سپریم کورٹ نے جمعہ کے روز پاکستان کی ایک بڑی رئیل اسٹیٹ کمپنی کی جائیدادوں کی نیلامی پر حکمِ امتناع کی درخواست مسترد کر دی ہے۔
جسٹس امین الدین خان کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے قومی احتساب بیورو (نیب) کی جانب سے بحریہ ٹاؤن کی جائیدادوں کی نیلامی سے متعلق درخواست کی سماعت کی۔
بزنس ریکارڈر کے مطابق نیب نے جمعرات کے روز رئیل اسٹیٹ ٹائیکون ملک ریاض سے منسلک جائیدادوں کی نیلامی سے حاصل شدہ رقم کی منتقلی کا عمل شروع کیا، جو 2019 میں عدالت سے منظور شدہ پلی بارگین کے تحت واجب الادا رقم کی وصولی کے لیے کیا جا رہا ہے۔
سرکاری بیان کے مطابق نیب نے ملک ریاض اور بحریہ ٹاؤن سے منسلک چھ کمرشل جائیدادوں کی عوامی نیلامی کی۔ یہ اقدام 190 ملین پاؤنڈ سیٹلمنٹ کیس سے جڑی بقایا رقم کی وصولی کے لیے کیا گیا ہے، جس کا تعلق بحریہ ٹاؤن کے بانی ملک ریاض سے ہے۔
نیلامی کے لیے پیش کی گئی چھ جائیدادوں میں ایک اسلام آباد میں جبکہ پانچ راولپنڈی میں واقع ہیں۔
نیب کے مطابق ان جائیدادوں کی فروخت کا مقصد بحریہ ٹاؤن کے بانی ملک ریاض سے منسلک 190 ملین پاؤنڈ سیٹلمنٹ کیس کی مد میں واجب الادا رقم کی وصولی ہے۔
کارروائی کے دوران درخواست گزار کے وکیل، فاروق ایچ نائیک، عدالت میں پیش ہوئے اور نیلامی پر فوری حکمِ امتناع جاری کرنے کی استدعا کی۔
جسٹس امین الدین خان نے درخواست مسترد کرتے ہوئے ریمارکس دیے کہ یکطرفہ طور پر حکمِ امتناع نہیں دیا جا سکتا، اور فیصلہ دینے سے قبل دیگر فریقین کو بھی سنا جانا ضروری ہے۔
جسٹس نعیم اختر افغان نے ریمارکس دیے کہ اپیلوں کے ساتھ نیب ریفرنسز کی نقول بھی منسلک ہونی چاہئیں تاکہ بدعنوانی کی اصل نوعیت اور حد کا تعین کیا جا سکے۔
انہوں نے کہا کہ ملزمان نے نیب کے ساتھ پلی بارگین کے تحت آٹھ جائیدادیں حوالے کی تھیں، تاہم اب یہ مؤقف اختیار کیا جا رہا ہے کہ پلی بارگین رضاکارانہ نہیں بلکہ دباؤ کے تحت کی گئی تھی۔
بینچ نے ریمارکس دیئے کہ اگر پلی بارگین کو کالعدم قرار دینے کی درخواست نیب چیئرمین کو دی گئی ہو، تو کیس اپنی ابتدائی حالت میں واپس چلا جائے گا۔ ایسی صورت میں نیب جائیدادوں کی نیلامی کا عمل جاری نہیں رکھ سکتا۔
عدالت نے مزید کہا کہ اگر پلی بارگین کو کالعدم قرار دینے کی درخواست دی گئی ہو، تو ملزم کو نیب ریفرنس میں باقاعدہ ٹرائل کا سامنا کرنا پڑے گا، اور صرف سزا ہونے کی صورت میں ہی جائیدادیں ضبط کی جا سکتی ہیں۔
فاروق ایچ نائیک نے موقف اختیار کیا کہ یہی اصل معاملہ ہے، ان کے موکل کی پلی بارگین کو کالعدم قرار دینے کی درخواست اور نیب ریفرنس اب بھی زیر التوا ہے۔
عدالت نے فاروق ایچ نائیک کو ہدایت دی کہ بحریہ ٹاؤن کے مالک ملک ریاض اور ہاؤسنگ سوسائٹی کے خلاف دائر ریفرنسز کی نقول عدالت میں جمع کروائیں اورمزید سماعت 13 اگست تک ملتوی کر دی۔
نیلامی
نیب (NAB) نے نیلامی میں چھ جائیدادیں پیش کیں، جن میں بحریہ ٹاؤن فیز-II، راولپنڈی میں واقع دو کارپوریٹ دفاتر شامل تھے: پلاٹ 7-D (جس کی تخمینہ شدہ مالیت 871 ملین روپے) اور پلاٹ 7-E (تخمینہ مالیت 881 ملین روپے)۔
دیگر جائیدادوں میں اسلام آباد میں واقع روبیش مارکی اور لان (488 ملین روپے)، ارینا سنیما (1.1 ارب روپے)، بحریہ ٹاؤن انٹرنیشنل اکیڈمی (1.07 ارب روپے) اور سفاری کلب (1.2 ارب روپے) شامل تھے، جو بحریہ ٹاؤن، راولپنڈی میں واقع ہیں۔
نیب نے تصدیق کی ہے کہ روبیش مارکی کامیابی سے 508 ملین روپے میں فروخت ہو گئی، جو مقررہ قیمت سے 20 ملین روپے زیادہ ہے۔ بیورو نے رقم کی منتقلی کا عمل شروع کر دیا ہے۔
دریں اثنا دو دیگر جائیدادوں، کارپوریٹ آفس-I اور کارپوریٹ آفس-II، کے لیے مشروط بولیاں موصول ہوئیں، جو بالترتیب 876 ملین اور 881.5 ملین روپے کی تھیں۔
نیب کے مطابق تین جائیدادیں مناسب بولیاں نہ ملنے کے باعث فروخت نہ ہو سکیں۔
جلد دوبارہ نیلامی کا اعلان کیا جائے گا۔
احتساب بیورو نے کہا کہ نیب عوامی فنڈز کی شفاف بازیابی اور احتساب کے قوانین کے سخت نفاذ کے لیے پرعزم ہے۔