبے کے رہنماؤں کے درمیان ایک اسٹریٹجک شراکت داری کی ضرورت ہے۔
مارکیٹ کیپٹلائزیشن کے لحاظ سے ٹاپ 20 پبلک لسٹڈ گروپس میں فوجی فاؤنڈیشن (5.90 ارب ڈالر)، بیسٹ وے/یوبی ایل گروپ (4.51 ارب ڈالر)، یونس برادرز/لکی گروپ (2.59 ارب ڈالر)، نشاط گروپ/ایم سی بی (2.39 ارب ڈالر)، اینگرو ہولڈنگز (2.39 ارب ڈالر)، میزان بینک (2.38 ارب ڈالر)، عارف حبیب گروپ (1.57 ارب ڈالر)، آغا خان فنڈ اینڈ ایچ بی ایل (1.56 ارب ڈالر)، اٹک گروپ (1.35 ارب ڈالر) اور برٹش امریکن ٹوبیکو پاکستان (1.24 ارب ڈالر) شامل ہیں۔
ٹاپ 20 ممکنہ ڈالر ارب پتی نجی کاروباری گروپس میں پیکجز گروپ، فاطمہ گروپ، سفائر گروپ، ہلٹن فارما، لیک سٹی ہولڈنگز، میگا اینڈ پائنیر سیمنٹ، جنگ/جیو نیٹ ورک، بیکن ہاؤس گروپ، جے ڈی ڈبلیو شوگر، آرٹسٹک گروپ، وژن گروپ/پارک ویو سٹی، یو ایس اپیرل، لبرٹی گروپ، سورتی گروپ اور ماسٹر گروپ آف انڈسٹریز شامل ہیں۔
ای پی بی ڈی کا کہنا ہے کہ یہ 40 گروپس مشترکہ طور پر اربوں روپے کے ٹیکس ادا کرتے ہیں، بڑے پیمانے پر روزگار پیدا کرتے ہیں اور اگلی دہائی میں اپنے اثرات کو دوگنا کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ تھنک ٹینک نے ایک اختراعی پالیسی تجویز بھی دی ہے جس کے تحت سینئر سول سرونٹس کو ان کارپوریشنز میں قلیل مدتی انٹرن شپس کرائی جائیں تاکہ پالیسی اور کاروباری دنیا کے درمیان خلا کو کم کیا جا سکے۔
رپورٹ میں اس بات پر زور دیا گیا ہے کہ بینکاری، سیمنٹ، کھاد اور ڈائیورسفائیڈ انڈسٹریل مینوفیکچرنگ جیسے شعبے معیشت میں زیادہ کثیر الجہتی اثرات رکھتے ہیں اور انہیں پاکستان کی معاشی ترقی کی حکمت عملی کا مرکز رہنا چاہیے۔
رپورٹ میں خواتین کی زیر قیادت اداروں، سسٹمز لمیٹڈ جیسی ٹیکنالوجی فرمز اور پاکستان کی معیشت میں سرمایہ کاری کرنے والی غیر ملکی لسٹڈ کمپنیوں کے بڑھتے ہوئے کردار کو بھی اجاگر کیا گیا ہے۔
احمد نواز سکھیرا نے مزید کہا کہپاکستان میں پائیدار ترقی کے لیے درکار کاروباری قیادت اور انٹرپرینیورشپ موجود ہے۔ درست شراکت داری اور سازگار ماحول کے ساتھ یہ گروپس معیشت کو بدلنے میں مدد دے سکتے ہیں۔
کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2025