فیڈریشن آف پاکستان چیمبرز آف کامرس اینڈ انڈسٹری (ایف پی سی سی آئی) کے بزنس مین پینل (بی ایم پی) کے چیئرمین میاں انجم نثار نے بیمار صنعتی یونٹس کی بحالی کے لیے قرض اسکیم متعارف کرانے کے حکومتی فیصلے کا خیرمقدم کیا لیکن خبردار کیا کہ عملی اور زمینی اصلاحات کے بغیر ایسے اقدامات محض کاغذی حد تک محدود رہ جائیں گے۔

انہوں نے حکومت پر زور دیا کہ بحالی کے منصوبے کو صنعتی مالیات، توانائی کی قیمتوں اور ریگولیٹری فیسیلی ٹیشن میں ساختی تبدیلیوں کے ساتھ منسلک کیا جائے تاکہ وقتی امداد کی بجائے پائیدار اور حقیقی صنعتی ترقی ممکن بنائی جا سکے۔

انہوں نے نشاندہی کی کہ بیماری کی وجوہات میں مہنگی توانائی، غیر یقینی ٹیکس پالیسیاں، مشینری کی کمی اور برآمدی منڈیوں تک رسائی نہ ہونا شامل ہیں، جن کے بغیر بحالی ممکن نہیں۔ میاں انجم نے کہا کہ اسٹیٹ بینک کی جانب سے قرضوں میں آسانیاں دینا قابل ستائش ہے، لیکن کاروباری لاگت کو کم کرنے کے لیے توانائی اور خام مال کی قیمتیں بھی کم ہونی چاہئیں۔

انہوں نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ نیشنل انڈسٹریل ری ہیبلیٹیشن پروگرام بنایا جائے جس میں کم لاگت توانائی، تیز ٹیکس ریفنڈ، جدید مشینری کی درآمد پر سبسڈی، اور برآمدی مارکیٹ تک رسائی شامل ہو۔ اس کے ساتھ ورک فورس کی تربیت پر بھی توجہ دی جائے۔

میاں انجم نے صنعتی بحالی کمیشن کے قیام کو خوش آئند قرار دیا مگر کہا کہ یہ ادارہ بیوروکریسی اور سیاسی مداخلت سے پاک ہو اور نجی شعبے اور ماہرین پر مشتمل ہو تاکہ کاروباری فیصلہ سازی ممکن ہو۔

انہوں نے مطالبہ کیا کہ سبسڈیز شفاف انداز میں دی جائے اور بحالی کے لیے ایک ون ونڈو سیل قائم کی جائے جہاں تمام منظوریاں، قرضہ جات، اور دیگر امور آسانی سے مکمل ہوں۔ میاں انجم نے کہا کہ صنعتی ترقی کے لیے توانائی کی بلا تعطل فراہمی اور سی پیک کے تحت خاص اقتصادی زونز میں بحالی یونٹس کی منتقلی کو فروغ دیا جائے تاکہ لاگت کم اور پیداواری صلاحیت بڑھائی جا سکے۔

انہوں نے واضح کیا کہ قرضوں کی منظوری شفاف اور کاروباری منصوبوں کی بنیاد پر ہونی چاہیے نہ کہ سیاسی دباؤ پر۔ ان کا کہنا تھا کہ صنعتی بحالی کو صرف مالیاتی اصلاح نہیں بلکہ قومی صنعتی ترقی کا حصہ سمجھنا ہوگا۔

کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر 2025