صدرِ مملکت آصف علی زرداری اور وزیراعظم شہباز شریف نے پیر کے روز یومِ اقلیت کے موقع پر اپنے الگ الگ پیغامات میں ملک میں مذہبی آزادی اور اقلیتوں کے مساوی حقوق کے لیے جدوجہد جاری رکھنے کے عزم کا اعادہ کیا ہے۔
دونوں رہنماؤں نے کہا ہے کہ پاکستان اقلیتوں کی مختلف شعبہ ہائے زندگی میں ناقابلِ فراموش خدمات کو قومی اثاثہ تصور کرتا ہے۔
یومِ اقلیت آج ملک بھر میں اس مقصد کے ساتھ منایا جا رہا ہے کہ اقلیتوں کے مذہبی، سماجی اور معاشی حقوق کو اجاگر کیا جائے اور ان کے تحفظ کو یقینی بنایا جائے۔
یہ دن یونیورسل ڈیکلریشن آف ہیومن رائٹس کے تحت اقوامِ متحدہ کے اس اصول کی توثیق کرتا ہے کہ مذہبی، لسانی، نسلی یا قومی اقلیتوں سے تعلق رکھنے والے افراد کے حقوق کا تحفظ عالمی برادری کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔
یومِ اقلیت ہر سال 11 اگست کو اس تاریخی تقریر کی یاد میں منایا جاتا ہے جو قائداعظم محمد علی جناح نے 1947 میں دستور ساز اسمبلی سے خطاب کرتے ہوئے کی تھی، جس میں انہوں نے تمام شہریوں کو مذہبی آزادی اور برابری کے حقوق کی ضمانت دی تھی۔
ایوانِ صدر سے جاری بیان کے مطابق یومِ اقلیت کے موقع پر صدرِ مملکت آصف علی زرداری نے اپنے پیغام میں ملک میں بسنے والی اقلیتوں کے حقوق کے تحفظ اور ان کے فروغ کے لیے ریاست کے عزم کا اعادہ کیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ یہ دن قائداعظم محمد علی جناح کے اُس وژن کی یاد دہانی ہے جس میں انہوں نے ایک ایسے پاکستان کا تصور پیش کیا تھا جہاں ہر شہری مساوات، ہم آہنگی اور باہمی احترام کے ساتھ زندگی گزارے۔
صدرآصف زرداری نے کہا کہ یومِ اقلیت اس بات کا بھی موقع ہے کہ ہم اقلیتوں کی قومی ترقی میں خدمات کو تسلیم کریں۔
انہوں نے کہا کہ اقلیتی برادریوں نے مسلح افواج، عدلیہ، سول سروس، تعلیم اور صحت جیسے شعبوں میں اپنی لگن اور وفاداری سے ملک کی خدمت کی ہے اور ان کی حب الوطنی پوری قوم کے لیے باعثِ فخر ہے۔
صدر نے مزید کہا کہ آئینِ پاکستان تمام شہریوں کو بلا امتیاز مذہب، نسل، ذات یا رنگ کے برابر کے حقوق کی ضمانت دیتا ہے اور اقلیتوں کے سیاسی، معاشی، مذہبی، سماجی اور ثقافتی حقوق کے تحفظ کو یقینی بناتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان نے اقلیتوں کی فلاح و بہبود اور خود مختاری کے لیے کئی عملی اقدامات کیے ہیں، جن میں نیشنل کمیشن برائے اقلیتیں کا قیام، اقلیتوں کی فلاح کے لیے خصوصی فنڈز کی فراہمی، عبادت گاہوں کی بحالی و تحفظ اور اقلیتی طلبہ کے لیے وظائف اور مالی امداد شامل ہیں۔
صدر زرداری نے یاد دلایا کہ 2009 میں، میرے پہلے دورِ صدارت کے دوران حکومت نے 11 اگست کو یومِ اقلیت قرار دیا تاکہ اقلیتوں کے حقوق، مساوات اور شمولیت کے قومی عزم کا اعادہ کیا جا سکے۔ ہم آج بھی بین المذاہب مکالمے کو فروغ دے رہے ہیں اور قومی زندگی کے ہر شعبے میں اقلیتوں کی بامعنی شمولیت کو یقینی بنا رہے ہیں۔
وزیراعظم ہاؤس کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ وزیراعظم شہباز شریف نے یومِ اقلیت کے موقع پر اپنے پیغام میں کہا ہے کہ پوری قوم آج یہ دن اس مقصد کے تحت منا رہی ہے کہ اقلیتوں کے ملکی ترقی میں کلیدی کردار اور ان کے حقوق کے تحفظ کو خراجِ تحسین پیش کیا جا سکے۔
انہوں نے کہا کہ قائداعظم محمد علی جناح کی 11 اگست 1947 کی تاریخی تقریر پاکستان میں اقلیتوں کے محفوظ مستقبل کی نظریاتی ضمانت ہے۔
وزیراعظم نے کہا ہے کہ اقلیتی برادریوں سے تعلق رکھنے والے بہادر پاکستانی سپوتوں نے ملکی دفاع میں اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کیا، اور ہم ان کی قربانیوں کو دلی طور پر خراجِ تحسین پیش کرتے ہیں۔
چیئرمین سینیٹ سید یوسف رضا گیلانی نے عالمی یومِ اقلیت کے موقع پر ملک بھر کی تمام مذہبی اور لسانی اقلیتوں کو مبارکباد دی اور ان کی خوشحالی اور ترقی کے لیے نیک خواہشات کا اظہار کیا۔
انہوں نے کہا کہ آئین اور ملکی قوانین تمام شہریوں کو بلا امتیاز مساوی حقوق فراہم کرتے ہیں اور اقلیتوں کے حقوق کے تحفظ، فروغ اور نفاذ کے لیے قومی سطح پر موثر قانون سازی کی گئی ہے۔
یوسف رضا گیلانی نے مزید کہا کہ ملک کی ترقی، استحکام اور بین المذاہب ہم آہنگی میں اقلیتوں کا کردار نہایت اہم اور قابلِ تحسین ہے۔
انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ مختلف شعبہ ہائے زندگی میں اقلیتی برادریوں نے ہمیشہ نمایاں خدمات سرانجام دی ہیں اور خاص طور پر پارلیمانی سطح پر اقلیتی خواتین کو بھرپور نمائندگی دی گئی ہے جو کہ جمہوری اقدار اور شراکتی طرزِ حکمرانی کی مظہر ہے۔