لاہور کی انسداد دہشت گردی عدالت (اے ٹی سی) نے پیر کے روز 9 مئی کے پرتشدد واقعات سے متعلق مقدمات کا فیصلہ سناتے ہوئے پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے سینئر رہنما شاہ محمود قریشی کو بری کر دیا ہے جبکہ پارٹی کے دیگر رہنماؤں بشمول سینیٹر (ر) اعجاز چوہدری اور ڈاکٹر یاسمین راشد کو مختلف مدت کی سزائیں سنائی گئی ہیں۔ یہ خبر آج نیوز نے رپورٹ کی ہے۔

کوٹ لکھپت جیل میں انسداد دہشت گردی عدالت کے جج منظر علی گل نے شاہ زمان تھانے اور گاڑیوں کو آگ لگانے کے دو مقدمات کی سماعت کے بعد فیصلہ سنایا۔

عدالت نے شاہ محمود قریشی کو دونوں مقدمات میں بری کر دیا ہے۔

جبکہ عدالت نے سابق وزیر صحت پنجاب ڈاکٹر یاسمین راشد، سابق سینیٹر اعجاز چوہدری، سابق گورنر پنجاب عمر سرفراز چیمہ اور سابق وزیر ہاؤسنگ و اربن ڈویلپمنٹ پنجاب میاں محمود الرشید کو 10، 10 سال قید کی سزا سنائی ہے۔

اس کے علاوہ سابق رکنِ قومی اسمبلی عالیہ حمزہ اور پی ٹی آئی رہنما صنم جاوید کو 5، 5 سال قید کی سزا سنائی گئی ہے۔

تفصیلات کے مطابق پولیس اسٹیشن کو آگ لگانے کے مقدمے میں عدالت نے 13 ملزمان کو سزا سنائی جب کہ 12 افراد کو بری کر دیا۔ اسی طرح راحت بیکری کے باہر توڑ پھوڑ اور آتشزدگی کے مقدمے میں 7 افراد کو سزا اور 10 افراد کو بری کر دیا گیا ہے۔

بری ہونے والے افراد میں سہیل خان، اویس، رفیع الدین، فرید خان، سلمان احمد، عبدالقادر، فیضان، طیب، سلطان، شاہد بیگ، مجید علی اور بخت روان شامل ہیں۔

پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے رہنما ملک گیر پرتشدد مظاہروں میں مبینہ کردار کے الزام میں مختلف مقدمات کا سامنا کر رہے ہیں۔ یہ مظاہرے 9 مئی 2023 کو اس وقت شروع ہوئے جب پی ٹی آئی کے بانی چیئرمین عمران خان کو ایک کرپشن کیس میں گرفتار کیا گیا تھا۔

عمران خان، جو 2023 سے جیل میں قید ہیں، کرپشن، زمین فراڈ اور سرکاری راز افشا کرنے جیسے الزامات کا سامنا کر رہے ہیں۔ ان پر 9 مئی کے فسادات سے متعلق الزامات پر الگ سے بھی مقدمہ چلایا جا رہا ہے۔

حکومت کا موقف ہے کہ عمران خان اور دیگر پی ٹی آئی رہنماؤں نے ان مظاہروں کو ہوا دی، جن کے دوران مشتعل مظاہرین نے ملک بھر میں عسکری و سرکاری تنصیبات کو نشانہ بنایا، جن میں راولپنڈی میں آرمی ہیڈ کوارٹر اور لاہور میں جناح ہاؤس بھی شامل ہیں۔

سابق وزیرِاعظم عمران خان ان الزامات کی تردید کرتے ہیں اور انہیں سیاسی انتقام قرار دیتے ہیں، جس کا مقصد ان کی جماعت کو کمزور کرنا ہے۔

دوسری جانب الیکشن کمیشن آف پاکستان (ای سی پی) نے 5 اگست کو انسداد دہشت گردی عدالت فیصل آباد سے سزا پانے کے بعد پی ٹی آئی کے کئی رہنماؤں اور اتحادی جماعت کے ایک رہنما کو نااہل قرار دے دیا ہے۔

نااہل قرار دیے گئے افراد میں شبلی فراز، عمر ایوب، زرتاج گل اور سنی اتحاد کونسل کے چیئرمین صاحبزادہ حامد رضا شامل ہیں۔

الیکشن کمیشن کی جانب سے جاری کردہ نوٹیفکیشن میں کہا گیا ہے کہ چونکہ ان افراد کو انسداد دہشت گردی عدالت سے سزا ہو چکی ہے، لہٰذا وہ آئین کے تحت نااہل قرار پائے ہیں اور ان کی اسمبلی نشستیں خالی تصور کی جائیں گی۔