ٹويوٹا موٹر نے جمعرات کو اعلان کیا ہے کہ وہ جاپان کے وسطی علاقے میں واقع اپنے ہی نام سے منسوب شہر ٹويوٹا سٹی میں ایک نیا گاڑیوں کا کارخانہ قائم کرے گا جس کی عملی سرگرمیاں 2030 کی دہائی کے اوائل میں شروع ہونے کی توقع ہے۔

کمپنی نے یہ اعلان اپریل سے جون 2025 کی سہ ماہی کے مالیاتی نتائج کے ساتھ جاری کردہ بیان میں کیا۔ بیان میں کہا گیا کہ اس نئے پلانٹ میں کن ماڈلز کی پیداوار کی جائے گی، اس کا فیصلہ تاحال زیر غور ہے۔

دنیا کی سب سے زیادہ فروخت ہونے والی آٹو کمپنی کی جانب سے جاپان میں یہ نیا صنعتی منصوبہ ایسے وقت میں سامنے آیا جب ملک کو آبادی میں مسلسل کمی اور گاڑیوں کی ملکیت میں گراوٹ جیسے چیلنجز کا سامنا ہے جس کی وجہ سے مقامی مارکیٹ میں گاڑیوں کی فروخت میں نمایاں کمی دیکھی جا رہی ہے۔

ٹويوٹا نے جاپان میں اپنا آخری اسمبلنگ پلانٹ 2012 میں قائم کیا تھا۔ اس تازہ اقدام سے ایک دہائی سے زائد عرصے بعد مقامی سطح پر پیداوار میں وسعت کا آغاز ہو گا۔

یہ اعلان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے جاپانی گاڑیوں کی امریکا میں بھرمار پر شکایت کی ہے، جسے وہ اپنے ملک کے بڑے تجارتی خسارے کی ایک بڑی وجہ قرار دیتے ہیں، اگرچہ ٹويوٹا، جاپان سے امریکا کو گاڑیاں برآمد کرنے والی سرِفہرست کمپنی ہے، تاہم امریکا میں فروخت کی جانے والی اس کی زیادہ تر گاڑیاں وہیں مقامی سطح پر تیار کی جاتی ہیں۔

ٹويوٹا کی طویل عرصے سے یہ پالیسی رہی ہے کہ وہ جاپان میں سالانہ 30 لاکھ گاڑیوں کی پیداواری صلاحیت برقرار رکھے، جن میں سے تقریباً نصف بیرونِ ملک برآمد کی جاتی ہیں۔ یہ نئی سرمایہ کاری اسی پالیسی کے تسلسل اور عالمی سطح پر بڑھتی ہوئی طلب کے پیش نظر کی جا رہی ہے۔