پاکستان کا جمہوریہ آذربائیجان اورآرمینیا کے درمیان تاریخی امن معاہدے کا خیر مقدم
پاکستان نے جمہوریہ آذربائیجان اور آرمینیا کے درمیان امریکی صدر ڈونلڈ جے ٹرمپ کی سرپرستی میں تاریخی امن معاہدے کا خیر مقدم کیا ہے۔
وزیراعظم شہباز شریف نے کہا کہ یہ تاریخی پیشرفت کئی دہائیوں سے تنازعات اور انسانی مصائب کے شکارخطے میں امن، استحکام اور تعاون کے ایک نئے دور کے آغاز کی نشاندہی کرتی ہے۔
سماجی رابطوں کی ویب سائٹ ایکس پر اپنی ایک پوسٹ میں وزیر اعظم نے کہا کہ ہم صدر الہام علیوف اور آذر بائیجان کے عوام کو اس تاریخی معاہدے پر مبارکباد پیش کرتے ہیں، ان کے خطے کے پرامن مستقبل کا یہ راستہ دانشمندی، دور اندیشی اور تدبر کی عکاسی کرتا ہے۔
آذربائیجان اور آرمینیا کے رہنماؤں نے وائٹ ہاؤس میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی میزبانی میں تاریخی امن معاہدے پر دستخط کر دیے، جس کا مقصد دہائیوں پر محیط تنازع کو ختم کرنا ہے
ہہ معاہدہ ٹرمپ انتظامیہ کے لیے ایک اہم کامیابی ہوگی، جو ماسکو کو بے چین کر دے گا کیونکہ وہ اس خطے کو اپنے اثر و رسوخ کے دائرے میں سمجھتا ہے۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اس موقع کو تاریخی قرار دیا۔ ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ اس معاہدے کے بارے میں بہت عرصے سے انتظار میں تھا جو دونوں ممالک کے درمیان کچھ اہم ٹرانسپورٹ راستوں کو دوبارہ کھولے گا اور خطے میں امریکی اثر و رسوخ کو بڑھائے گا۔
وزیراعظم شہباز شریف نے کہا کہ پاکستان ہمیشہ آذر بائیجان کی برادر قوم کے ساتھ کھڑا رہا ہے اور ہم تاریخ کے اس قابل فخر لمحے میں بھی ان کے ساتھ کھڑے ہیں۔
شہباز شریف نے کہا کہ ہم صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی قیادت میں دونوں فریقوں کو ایک دوسرے کے قریب لانے اور ایک معاہدے تک پہنچنے میں امریکا کے سہولت کار کردار کی بھی تعریف کرتے ہیں جو تجارت، رابطے اور علاقائی انضمام کی نئی راہیں کھولتا ہے۔
انہوں نےاس امید کا بھی اظہار کیا کہ باہمی بات چیت (مذاکرات) کا یہ جذبہ طویل تنازعات کا سامنا کرنے والے دوسرے خطوں کے لیے بھی ایک مثال ثابت ہوگا۔
انہوں نےاس امید کا بھی اظہار کیا کہ باہمی بات چیت (مذاکرات) کا یہ جذبہ طویل تنازعات کا سامنا کرنے والے دوسرے خطوں کے لیے بھی ایک مثال ثابت ہوگا۔