پاکستان کی سندھ طاس معاہدے سے متعلق ثالثی عدالت کے فیصلے کا خیرمقدم
- بھارت مغربی دریاؤں کا پانی پاکستان کو بلا روک ٹوک فراہم کرنے کا پابند ہے، عدالت کا فیصلہ
پاکستان نے پیر کے روز سندھ طاس معاہدے (انڈس واٹر ٹریٹی) کی عمومی تشریح سے متعلق مستقل ثالثی عدالت کے فیصلے کا خیرمقدم کیا ہے اور اسے مغربی دریاؤں پر پاکستان کے آبی حقوق کے حوالے سے اپنے دیرینہ موقف کی اہم توثیق قرار دیا ہے۔
یہ فیصلہ 8 اگست کو سنایا گیا اور پیر کے روز عدالت کی ویب سائٹ پر شائع کیا گیا ہے۔ فیصلے میں بھارت کی جانب سے دریائے سندھ، جہلم اور چناب پر تعمیر کیے جانے والے رن آف ریور طرز کے نئے ہائیڈرو پاور منصوبوں کے لیے ڈیزائن کے رہنما اصول طے کیے گئے ہیں۔
دفتر خارجہ کی جانب سے جاری کردہ بیان میں کہا گیا کہ عدالت نے قرار دیا ہے کہ بھارت کو مغربی دریاؤں کے پانی کو پاکستان کے بلا روک ٹوک استعمال کے لیے بہنے دینا ہوگا، صرف مخصوص استثنائی صورتوں میں پن بجلی کی پیداوار کی اجازت ہو گی، جو کہ معاہدے کی شرائط کے عین مطابق ہونا ضروری ہے۔
مستقل ثالثی عدالت نے اپنے حالیہ فیصلے میں لو لیول آؤٹ لیٹس، گیٹڈ اسپل ویز، ٹربائن انٹیکس، فری بورڈ اور ذخیرہ آب کی حد جیسے تکنیکی پہلوؤں پر پاکستان کی تشریح کو درست قرار دیا ہے۔
عدالت نے یہ بھی واضح کیا کہ ثالثی عدالت کے فیصلے حتمی، قانونی طور پر موثر اور دونوں ممالک پر لازم ہیں اور مستقبل میں اس حوالے سے تمام کارروائیوں پر ان فیصلوں کو قانونی اختیار حاصل ہو گا۔
عدالت نے پاکستان کی زیرِدست حیثیت (ڈاؤن اسٹریم ریپیرین ) کا حوالہ دیتے ہوئے کہا ہے کہ سندھ طاس معاہدے کا مقصد دونوں فریقین کے حقوق و فرائض کو واضح طور پر متعین کرنا ہے، تاکہ باہمی تعاون اور مؤثر انداز میں تنازعات کا حل ممکن بنایا جا سکے۔
یہ فیصلہ ایسے وقت پر سامنے آیا ہے جب پاکستان اور بھارت کے تعلقات کشیدگی کا شکار ہیں۔ بھارت نہ صرف ثالثی کارروائی کا حصہ بننے سے انکار کر چکا ہے بلکہ اس نے حال ہی میں معاہدے پر عملدرآمد معطل کرنے کا اعلان بھی کیا ہے۔
پاکستان نے ایک بار پھر سندھ طاس معاہدے پر مکمل عملدرآمد کے عزم کا اعادہ کیا ہے اور بھارت سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ معاہدے کے معمول کے مطابق نفاذ کو بحال کرے اور ثالثی عدالت کے فیصلے پر مکمل عمل کرے۔