قومی اسمبلی سیکریٹریٹ نے جمعے کے روز عمر ایوب کو قائد حزب اختلاف کے منصب سے ہٹائے جانے کی باضابطہ تصدیق کر دی ہے اور اس عہدے کو خالی قرار دے دیا گیا ہے۔

سیکریٹریٹ کے مطابق اسپیکر قومی اسمبلی کی جانب سے نئے قائد حزب اختلاف کی تعیناتی کا نوٹیفکیشن جلد جاری کیے جانے کا امکان ہے۔

ذرائع کے مطابق پاکستان تحریکِ انصاف (پی ٹی آئی) سے تعلق رکھنے والے متعدد ارکان سے دیگر پارلیمانی عہدے بھی واپس لے لیے گئے ہیں۔

زرتاج گل کو پارلیمانی لیڈر کے منصب سے ہٹا دیا گیا، جب کہ احمد چٹھہ کو ڈپٹی پارلیمانی لیڈر کے عہدے سے فارغ کر دیا گیا ہے۔ اپوزیشن لیڈر کو الاٹ کیا گیا چیمبر بھی خالی کرا لیا گیا ہے۔

قومی اسمبلی سیکریٹریٹ نے آزاد حیثیت سے ایوان میں موجود پی ٹی آئی ارکان کو ہدایت کی ہے کہ وہ پارلیمانی لیڈر اور ڈپٹی پارلیمانی لیڈر کے لیے نئے امیدواروں کے نام تجویز کریں۔

اس کے علاوہ عمر ایوب کو پبلک اکاؤنٹس کمیٹی اور فنانس کمیٹی کی رکنیت سے بھی خارج کر دیا گیا ہے۔

مزید برآں نااہل قرار دیے گئے 7 پی ٹی آئی ارکان سے 15 قائمہ کمیٹیوں کی رکنیت بھی واپس لے لی گئی ہے۔

صاحبزادہ حامد رضا کو انسانی حقوق کی قائمہ کمیٹی کی چیئرمین شپ سے ہٹا دیا گیا، زرتاج گل کو بھی مذکورہ کمیٹی سے نکال دیا گیا جبکہ رائے حسن نواز کو ریلوے کی قائمہ کمیٹی کی چیئرمین شپ سے فارغ کر دیا گیا ہے۔

شبلی فراز کو قائد حزب اختلاف سینیٹ کے عہدے سے ڈی نوٹیفائی کر دیا گیا

ادھر ایوانِ بالا (سینیٹ) میں بھی اپوزیشن لیڈر کا عہدہ خالی قرار دے دیا گیا، جب پاکستان تحریکِ انصاف (پی ٹی آئی) کے رہنما شبلی فراز کو الیکشن کمیشن آف پاکستان (ای سی پی) کی جانب سے نااہل قرار دیے جانے کے بعد ڈی نوٹیفائی کر دیا گیا۔

سینیٹ سیکریٹریٹ کی جانب سے جاری کردہ نوٹیفکیشن کے مطابق شبلی فراز کی نااہلی 5 اگست 2025 سے موثر ہوئی، جس کے نتیجے میں وہ سینیٹ کی رکنیت اور قائد حزب اختلاف کے عہدہ دونوں سے محروم ہو گئے۔

الیکشن کمیشن نے شبلی فراز کو آئین کے آرٹیکل 63 کے تحت نااہل قرار دیا اور ان کی پارلیمانی رکنیت باقاعدہ طور پر ختم کر دی۔ سینیٹ سیکریٹریٹ نے ای سی پی کے فیصلے کی روشنی میں ان کی برطرفی کا باضابطہ عمل مکمل کیا۔

یہ پیشرفت ایک ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب پی ٹی آئی کے متعدد رہنما، جنہیں 9 مئی 2023 کے پرتشدد واقعات میں ملوث ہونے پر انسداد دہشت گردی کی عدالت نے مجرم قرار دیا ہے، حال ہی میں الیکشن کمیشن کی جانب سے نااہل کیے جا چکے ہیں اور ان کی نشستیں بھی خالی قرار دی گئی ہیں۔

31 جولائی کو فیصل آباد کی انسداد دہشت گردی عدالت (اے ٹی سی) نے سابق وزیراعظم عمران خان کی جماعت کے 100 سے زائد ارکان کو فوجی تنصیبات پر حملوں میں ملوث ہونے کے الزامات کے تحت سزائیں سنائیں۔58 افراد، جن میں اراکین پارلیمان اور سینیئر رہنما شامل تھے، کو 10 سال قید کی سزا سنائی گئی، جبکہ باقی افراد کو 1 سے 3 سال تک کی سزائیں دی گئیں، جیسا کہ رائٹرز کو حاصل عدالتی حکم نامے میں بتایا گیا ہے۔